ذیشان خان

Administrator
تعصب کا برا ہو

✍⁩ ابو تقی الدین

جلیل القدر حنفی عالم، مشہور محدث اور فقیہ، فخرِ ہند مولانا ابوالحسنات محمد عبد الحی لکھنوی [ت: 1304ھ] نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کے بعض مخالفین سے تسلیماً یہ قول نقل کیا ہے:
"عِلمُه أكبر من عَقله" -
یعنی "ابن تیمیہ کا علم ان کی عقل سے زیادہ تھا!"
اردو میں کہا جاتا ہے : "ایک مَن علم کے لئے دس مَن عقل چاہیے"(شاید فارسی میں بھی کہا جاتا ہے : یک من علم را دہ من عقل باید) .
یہاں مولانا عبد الحی لکھنوی مرحوم نے جو جملہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کی شان میں نقل کیا ہے اس میں ان کے لئے مدح نہیں ذم ہے!
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے مخالفین کا یہ قول چونکہ واقعات کے خلاف ہے اور قائل کے تعصب پر صاف دلالت کرتا ہے، اس لئے نواب صديق حسن خاں بھوپالی مرحوم نے امام ابن تیمیہ کی غزارتِ عقل اور فہم وفراست پر معاصرین کی شہادتیں قلمبند کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
"وقد قال بعض السفهاء: إن علمه كان زائداً على عقله يشير بذلك إلى قلة فهمه، كان القائل بهذا القول لم يقف على ما أثنى به عليه جمع من الأئمة الكبار بالذكاء وقوة الدرك وبلوغه في المقولات مبلغاً عظيماً".
کسی کے علم کا وزن متعین ہو جائے تو ان کی عقل کے وزن کا مسئلہ بھی طئے ہو سکتا ہے، اور مولانا عبد الحی - رحمہ اللہ - نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے علم کا اعتراف کیا ہے اب آئیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی عقل کے وزن کا جائزہ لیتے ہیں.
1 - ابن عربی، رازی اور غزالی جیسے حضرات کی عقلیں یقیناً مولانا عبد الحی لکھنوی کے نزدیک ان کے علم سے بڑی ہونگیں، بلاشبہ یہ لوگ علم کلام کے ماہر، فلسفہ اور منطق کے امام تھے، امام ابن تیمیہ نے ان جیسے لوگوں کی کتابوں میں وارد پیچیدہ بحثوں کو سمجھا ہی نہیں بلکہ کمالِ مہارت سے ان پر رد بھی کیا ہے، جسے پڑھ کر ان کے دوستوں سے پہلے دشمنوں نے داد دی ہیں!
واضح رہے کہ ابن سینا، رازی، غزالی، ابن رشد، ابن عربی ،سہروردی مقتول، ابن سبعین اور ہمارے ہندوستان کے بڑے بڑے مجددینِ امت کی کتابیں یونانی گورکھ دھندے اور افلاطونی فلسفہ کے "مایاجال" اور "افیون" سے لبریز ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس نے اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہے .
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے رازی اور ان جیسے لوگوں کا پیچھا کیا جو اس طرح کے افیون کا استعمال کرتے تھے، یہاں امام موصوف کی صرف ان کتابوں کا ذکر کرتا ہوں جنہیں پڑھ کر آپ ان کے علم اور عقل کا اندازہ لگا سکتے ہیں:
أ - شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - شروع ہی سے علم منطق کی اہمیت کے قائل نہیں تھے، 707ھ اور 709ھ کے درمیان جبکہ وہ اسکندریہ میں قید تھے بعض منطقی ماہرین سے اس فن کے متعلق بحث ہوئی، انہوں نے اس فن کی کمزوریاں دکھائیں، اور جب 712ھ میں مصر سے دمشق آئے اور منطقیوں کی لاف زنی دیکھی تو انہیں اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھنے کا خیال پیدا ہوا، چنانچہ انہوں نے "الرد على المنطقيين" کے نام سے ایک کتاب لکھی، اس میں نہ صرف منطق کے بنیادی اصول ومسلمات پر کاری ضرب لگائی ہے بلکہ مدت سے اس کی جو دھاک لوگوں کے دلوں پر بیٹھی ہوئی تھی اس کو کافور کردیا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ "یونانی" اور "اسلامی طرز فکر" میں کتنا بنیادی فرق ہے، اور اسلامی طرز فکر کو کیا فضیلت حاصل ہے.
ب - شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ایک عظیم شاہکار "درء تعارض العقل والنقل" يا "بیان موافقة العقل والنقل" ہے.
