بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
*ایک حدیث اور دس نصیحتیں*
*ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*
*.......................................................*
مسلم شریف کی حدیث ہے، عَنْ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: "مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ أَوْ كَمَا قَالَ" (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن تقنيط الإنسان من رحمة الله تعالى، رقم الحدیث:6681) حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے (اس) فلاں کو تو بخش دیا اور (ایسا کہنے والے) تیرے سارے عمل کو ضائع کر دیا یا اس جیسے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے-
یہ دراصل بنی اسرائیل کے ایک عابد اور گنہ گار کا واقعہ ہے، ہُوا یہ کہ عابد اپنی نیکی کی وجہ سے ایک گنہ گار سے نفرت میں جل بھن کر یہ کہہ دیا کہ تم اتنے بڑے گنہ گار ہو جاؤ اللہ کی قسم تم کو اللہ معاف نہیں کرے گا، اللہ کو یہ بات سخت ناپسند لگی، اللہ نے گنہ گار کو معاف کر دیا اور عابد کی نیکی کو برباد کر دیا، اس کی عاقبت برباد ہو گئی، یہ واقعہ اپنے اندر بڑا سبق رکھتا ہے، اس واقعے میں ہمارے لیے اور آپ کے لیے بڑی نصیحت ہے، آئیے اس واقعے سے ہم دس اہم اسباق حاصل کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں-
1) کسی بھی شخص کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے لہذا یہ کہنا کہ اللہ فلاں بندے (زندہ شخص) کو معاف نہیں کرے گا، یہ بہت بڑا گناہ ہے-
2) اپنی نیکی یا عبادت پر فخر نہیں کرنا چاہیے اور کبھی اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھنا چاہیے بالکل تواضع اور عاجزی وانکساری والی زندگی گزارنا چاہیے-
3) اپنی نیکیوں کی حفاظت کرنا چاہیے، اور عبادت اور نیکی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ علم بھی رکھنا چاہیے کہ کن اعمال سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں، تاکہ بربادی اعمال سے بچ سکیں اور نیکیوں کی حفاظت کر سکیں-
4) اللہ کا ادب ملحوظ رکھنا چاہیے اور اللہ کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہیے جو اللہ کی شایان شان کے خلاف ہو-
5) اپنی زبان کی حفاظت کرنا چاہیے اور بہت سوچ سمجھ کر اور بہت ناپ تول کر بولنا چاہیے کیونکہ ایک بری بات زبان سے کہنے کی وجہ سے آدمی جہنم کی کھائی میں جا گرتا ہے-
6) کسی کو حقیر وکمتر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ کسی کو حقیر وکمتر سمجھنا یہی تکبر کی بنیاد اور اساس ہے اور تکبر مہلک مرض ہے اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے-
7) اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہے اور بہت زیادہ مغفرت والا ہے، وہ رب العالمین بڑے بڑے گناہ گاروں کو لمحوں میں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا اس سے مغفرت مانگنا چاہیے اور اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ماتحتوں کو بھی معاف کر دیں-
8) صرف اللہ کی قسم کھانا چاہیے، کیونکہ قسم یہ اللہ کی عبادت کی ایک قسم ہے، اس لیے مخلوق کی قسم کھانا شرک ہے-
9) کسی گنہ گار سے اس کے گناہ کی وجہ سے اس سے نفرت نہیں کرنا چاہیے بلکہ پہلے اسے سمجھانا چاہیے، حکمت کی بات کرنی چاہیے اصلاح کی فکر کرنی چاہیے، جیسے سرجن ڈاکٹر مریض کے زخم سے نفرت ضرور کرتا ہے لیکن مریض سے نفرت نہیں کرتا ہے، وہ اپنے مریض سے پیار ومحبت بھرے انداز میں بات کرتا ہے اور اس کا مناسب علاج کرتا ہے-
10) اصلاح وتربیت یہ دقت طلب کام ہے اور طویل وقت کا متقاضی امر ہے، اس لیے دعوت وتبلیغ یا اصلاح وتربیت میں نتیجے کی تلاش میں جلدبازی کرنا اچھی بات نہیں ہے بلکہ سنجیدگی سے کام کریں یہ ہم سب سے مطلوب ہے، یہ نہیں کہ ہم دعوت وتبلیغ کا کام کریں، لوگوں کو سمجھائیں مگر جب کوئی فائدہ نظر نہ آئے تو مدعو پر لعنت بھیجیں، بددعا کریں یا یہ کہیں کہ فلاں شخص کو اللہ معاف نہیں کرے گا یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے-
اللہ ہم سب کو زبان کے فتنے سے محفوظ رکھے اور دین وایمان پر سلامت رکھے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
22 /10/2020
 
Top