ذیشان خان

Administrator
امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال ہوا جو تعویذ لکھتا ہے؟

✍ معاویہ نازمی
متعلم المعہد السلفی للتعلیم والتربیہ

شیخ محمدصالح المنجد حفظہ اللہ سے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال ہوا جو تعویذ لکھتا ہے اس پر شیخ نے جواب دیا کہ.

پہلی بات تویہ ہے کہ
تعویذ لٹکانا جائز نہیں ہے۔اگر چہ وہ قرآن کریم سے ہو
کیوں کہ نبی علیہ السلام کے اس فرمان میں عموم ہے،
(جو تمیمہ لٹکائے ، اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے اور جو سفید منکے لٹکاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو سکون نہ دے۔)امام احمد رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے،اور شیخ شعیب ارناؤط نے اسے حسن کہا ہے،
اور نبی علیہ السلام کا فرمان ہے،
(جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا )
رواہ احمد وصححه البانى

اور جب تمائم کا تعلق قرآن مجید سے ہو تو اسکے بارے میں علماء کا اختلاف ہے،اور اس میں بھی راجح بات منع ہے۔ایک تو عمومی دلائل کی وجہ سے دوسرا سد الذرائع کیلیے،اور اسلیے بھی کہ اس میں اکثر اوقات مصیبت و پریشانی لاحق ہوتی ہے،کہ تعویذ لٹکانے والا تعویذ پہن کر سوجاتا ہے اور بسااوقات بیت الخلاء میں بھی داخل ہوجاتا ہے۔
فتاوی اللجنة الدائمة (١/٢١٢) میں یہ بات موجود ہیکہ علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن مجیدسے بنے ہوئے کے علاوہ تعویذ پہننا حرام ہے۔،اور علماء کا قرآن سے بنے تعویذ کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض علماء اجازت دیتے ہیں،اور بعض منع کرتے ہیں اور انکی دلیل عمومی احادیث اور سد الذرائع ہے،

جب ایسے تمائم ہوں جنہیں امام صاحب اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہوں،اور شرکیہ امور پر مشتمل ہوں،مثلا غیراللہ سے سوال کرنا جن میں جن ،فرشتے اور نیک صالح لوگ شامل ہیں،یا پھر یہ امام شرک کی اس قسم میں مہارت رکھتا ہو،یا علم غیب کا دعویٰ کرتا ہو،تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،
البتہ اگر یہ امام شرک سے خالی ہو،بلکہ اہل توحید میں سے ہو،تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے،اور امام کی ہر حال میں اصلاح کرنا ضروری ہے،اس لیے کہ ہر قسم کی تعویذ حرام ہے،

سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی کے سامنے جب یہ سوال رکھا گیا!
تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے جو قرآنی اور شرعی دعاؤں سے بنے تعویذ لکھ کر دیتا ہے۔البتہ اسکے لیے ایسے تعویذ لکھنا جائز نہیں ہے کیوں کہ انکا لٹکانا جائز نہیں ہے،
اور اگران تمائم کا تعلق شرکیہ امور سے ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے جو شرکیہ تعویذ لکھ کردیتا ہے،اور اسے یہ بات باور کروانا ضروری ہے کہ یہ عمل شرک ہے،
انتهى من "فتاوى اللجنة الدائمة" (٣/٦٥)

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے جب تعویذ لکھنے والے امام کےپیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال ہواتو شیخ نے جواب دیا کہ
جو تم نے امام کے تعویذ لکھنے کے بارے میں ذکر کیا ہے تو اس میں تفصیل ہے۔اگر ان تعویذوں میں شرک ہو اور غیر اللہ کو پکارا گیا ہو اوریہ تعویذ مجھول اسماء پر مشتمل ہوں،
ایسی تعویذ لکھنا اور انہیں استعمال کرنا جائز نہیں ہے،
اہل علم کا اس پر اجماع ہے،اور اس لیے بھی کہ یہ عمل شرک ہے۔اور ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھناچاییے۔

البتہ اگر یہ تمائم قرآن مجید یا مشروع دعاؤں پر مشتمل ہوں۔اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے،
بعض اسکی اجازت دیتے ہیں اور بعض منع کرتے ہیں،
اور منع والا مؤقف احوط ہے،
اس لیے کہ اس دروازے کو کھولنا حرام کردہ تعویذ کی طرف جانے کا ذریعہ ہے

اور اسلیے بھی کہ قرآن مجید کو تعویذ کی صورت میں ڈالنا اسکی توہین کی طرف اشارہ ہے۔
اور ایسے مواضع میں داخل ہونے کے سبب سے بھی (ممنوع) ہےجہاں اسکے ساتھ داخلہ جائز نہیں ہے،
لیکن ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئ حرج نہیں ہے!
.

خلاصہ یہ ہیکہ ایسے تعویذ لکھنا جس میں شرکیہ الفاظ ہوں یا مجھول اسماء ہوں یا غیراللہ سے دعاکی گئ ہویاشیطان سے یادیگر مخلوقات سے مدد طلب کی گئی ہو تو یہ سارے الفاظ شرکیہ ہیں اور لکھنے والےاور علم کے باوجود انہیں استعمال کرنے والےمشرک ہیں۔
البتہ اگر تعویذ کا تعلق قرآن سے ہو احوط یہی ہے اس سے بھی بچا جائے اور اسے بھی ترک کیاجائے اور استعمال میں نہ لایاجائے،
انتهى من "المنتقى من فتاوى الفوزان

مکمل بحث کیلیےدیکھیں موقع الاسلام سوال وجواب
محمد صالح المنجد
 
Top