بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
*انسان پر شیطان کا ایک سنگین حملہ*
*ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*
*.......................................................*
شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے یہ تو سب جانتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم اپنے دشمن کو جانتے پہچانتے ہیں تو اس سے کتنا دور رہتے ہیں اور کس قدر اس کے شر سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنے جانی دشمن سے بہت قریب ہیں، اس کے جھانسے میں پھنسے ہیں، شیطان نے اکثر انسانوں کو اپنے پھندے میں پھنسا کر رکھا ہے، اس کی سب سے بڑی نظیر اور مثال یہ ہے کہ شیطان ہم کو فجر کی نماز میں سلاتا ہے اور عبادت سے روکتا ہے-
قارئین کرام! شیطان بہت طاقتور اور تجربہ کار ہے، شیطان ہاتھ دھو کے ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے، ہر طرح ہم کو دین اور عبادت سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، اس کے لیے شیطان انسان کے سر کی گدی پر یعنی دماغ پر تین گانٹھ مارتا ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ، يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلاَّ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ" (صحیح بخاری:1142) شیطان آدمی کے سر کی گدی پر رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سو جاؤ رات بہت لمبی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچوبند اور نشیط رہتا ہے ورنہ آدمی سست اور نفس کی خباثت کے ساتھ صبح کرتا ہے-
اس حدیث سے ہم اور آپ یہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ شیطان کس قدر ہم مسلمانوں کو نماز فجر میں سلاتا ہے، اور تین گرہ لگا کر خواب غفلت میں رکھتا ہے، اور یہاں تک کہ سوتے سوتے دن نکل آتا ہے اور آدمی نماز فجر نہیں پڑھتا ہے تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ سے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جس نے نماز فجر نہیں ادا کی اور طلوع آفتاب کے بعد بھی سویا رہا تو آپ نے فرمایا: "بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ" (صحیح بخاری:1144) شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے-
آج امت مسلمہ کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ فجر میں بیدار نہیں ہوتی ہے اور نماز نہیں پڑھتی ہے، ایسے لوگوں کے دل ودماغ پر شیطان کی تینوں گرہیں مضبوطی کے ساتھ قائم رہتی ہیں، اور ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ حق سنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور قرآن وحدیث کی باتوں سے دل میں کچھ اثر نہیں رکھتے ہیں، اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم نیند سے بیدار ہونے کی دعا، وضو اور نماز کی پابندی کریں تاکہ شیطان کی تینوں گانٹھ ٹوٹ کر بکھر جائے، اور انسان شیطان کے مکر، شر، فساد، چال، فتنہ وسوسہ اور حملے سے بچ جائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور دین وایمان پر سلامت رکھے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
19 /10/2020
 
Top