🖊 صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے توحید والوں کو فضیلت بخشی، اور ہمیں اس پر ثابت قدم رکھا،
اور بیشمار درود و سلام نازل ہوں موحدوں کے امام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پہ۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالی آپ پہ رحم فرمائے، اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، جیسا کہ ارشادی باری تعالیٰ ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات۔ 56)
اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے صرف اپنی عبادت و بندگی کے لئے۔
اور تمام رسولوں کو توحید کی طرف دعوت دینے، اور شرک سے روکنے کے لئے بھیجا۔
فرمان الہی ہے؛ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُـوْحِىٓ اِلَيْهِ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الانبیاء۔ 25)
اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سو میری ہی عبادت کرو۔
علمائے کرام نے عبادت کی تفسیر کرتے ہوئے اس کے دو معنی بتائے ہیں، ایک معنی اس کا توحید ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا: وَاعْبُدُوا اللّـٰهَ وَلَا تُشْـرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا۔
اور اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو۔
و اعبدوا کا معنی ہے اللہ کو ایک جانو۔
اللہ کی وحدانیت یہ سب سے اول اور سب سے اہم ہے، اور توحید بندوں پر اللہ رب العالمین کا سب سے عظیم حق ہے۔
جیسا کہ صحیحین میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اس کا نام عُفٙیرتھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے اگر وہ ایسا کرلیں تو؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
توحید یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت ہے امت کے لئے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر کوئی شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت کو پڑھنا چاہتا ہو تو اس آیت کریمہ کو پڑھ لے۔

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا
کہہ دو آؤ میں تمہیں سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے، کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ(سورہ انعام۔ ١٥١)
ابن القیم رحمہ اللہ توحید اور بندے کی حقیقت کو بیان کر تے ہوئے فرماتے ہیں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انی عبدک یعنی یقیناٙٙ میں تیرا بندہ ہوں، مطلب ہر انسان اللہ کی بندگی کو لازم پکڑے، پورے خشوع و خضوع کیساتھ اس کی طرف رجوع ہوتے ہوئے، اللہ کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے، اور اس کی منع کردہ چیزوں سے رکتے ہوئے، اسی سے امید و استعانت اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے۔
مسلمانو! جب آپ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پہ غور کریں گے، تو آپ جگہ جگہ توحید، ہدایت، دین پر ثابت قدمی کا حکم پائیں گے، بلکہ مومن ہر روز، ہر صلاة میں یہاں تک کہ ہر رکعت میں اللہ تعالی سے اھدنا الصراط المستقیم یعنی سیدھے راستے پر گامزن رہنے کی دعا کرتا ہے۔
اور عقلمند ہمیشہ اپنے نفس کو گمراہی کی طرف جانے سے ڈرتا ہے۔
اسی لئے اللہ رب العالمین نے ہمیں یہ دعا سکھلائی ہے ۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّـدُنْكَ رَحْـمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران۔8)
اے ہمارے رب!تو ہم کو ہدایت کے بعد، ہمارے دلوں کو نہ پھیر، اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما، بے شک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔
اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک
اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پر ثابت قدم رکھنا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، میں آپ پر ایمان لایا، اور جس چیز کو آپ لے کر آئے اس پر ایمان لے آیا، کیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں؛ لوگوں کے دل پروردگار کی دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں جیسے ایک دل ہوتا ہے، پروردگار ان کو جس طرح چاہتا ہے پھیرتا ہے۔
مومنو! جب ہم نے حقیقت توحید کو پہچان لیا، دین پر ثابت قدم رہنے کی کتنی ضرورت ہے اس کو جان لیا، تو مومن کو چاہیے اپنی زندگی کی حقیقت پر بھی بے نظر رکھے، توحید پر قائم رہنے کے عظیم اسباب میں سے ہے کہ بندہ اکثر لا الہ الا اللہ کا ذکر کرتا رہے۔
اس کی وجہ سے مومن کے قلب و جوارح پر بڑا ایمانی اثر باقی رہے گا، اللہ سے دعا ہے ہمارا خاتمہ اسلام پہ فرمائے۔ معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة "(سنن ابی داود ،حدیث نمبر: 3116 ۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے)
”جس کا آخری کلام «لا إله إلا الله» ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘
ہدایت اور دین پر ثابت قدمی کے عظیم اسباب میں سے ہے کہ معروف ثقہ اور راسخ العلم علماء ربانیین کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے کتاب اللہ سنت رسول کا علم حاصل کیا جائے، توحید، اس کی قسمیں ، دلائل، اور نواقض و دیگر شرعی مسائل کا علم بھی دین پر ثابت قدم رہنے کا ذریعہ ہے ۔
لھذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس کا اہتمام کریں۔
اسی طرح سے بندے کو چاہئے کہ دعا کے ذریعہ ہمیشہ اللہ سے ہدایت اور ثبات قدمی طلب کرتا رہے ۔
کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا سے عظیم اور مکرم کوئی چیز نہیں ۔
اللہ تعالی ہمیں حقیقت توحید کو سمجھنے، ہدایت اور دین پر ثابت قدمی کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین۔
 
Top