اس کتاب میں امام موصوف نے فلاسفہ، مناطقہ، علم کلام کے ماہرین اور فخر الدين رازی کے "قانون کلی" پر نقد کیا ہے، رازی اور ان جیسے عقل پرستوں کا کہنا تھا کہ عقل کو کتاب وسنت کے دلائل پر ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے.
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس بے نظیر کتاب میں عقل اور نقل کے درمیان مطابقت دی ہے اور بتایا ہے کہ اسلامی عقائد و تعلیمات عقل کے مطابق ہیں.
امام موصوف نے منطق اور فلسفہ کے پھاوڑا ہی سے منطق اور فلسفہ کی دیواروں کو گرایا ہے اور بتایا ہے کہ عقل اور نقل کے درمیان کسی طرح کا ٹکڑاؤ نہیں، اس لئے کہ دونوں کا ماخذ ایک ہی ہے( یعنی اللہ کی ذات)، اگر دونوں میں کہیں تمہیں ٹکراؤ، تضاد اور تناقض دکھائی دے تو سمجھ لو فہم کا قصور ہے یا پھر نص میں کمزوری ہے.
ج - شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ایک اور جلیل القدر کتاب ہے جس کے متعلق حافظ ابن قیم نے کہا ہے :
وكذلك التأسيس أصبح
(نقضه) أعجوبة للعالم الرباني
اس کتاب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فخر الدين رازی اور ان جیسے فلاسفہ کا زور دار طریقے سے رد کیا ہے، فخر الدین رازی کی کتاب "تأسيس التقديس" ہے ،اسی کی رد میں امام ابن تیمیہ نے "بیان تلبيس الجهمية" یا "نقض التأسيس" لکھی ہے.
د - "نقض المنطق" یا "الانتصار لأهل الأثر"
امام موصوف کی یہ کتاب بھی مناطقہ اور فلاسفہ کی تردید میں ہے.
انہی چند کتابوں پر بس کرتے ہوئے مولانا یوسف کوکن عمری کے اس جملے کو یہاں لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں، وہ لکھتے ہیں:
"امام ابن تیمیہ کی تمام تصنیفات ان کی فطری ذہانت وذکاوت پر شاہد ہیں، اس سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہو سکتا".
2 - مجھے پورا یقین ہے اگر علامہ عبد الحی لکھنوی کی نگاہوں سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی صرف یہی دو چار کتابیں گزری ہوتیں تو وہ ان کی شان میں اس طرح ہرزہ سرائی نہیں کرتے یا اس طرح کی باتوں کو قبول نہیں کرتے.
علامہ لکھنوی کا انتقال 1304ھ میں ہوا،اس وقت تک ابن تیمیہ کی زیادہ تر کتابیں دنیا کی مختلف لائبریریوں کے صندوقوں میں بند تھیں!
- چنانچہ "منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية" ، پہلی بار اس کی پہلی دو جلدیں 1321ھ اور دوسری دوجلدیں 1322ھ میں مطبع کبری امیریہ بولاق مصر سے شائع ہوئی.
- "درء تعارض العقل والنقل"
پہلی بار یہ کتاب "منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة" کے حاشیہ پر چپھی، پھر شاید 1991ء میں مادر علمی امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی سے شیخ رشاد سالم - رحمہ اللہ - کی تحقیق سے چھپی.
‏‎ومن يقرأ كتاب "درء تعارض العقل والنقل لابن تيمية" سيعلم مدى غزارة وعمق علم وفقه شيخ الإسلام ابن تيمية - رحمه الله - .
- "الرد على المنطقيين"
یہ کتاب پہلی بار ہندوستان میں شیخ شرف الدین کتبی نے 1368ھ میں شائع کی.
د - "بيان تلبيس الجهمية"
یہ کتاب ابھی چند سال قبل میرے بعض اساتذہ کی تحقیقات سے چھپی ہے.
ھ - "نقض المنطق"
یہ کتاب بھی شاید مولانا لکھنوی کی وفات کے بعد ہی چھپی.
الغرض امام موصوف کی زیادہ تر کتابیں 1304ھ یعنی مولانا کی وفات کے بعد ہی چھپی ہیں.
