بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
*چھپکلی مارنے کی فضیلت*
*ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*
*.......................................................*
چھپکلی ایک موذی جانور ہے، مزید چھپکلی نہایت ہی زہریلی مخلوق ہے اسی لیے شریعت نے اس چھپکلی کو فاسق جانور قرار دیا ہے اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا" (صحیح مسلم، كتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ، رقم الحدیث:4272) حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے فاسق (موذی جانور) قرار دیا ہے-
قارئین کرام! ابراہیم علیہ السلام کی آگ بجھانے کے لیے سارے لوگ فکر مند تھے لیکن چھپکلی یہ وہ واحد مخلوق ہے جو آگ بھڑکانے میں مصروف تھی، چھپکلی آگ میں پھونک مار رہی تھی، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ بِقَتْلِ الوَزَغِ، وَقَالَ: كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ" (صحیح بخاری:3359) حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر پھونک مارا تھا-
شریعت نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے اور مزید اس کی فضیلت بھی بیان کی ہے یعنی چھپکلی مارنے سے ثواب ملتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ" (صحیح مسلم، كتاب السلام باب استحباب قتل الوزغ، رقم الحدیث:4274) جو ایک مار میں چھپکلی مار دے تو اس کے لیے اِتنی اِتنی نیکی ہے، اور جو دوسری مار میں مار دے تو اسے اتنی اتنی نیکی ہے لیکن پہلے سے کم، اور جو تیسری مار میں مار دے تو اسے اتنی اتنی نیکی ہے لیکن دوسرے سے کم-
صحیح مسلم میں دوسری سند سے سو نیکی کی صراحت کے ساتھ روایت ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ" (صحیح مسلم، كتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ، رقم الحدیث:4274) جو ایک وار میں چھپکلی کو مار دے تو اس کے لیے سو نیکی لکھی جاتی ہے اور جو دوسری وار میں مارے تو اسے اس سے کم نیکی ہے اور جو تیسری وار میں مارے تو اسے اس سے کم نیکی ہے-
مسلم شریف کی اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ چھپکلی مارنے سے ثواب ملتا ہے، اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم چھپکلی کو ماریں، اور نشانہ لگا کر ماریں، کیونکہ ایک مار سے مارنے کی وجہ سے سو نیکی ملتی ہے، لہٰذا چھپکلی کو ماریں اور نیکی کمائیں، لیکن بعض لوگ چھپکلی مارنے کی جگہ گرگٹ کو مارتے ہیں اور اسے مارنے کو نیکی سمجھتے ہیں جو کہ صحیح نہیں ہے-
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نشانہ مارنے کا فن سیکھیں، اور چھپکلی کو ایک ہی مار میں مار گرائیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
21 /10/2020
 
Top