ذیشان خان

Administrator
دوسجدوں کے درمیان جلسہ

٭دوسجدوں کے درمیان کچھ دیر کے لیے بیٹھناجلسہ ہے اس کیلئے سنت یہ ہے کہ اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اسکے اوپر بیٹھے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرکے قبلہ رخ کرے۔
٭یہ بیٹھنا علماء کے راحج قول کے مطابق سنت ہے واجب نہیں ہے ۔
:::جلسے کی دعائیں :::
(1)"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي"۔ (رواه الترمذي ح 284 وصححه الألباني) .
(2)"رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي" (رواه النسائي ح1145وصححه الألباني)
٭جلسے کی ساری دعاؤں کے الفاظ جمع کرنے سے سات کلمے بنتے ہیں ۔
(3) "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَعَافِنِي ، وَارْفَعْنِي"۔ (سنن الترمذي ح284، وأبو داود ح850، وابن ماجه ح888)
*امام نووی ؒ کہتے ہیں کہ احتیاطا ان سارے ساتوں کلمات کو جمع کیا جائے ۔ (المجموع 3/ 437) .
٭ایک مرتبہ کم از کم "رب اغفرلی" کہنا چاہئے ، جمہور اہل علم نے اسے پڑھنا مستحب بتلایا ہے حنابلہ نے واجب قرار دیا ہے مگر جمہور کا قول قوی ہے کیونکہ وجوب کے لئے نص صریح نہیں ہے ۔
*نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دوسجدوں کے درمیان بڑے اطمینان اور ادب کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ جسم کا ہر عضو اور ہڈی کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آ کر قرار پکڑ لیتا تھا بلکہ آپ ﷺ تواتنی دیر بیٹھے رہتے کہ آدمی خیال کرتا شایدآپ دوسرے سجدے میں جانا بھول گئے ہیں.
اس لئے نمازی کو چاہئے کہ پہلے سجدے سے اٹھنے کے بعد بالکل سیدھا بیٹھ جائیں یہاں تک کہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر واپس آ کر ٹھہر جائیں۔
:::ہمارے جلسے کی خامیاں :::
[1]۔ہم میں سے اکثر لوگ جلسے کا اہتما م نہیں کرتے اور کچھ لوگ کرتے بھی تو اس میں دعا بھول جاتے ۔
[2]۔بعض حضرات کا دوسجدہ کوے کی چونچ مارنے کی طرح ہوتا ہے ، وہ پہلے سجدے سے دوسرے سجدے میں کس طرح منتقل ہوتے ہیں ان کے پیچھے کھڑا آدمی بھی نہیں دیکھ سکتا۔
[3]۔کچھ لوگوں بیٹھتے تو ہیں مگر ان کی بیٹھک سنت کے مطابق نہیں ہوتی ۔

مقبول احمد سلفی
 
Top