3 - بر صغير میں ڈیڑھ دو سو سال میں علامہ شبلی نعمانی[ت:1914ء] جیسا علم کلام کا ماہر پیدا نہیں ہوا ہے، یہ شروع میں کٹر ،متصلب اور متعصب قسم کے حنفی تھے، لیکن اخیر عمر میں کتبِ حدیث و سیرت کے علاوہ امام ابن تیمیہ کی تصانیف کا مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا، ایک خط ( مورخہ 18 جولائی 1914ء ) میں سید سلیمان ندوی صاحب[ت: 1953ء] کو لکھتے ہیں:
"جواہر خمسہ کے متعلق آج تصریح ملی۔ یعنی ہیولیٰ، صورت، جسم، عقل، نفس۔ مجھ کو یاد تھا لیکن ذہول ہو گیا تھا۔ آج ابن تیمیہ نے "منهاج السنة" میں یاد دلایا".
سلسلہ کلام لکھتے وقت شبلی پر سب سے زیادہ غزالی کا اور پھر رازی کا اثر تھا، لیکن اس کے بعد جب ابن تیمیہ کی کتابیں چھپ چھپ کر آنے لگیں تو ان کا اثر غالب آنے لگا، اس اثر کا آغاز ان کی کتاب "الرد علی المنطقیین" سے شروع ہوا اور آخر یہاں تک بڑھا کہ وہ وفات سے چار ماہ قبل سید صاحب کو ایک خط (مؤرخہ 28 جولائی 1914ء ) میں لکھتے ہیں کہ:
"تم نے شروع کر دیا تو خیر ، ورنہ ابن تیمیہ کی لائف فرضِ اوّلین ہے، مجھے اس شخص کے سامنے رازی و غزالی سب ہیچ نظر آتے ہیں، ان کی تصنیفات میں ہر روز نئی باتیں ملتی ہیں۔ بار بار دیکھنا شرط ہے"۔
سید صاحب اس پر نوٹ چڑھاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
"مولانا روز بروز ابن تیمیہ کے بہت معتقد ہوتے جاتے تھے، بلکہ ایک بار مکتوب الیہ سے یہ بھی فرماتے تھے کہ میں عقائد اور فقہیات ہر چیز میں ابن تیمیہ کو تسلیم کرتا ہوں" ۔
سید سلیمان ندوی مرحوم دوسری جگہ لکھتے ہیں:
"آخر میں مجھ سے فرماتے تھے کہ :
"میں اب ہر چیز میں ابن تیمیہ کا ہاتھ پکڑ کر چلنے کو تیار ہوں".
[تفصیل کے لیے شیخ عزیر شمس-حفظہ اللہ - کا مضمون "امام ابن تیمیہ اور شبلی نعمانی" کا مطالعہ کیجئے]
4 - امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد[ت:1958ء] جیسے ذہین وفطین لوگ ہندوستان میں بہت کم پیدا ہوئے ہیں، لیکن امام الہند کا سر بھی امام ابن تیمیہ کے علم وعقل کے آگے جھکا ہوا ہے، یقین نہ ہو تو ان کی شہرہ آفاق کتاب "تذکرہ" اٹھا کر دیکھ لو.
5 - واقعہ یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتابیں علامہ عبد الحی لکھنوی کی زندگی میں طبع نہیں ہوئی تھیں، اور خود مولانا ابن تیمیہ کی تصانیف سے واقف زیادہ نہ تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ابن تیمیہ کے مخالفین کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی کتاب میں نقل کر دیا.
6 - علامہ شبلی نعمانی (اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو ٹھنڈک پہنچائے) ابن تیمیہ کی شان میں کیا خوب لکھا ہے :
" اس مقدس فرقے(یعنی محدثین) میں کوئی ایسا شخص نہیں پیدا ہوا جو فلسفی یا معقولی کے لقب سے ممتاز ہو، صرف دو شخص اس کلیہ سے مستثنیٰ ہیں: ابن تیمیہ اور ابن حزم، ان دونوں بزرگوں کے معتقدات اور خیالات اس امر کے اندازہ کرنے کے لیے نہایت نتیجہ خیز ہیں کہ حدیث کو فلسفہ سے کس حد تک ربط ہو سکتا ہے، یہ دونوں بزرگ بہت بڑے محدث اور ٹھیٹ مذہبی آدمی تھے، انہوں نے گو فلسفہ میں کمال پیدا کیا تھا لیکن فلسفہ کو بالکل حقیر سمجھتے تھے، اور اسی لیے فلسفہ کا ان پر کچھ اثر نہیں پڑ سکتا تھا".
یہ ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - !
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بولنے، لکھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
نوٹ: اگر یہ کہا جائے کہ :"عقله أكبر من علمه" تو مدح ہوگی.
 
Top