ذیشان خان

Administrator
غائبانہ سلام کا جواب

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوہ سنٹر مسرہ طائف

ہمارے لئے مشروع ہے کہ کسی کی معرفت دوسرے کو سلام بھیجیں ۔ سلام ملنے والے پہ سلام کے وصول پہ جواب دینا واجب ہے ۔

اس سلسلے میں چند احادیث دیکھیں :

(1) فعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله هذه خديجة قد أتت معها إناء فيه إدام أو طعام أو شراب ، فإذا هي أتتك فاقرأ عليها السلام من ربها ومني ، وبشرها ببيت في الجنة من قصب ، لا صخب فيه ولا نصب ۔(صحیح مسلم :6273)

اس حدیث میں مذکور ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو کہا اے اللہ کے رسول ﷺ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اللہ اور میری جانب سے سلام عرض کریں ۔
نسائی کی روایت میں اس سلام کا جواب منقول ہے، خدیجہ رضی اللہ عنہا جواب دیتی ہیں :
(إن الله هو السلام ، وعلى جبريل السلام ، وعليك يا رسول الله السلام ورحمة الله وبركاته)

(2) وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما: يا عائش ، هذا جبريل يقرئك السلام. فقلت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته .(صحیح البخاری: 3768)

اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا :
" وعليه السلام ورحمة الله وبركاته"۔

چندمسائل :
٭مذکورہ بالا نصوص کی روشنی میں کسی غائب آدمی کو سلام بھیجنا جائز ہے۔
٭ جس آدمی کو سلام بھجا جا رہا ہے وہ زندہ ہو ۔
٭ غائب آدمی تک سلام پہنچنے پہ اس کا جواب دینا واجب ہے ۔
٭ سلام کا جواب اس طرح سے دیگا ،

" وعليك وعليه السلام ورحمه الله وبركاته"۔
 
Top