ذکر الہی اور اسوہ نبوی

شیخ ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
----------------------------------------------
کتاب و سنت میں ذکر و اذکار کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے اور اہل ایمان کو کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ ذِكۡرࣰا كَثِیرࣰا﴾ [الأحزاب ٤١]
اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا ہے، یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ زندگی کے تمام شعبوں کے لئے بہترین نمونہ اور آئیڈیل ہے،

عبادات کے باب میں اگر سیرت نبوی ﷺ کا جائزہ لیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی عبودیت کے اعلی مقام پر فائز نظر آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کامل بندے تھے، ذکر و اذکار کے متعلق عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے بارے میں بیان فرماتی ہیں کہ:
كانَ النبيُّ ﷺ يَذْكُرُ اللَّهَ على كُلِّ أحْيانِهِ.
(صحيح مسلم ٣٧٣ )
نبیﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے،

یقیناً اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شب و روز کے معمولات پر نظر ڈالی جائے تو کوئی ایسا لمحہ نہیں نظر آتا ہے جس وقت آپ اللہ کا ذکر نہ کرتے ہوں، سفر وحضر، گھر اور مسجد، خلوت وجلوت، صحت و بیماری، ہر جگہ اور ہر حال میں آپ اللہ کے ذکر کا اہتمام کرتے تھے،
یہاں تک کہ قضائے حاجت کے وقت تھوڑی دیر کے لئے آپ کی زبان اللہ کے ذکر سے خاموش ہو جاتی تھی تو اس معمولی وقفے میں ذکر نہ کرنے کو آپ اپنے لیے کوتاہی تصور کرتے اور ضرورت سے فارغ ہونے کے بعد جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو آپ غفرانك پڑھتے تھے، جیسا کہ اہل علم نے غفرانك پڑھنے کی ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے،

اسی طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر میں ستر سے زائد مرتبہ توبہ و استغفار کرتے تھے، آپ نے فرمایا:
واللَّهِ إنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وأَتُوبُ إلَيْهِ في اليَومِ أكْثَرَ مِن سَبْعِينَ مَرَّةً.
(صحيح البخاري ٦٣٠٧)
اسی طرح ایک ایک مجلس میں آپ یہ ذکر سو مرتبہ پڑھ لیتے تھے،
ربِّ اغفر لي، وتُب عليَّ، إنَّكَ أنتَ التَّوّابُ الرَّحيمُ.
جیساکہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: إن كنّا لنعدُّ لرسولِ اللَّهِ ﷺ في المَجلِسِ الواحدِ مائةَ مرَّةٍ: ربِّ اغفر لي، وتُب عليَّ، إنَّكَ أنتَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
( صحيح أبي داود ١٥١٦ )

اس سے اندازہ لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر کا کس قدر اہتمام پایا جاتا تھا،

لہذاآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ کی اتباع اور پیروی کریں اور آپ کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی میں کثرت سے ذکر کی پابندی کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے آمین
----------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
5 / دسمبر 2020 بروز ہفتہ
 
Top