👆🎤 خطبہ جمعہ 2020/10/27 مطابق ١١/ربیع الاول ١۴۴٢
اخلاق نبویﷺ
🎙 صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
اما بعد
اللہ کے بندو! سب سے پہلے میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اے لوگو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو قرآن و سنت کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہو ۔
اسلامی بھائیو! ہماری شریعت اسلامیہ میٹھی گفتگو کر نے, حسین انداز سے بات کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اللہ نے فرمایا: وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ۔ اور لوگوں سے اچھی بات کہنا ۔
اور صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین انداز سے گفتگو بھی صدقہ ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما:
(( لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَی أَخَاکَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ))(مسلم 2626)
’’ نیکی میں کسی بھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی (خوش روی) سے ہی ملے۔
اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ۔
کہ میں نے جب سے اسلام کو قبول کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور جب کبھی ملتے تو مسکرا دیتے ۔
غور کریں کتنا عمدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تھا کہ جب کبھی آپ صحابہ کرام سے، ازواج مطہرات سے ملاقات کرتے تو مسکراتے ہوئے اور حسین گفتگو کے ساتھ ۔
اسی لئے اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں فرمایا : انک لعلی خلق عظیم ۔
کہ یقینا آپ کے بڑے عظیم اخلاق والے ہیں ۔
اور اسی طرح سے جب عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں تو آپ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ آپ کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق تھے۔
لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کی عبادات میں، معاملات میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں، آپ بھی کی اقتداء اور نقش قدم پر چلے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ کہ ایک روز صلاۃ فجر کے وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا تمہیں اپنے کس عمل کی وجہ سے سب سے زیادہ اللہ سے اجر کی امید ہے ، کیوں کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے کھڑاوں کی آواز سنی۔
دیکھیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سے بلال رضی اللہ عنہ سے سوال کر کے ان کی ہمت افزائی کرنا چاہ رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے عمل پر غور کریں اور خوش ہو جائیں ۔
وعَن سالمِ بنِ عبدِاللَّهِ بنِ عُمَرَ بنِ الخَطَّابِ ، عَن أَبِيِه: أَنَّ رسولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: نِعْمَ الرَّجلُ عبدُ اللَّهِ لَو كانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ قالَ سالِمٌ: فَكَانَ عَبْدُاللَّهِ بعْدَ ذلكَ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلًا. متفقٌ عَلَيْهِ.
سالم بن عبد اللہ ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ تم بہت اچھے آدمی ہو اگر قیام یعنی تہجد کا اہتمام کیا کرو، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں۔ اس دن سے عبداللہ ابن عمر رات میں بہت کم سوتے اور قیام اللیل میں گزارتے ۔
گفتگو کا انداز دیکھئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ کیوں تہجد نہیں پڑھتے؟ بلکہ بڑے لطیف انداز میں کہا تہجد بھی پڑھو تو ایک اچھے آدمی ہو۔
اسی طرح سے

عن معاذ بن جبل -رضي الله عنه- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «يَا مُعَاذ، واللهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ، ثُمَّ أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ، لاَ تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَة تَقُول: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ».
[صحيح.] - [رواه أبو داود والنسائي ومالك وأحمد.)

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی! مجھے تم سے محبت ہے ۔ اے معاذ! میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی صلاة کے بعد یہ دعا ہرگز ترک نہ کرنا: ”اللَّهُم أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ، وحُسنِ عِبَادتِك“ اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔
میرے بھائیو آپ سوچئے غور کیجئے کیا ہم اپنے بیٹوں کو اس طرح سے تعلیم دیتے ہیں اتنی محبت بھرے انداز میں ان کی تربیت کرتے ہیں، دعاؤں کو سکھلاتے ہیں ۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب کبھی بکری ذبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلیوں کو بھی اس گوشت سے کچھ بھیج دو۔
 
Top