ذیشان خان

Administrator
انسان کی روح جب تک اسکے جسم میں موجود ہوتی ہے
اس وقت تک وہ فتنوں کا آماجگاہ ہوتاہے۔

🎙علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

اسی لیے میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو نصحیت کرتا ہوں کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالی سے ایمان پر ثابت قدمی کا سوال کریں۔
اور لوگوں! اللہ سے ڈرتے رہو،اس لیے کہ تمہارے قدموں کے نیچھے پھسلن ہے،اگر اللہ تعالی تمہیں ثابت قدم نہ رکھے تو تم ہلاکت میں واقع ہوجاؤگے،

اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو سنو جو نبی علیہ السلام کے بارے میں ہے حالانکہ آپ تمام لوگوں سے زیادہ ثابت قدم تھے،اور آپکا ایمان سب سے زیادہ قوی تھا،

(اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدرے قلیل مائل ہو ہی جاتے ۔ بنی اسرائیل 74)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ہے،

تو پھر ہماری کیا حالت ہے،ہماراایمان و یقین تو انتہائ کمزور ہے اور ہم شبھات و شھوات کے اندر گھرے پڑے ہیں،
پس ہم بہت بڑے خطرے کے اندر ہیں ہم پر لازم ہے کہ ہمہ وقت اللہ تعالی سے حق پر ڈٹے رہنے کا سوال کریں،
اور یہ کہ وہ ہمارے دلوں کے درمیان ٹیڑھ پن پیدا نہ کرے،اور عقل مند تو یہ دعا کرتے ہیں،
﴿ رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبُنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا ﴾
اے ہمارے رب ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر)

📚 [ \"الشرح الممتع\" ٣٨٨/٥ ]
 
Top