ذیشان خان

Administrator
غیبی عقائد کا رد یہ کہ کر یہ اخبار احاد ہیں "

بعض اہل علم ایسے امور کا رد کرتے ہیں جنکا تعلق غیبی معاملے سے ہوتا ہے، انکی دلیل ہوتی ہے کہ چونکہ یہ اخبار​
احاد ہیں لہذا عقائد میں حجت نہیں ہیں،
جیساکہ امام مھدی کے آنے کی احادیث وغیرہ

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

یہ سارے علماء اس وقت تک معذور ہیں جب تک انکا رد کرنا اجتھاد اور تاویل کی بناپر ہے،لیکن امام مھدی کے آنے کا رد کرنا عیسی علیہ السلام کے نزول کے رد کی طرح نہیں ہے،اس لیے کہ عیسی ابن مریم کا نزول قرآن مجید کے ظاہر اور صریح سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔​
البتہ احادیث مھدی کو علماء نے چار قسموں میں تقسیم کیا ہے۔
١صحیح ٢حسن٣ضعيف٤موضوع

اہل علم کا راجح قول یہی ہے کہ امام مھدی ضرور آئیں گے جب زمین انکے آنے کی ضرورت محسوس کرے گی۔​
یعنی جب زمین ظلم و زیادتی سے بھر جائے گی تو اس وقت امام مھدی تشریف لائیں گے۔

لیکن یہ وہ مھدی ہیں جو عقیدہ اہل السنت والجماعت میں شامل ہیں۔یہ رواض کے مھدی نہیں ہیں جنکا وہ شدت سے انتظار کررہے ہیں،​
اس لیے کہ رافضی جس مھدی کا انتظار کررہے ہیں وہ محض ان کے تخیلات ہیں اس کی کوئ حقیقت نہیں ہے۔
روافض کا عقیدہ ہیکہ انکا مھدی عراق کے کسی غار میں ہے،جس کے نکلنے کا ہرروز انتظار کررہے ہیں،نہ اسکی کوئ حقیقت ہے اور نہ ہی کوئ اصل نہ ہی تاریخی پہلو سے اور نہ ہی عقلی پہلو سے

{[لقاء الباب المفتوح جلد ١صفحه ٢٠]}​
 
Top