دعوت دین میں صبر کی اہمیت
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
------------------------------------------------------------------
دعوت دین انتہائی مبارک اور مہتم بالشان عمل ہے، یہ پیغمبرانہ مشن ہے، امت کا فرض منصبی ہے، ہر مکلف مسلمان پر حسب طاقت فرض ہے،ایک مسلمان کو ہمیشہ دعوتی مزاج ہونا چاہئے، جہاں بھی رہیں داعی بن کر رہیں، اپنے اپنے حلقے میں رہ کر دعوت و اصلاح کا کام جاری رکھیں، اللہ کے نزدیک داعی کا بڑا مقام ہے، دعوت کو مفید تر اور مؤثر بنانے کے لئے کتاب و سنت میں متعدد اصول بیان کئے گئے ہیں جن کا پاس و لحاظ ایک داعی کے لئے دعوتی میدان میں بہت ضروری ہے ورنہ دعوت اور داعی دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے،
ایک داعی کے لئے ضروری ہے کہ میدان دعوت میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رہے، کیونکہ یہ بڑی پرخار وادی ہے، جہاں ہر قدم پر صبر کی ضرورت پڑتی ہے، مخاطب آپ کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کچھ بھی کر سکتا ہے، گالی گلوج، بدزبانی و بدکلامی، لڑائی جھگڑا، بحث و تکرار وغیرہ، ایسے وقت میں ایک کامیاب داعی کی پہچان یہ ہے کہ وہ صبر سے کام لے، اس سے نہ الجھے، حکمت و دانائی اختیار کرے، شفقت و نرمی سے پیش آئے، مشتعل نہ ہو،
میدان دعوت میں صبر کی اہمیت کا اندازہ لقمان حکیم کی اس نصیحت سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ہے:
﴿یَـٰبُنَیَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَاۤ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَ ٰ⁠لِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ﴾ [لقمان ١٧]

اسی طرح سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ نے خسارہ و نقصان سے حفاظت کے لئے جن شرائط کا تذکرہ کیا ہے ان میں حق کی وصیت کے ساتھ صبر کی تلقین کا بھی حکم دیا ہے:
﴿وَٱلۡعَصۡرِ ۝١ إِنَّ ٱلۡإِنسَـٰنَ لَفِی خُسۡرٍ ۝٢ إِلَّا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوۡا۟ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡا۟ بِٱلصَّبۡرِ ۝٣﴾ [العصر ١-٣]
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے اور سب سے کامیاب داعی تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید میں میدان دعوت میں جگہ جگہ صبر کرنے کا حکم دیا ہے، بعض آیات ملاحظہ فرمائیں:
سورۃ المدثر میں اللہ تعالیٰ نے جہاں آپ کو انذار کا حکم دیا وہیں صبر کی بھی تلقین کی، فرمایا:
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ ۝١ قُمۡ فَأَنذِرۡ ۝٢ وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ ۝٣ وَثِیَابَكَ فَطَهِّرۡ ۝٤ وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ ۝٥ وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ ۝٦ وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ ۝٧﴾
[المدثر ١-٧]
اسی طرح سورۃ المزمل میں دعوت و تبلیغ کے کاموں کو کو آسان بنانے کے لئے قیام اللیل اور تلاوت قرآن کا حکم دیتے ہوئےصبر کا بھی حکم دیا جیسا کہ فرمایا:
وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا یَقُولُونَ وَٱهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرࣰا جَمِیلࣰا
[المزمل ٨-١٠]
سورۃ النحل میں فرمایا:
﴿وَٱصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِی ضَیۡقࣲ مِّمَّا یَمۡكُرُونَ﴾ [النحل ١٢٧]
سورۃ الاحقاف میں ہے:
﴿فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لّهم.
[الأحقاف ٣٥]
سورۃ القلم میں فرمایا:
﴿فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومࣱ﴾
[القلم ٤٨]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی صبر کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزا کیا گیا،آپ کی تکذیب کی گئی،آپ کو برے القاب سے پکارا گیا ، ساحر ،شاعر اور مجنون کہا گیا، آپ کو قتل کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیں ،جسمانی طور پر جہاں آپ کو اذیت پہنچائی گئی وہیں فکری طور پر بھی آپ کو تکلیف دی گئی لیکن لیکن ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کیا،
غزوہ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید کردیئے گئے ، آپ کی پیشانی زخمی کر دی گئی، آپ اپنے ہاتھوں سے خون صاف کر رہے تھے اور ظالم قوم کی مغفرت کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فإنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ.

