ذیشان خان

Administrator
اتحاد امت ؟

راشد شیخ اکولویؔ

اتحاد امت صرف مسلک اہل السنہ پر استوار ہوسکتا ہے۔ جس طرح حق و باطل ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوسکتے، بعینہ اسی طرح حق کا باطل کے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا۔
حق و باطل کی آپس میں جنگ ازل سے چلی آرہی ہے اور تا ابد چلتی رہے گی۔ اتحاد نام ہے سلف امت کے اصول و ضوابط کے مطابق عقیدہ و عمل اپنانے کا۔ حقیقی اہل سنت دنیا کے جس بھی کونے پر ہوں، وہ آپس میں متحد ہیں، وہ قوم قبیلے، حسب نسب کی بنا پر ایک دوسرے سے دشمنیاں نہیں پالتے، نہ وہ ایک دوسرے کو گمراہ اور ضال مضل کہتے ہیں۔
لیکن جب کوئی شخص اہل سنت کے عقیدے سے ہٹ کر نیا نظریہ اور عقیدہ اپناتا ہے، اس سے کسی قسم کا اتحاد ممکن نہیں ہے۔ اس سے اتحاد کرنےکا مطلب بدعت سے اتحاد کرنا ہے اور بسا اوقات کفر اور شرک سے اتحاد کرنا ہے۔ اسلام کفر ، شرک اور بدعت کو مٹانے آیا تھا، سو، اہل سنت بھی ان چیزوں کو مٹانے کی جدو جہد کرتے رہیں گے۔ کفر ، شرک اور بدعت کے ساتھ اتحاد نہیں بلکہ ان کے ساتھ جہاد کیا جائے گا۔ چاہے وہ جہاد ہاتھ کے ساتھ ہو، زبان کے ساتھ ہو یا دل کے ساتھ ہو۔
ہمارے ہاں اتحاد کا مفہوم بھی بدل کر رکھ دیا گیا ہے، ہم نے لبرل ازم کے نظریے کو اتحاد امت کا نام دے رکھا ہے۔ حالاں کہ لبرل ازم اور اسلام باہم متصادم ہیں۔
وحدت امت کی اصطلاح ایک نئی اصطلاح ہے، جس کے نام پر بیان حق سے منع کیا جاتا ہے، بلکہ عملی طور پر سمجھایا جاتا ہے کہ کسی بدعتی کو بدعتی نہ کہیں، کسی شرک کرنے والے کے شرک کا رد نہ کریں ، صحابہ کی توہین کرنے والے کی عزت افزائی کریں اور عقیدہ الولاء والبراء پر زد آتی ہے تو آنے دیں، الحاد، ناصبیت و رافضیت اور انکار حدیث کو پروموٹ کیا جائے تو چپ ہو جاو، وحدت امت پر زد پڑتی ہے۔
اس قسم کی اصطلاحات اور نظریات کو قبول کرنے کا سیدھا مطلب ہے کہ آپ اسلام کے عقیدہ اولولاء والبراء سے انکار کردیں، محدثین کو من حیث المجموع فرقہ پرست قرار دے دیں، ائمہ اسلام کو متشدد اور وحدت امت کا دشمن کہہ دیں، کیوں کہ انہوں نے کسی دور میں بھی بدعت سے صلح نہیں کی ،نہ اہل بدعت سےر اہ و رسم رکھے ہیں، انہوں نے کتابیں لکھی ہیں، الرد علی الجہمیہ، الرد علی المعتزلہ، درء تعارض العقل والنقل، منہاج السنۃ، تو یہ تمام کتب ، اہل بدعت کے رد پر ہی لکھی گئی ہیں، اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اتحاد کی دعوت کا مطلب حق کی طرف بلانا، بدعت سے حذر کرنا، شرک سے بچنے کی تلقین کرنا اور فہم سلف پر کاربند رہنے کی طرف بلانا ہے، اتحاد کا مطلب الحاد کو قبول کرنا ہر گز نہیں ہے۔
ہمارےہاں عجیب طرز کے نعرے لگائے جاتے ہیں، اجی دشمن یہ نہیں دیکھتا کہ کون سنی اور کون شیعہ ہے، وہ سب کو مارتا ہے۔
لیکن اس قسم کے نعرے لگانے والے بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے قلت و کثرت کو کبھی معیار بنایا ہی نہیں ہے، مسلمان چاہے کم ہوں یا زیادہ ہوں،اگر صحیح اعمال و عقائد پر ہوں گے، انہیں تب ہی نصرت ملے گی، وگرنہ جتنی بھی کثرت میں ہوں سمندر کی جھاگ ہوں گے۔
دشمن کے دل میں رعب عقیدہ اور عمل کا ہوتا ہے،کثرت کا نہیں ہوتا، کثرت کو تو وہ بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں، جن کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
 
Top