اسی طرح طائف کے دعوتی سفر میں طائف والوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی دعوت کا انکار کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لہولہان کر دیا ، یہاں تک کہ پہاڑوں پر مقرر فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اجازت چاہی کہ اگر آپ کہیں تو طائف والوں کو دو پہاڑوں کے درمیان ہلاک کردیا جائے لیکن آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس ظلم پر صبر کیا اور ان کے حق میں نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئےفرمایا:
بَلْ أرْجُو أنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِن أصْلابِهِمْ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ وحْدَهُ، لا يُشْرِكُ به شيئًا.
(صحيح البخاري ٣٢٣١) مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی نسلوں سے ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے.

اسی طرح غزوہ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے تالیف قلب کے لیے بعض لوگوں کو ترجیح دی تو ایک شخص نے آپ کی تقسیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: اے محمد! انصاف سے کام لو، اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہے، تو نبی ﷺ نے کہا: اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اس روئے زمین پر آخر کون انصاف کرے گا؟اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسی علیہ السلام کی زندگی کو یاد کیا کہ موسی علیہ السلام کو ان کی قوم نے اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی لیکن انہوں نے صبر کیا،
رَحِمَ اللَّهُ مُوسى قدْ أُوذِيَ بأَكْثَرَ مِن هذا فَصَبَرَ.
( صحيح البخاري ٣١٥٠)

جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صبر کا مظاہرہ کیا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دین کی راہ میں ، دعوت کے میدان میں صبر کرنے کی تربیت کی، اسلام کے ابتدائی دور میں، مکی زندگی میں جب کفار و مشرکین کی طرف سے صحابہ کرام پر ظلم و ستم ڈھایا گیا، ظلم کی شکایت اور دعاؤں کی درخواست لے کرجب بعض صحابہ کرام آپ کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صبروثابت قدمی کی تلقین کی، جیسا کہ خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں :
شَكَوْنا إلى رَسولِ اللَّهِ ﷺ وهو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً له في ظِلِّ الكَعْبَةِ فَقُلْنا: ألا تَسْتَنْصِرُ لنا ألا تَدْعُو لَنا؟ فقالَ: قدْ كانَ مَن قَبْلَكُمْ، يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فيُحْفَرُ له في الأرْضِ، فيُجْعَلُ فيها، فيُجاءُ بالمِنْشارِ فيُوضَعُ على رَأْسِهِ فيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، ويُمْشَطُ بأَمْشاطِ الحَدِيدِ، ما دُونَ لَحْمِهِ وعَظْمِهِ، فَما يَصُدُّهُ ذلكَ عن دِينِهِ، واللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هذا الأمْرُ، حتّى يَسِيرَ الرّاكِبُ مِن صَنْعاءَ إلى حَضْرَمَوْتَ، لا يَخافُ إلّا اللَّهَ، والذِّئْبَ على غَنَمِهِ، ولَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ.
(صحيح البخاري ٦٩٤٣ )
اسی طرح ایک مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آل یاسر کے پاس سے گزرے جب ان پر ظلم کیا جا رہا تھا تو آپ نے انہیں صبر کی نصیحت کی، فرمایا:
صبرًا آل ياسرٍ، فإنَّ موعدَكم الجنةُ.
(الألباني (ت ١٤٢٠)، فقه السيرة ١٠٣ • حسن صحيح)
خلاصہ کلام:
کتاب وسنت کی ان تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں عمومی طور پر اور دعوتی میدان میں خصوصی طور پر صبر کا مظاہرہ کریں، یقیناً اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گےاور ہم اللہ کے پاس اجر عظیم کے بھی مستحق ہوں گے، ان شاءاللہ
اللہ تعالیٰ ہمیں نیک توفیق دے آمین
--------------------------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ، آندھرا پردیش
29/نومبر 2020، بروز اتوار
 
Top