ذیشان خان

Administrator
عبد العزيز الطريفي كے منہج کی حقیقت

✍⁩ ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

قارئین کرام: تقریباً سال بھر قبل استاذ الدكتور شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ ورعاہ نے کہا تھا کہ: عبد العزیز الطریفی، محمد العریفی اور حسن الددو منہج میں انحراف کے شکار ہیں.
اس بات پر لوگوں میں کافی چہ مہ گوئیاں ہوئیں، بعض نے شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کی اس بات کو معاصرانہ چشمک قرار دیا، بعض نے کہا کہ شیخ نے بلا تحقیق عبد العزیز الطریفی کی جرح کی ہے، گویا جتنے منہ اتنی باتیں.
محترم قارئین: شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ ایک معتدل سلفی عالم دین ہیں، فقہ اور اصول فقہ میں انہیں مہارت تامہ حاصل ہے، کوئی بھی بات بلا تحقیق نہیں کرتے، خوب چھان پھٹک کر اپنی بات کو عوام کے سامنے لاتے ہیں، تورع اور احتیاط کا اندازہ ان کے درس میں بیٹھنے والا اور ان سے استفادہ کرنے والا بہتر لگا سکتا ہے، واللہ اعلم، اور لا ادری ان کی زبان کی نوک پر ہوتا ہے، کسی بھی دقیق مسئلے میں کبار اہل علم کی طرف احالہ کرنے میں وہ ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، ہمیشہ اپنے طالب علموں کو مفاسد ومصالح کا درس بہترین انداز میں دیتے ہیں، سلفیت میں اعتدال کسے کہتے ہیں کوئی ان سے سیکھ سکتا ہے.
نیز شیخ کی علمی قابلیت اور صلاحیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کبار علماء فقہی مسائل میں شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کی طرف احالہ کرتے ہیں، بارک اللہ فی شیخنا ووفقہ للمزید.
شیخ کسی شخص کے سلسلے میں کلام ہوائے نفس کی پیروی میں نہیں کرتے، بلکہ دین سمجھ کر اور اور لوگوں کی خیر خواہی میں کام انجام دیتے ہیں، اس لئے یہ کہنا کہ شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ نے بلا سبب اور بغیر تحقیق کے عبد العزیز الطریفی کو منحرف کہا ہے بے بنیاد الزام ہے.
جو لوگ شیخ پر بلا سبب اور بغیر تحقیق کے جرح کا الزام لگا رہے کاش کہ وہ شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ سے ایک بار رابطہ کرلیتے، یا ان سے ملاقات کرلیتے، اگر انہیں تشفی بخش جواب نہیں ملتا تو پھر وہ مذکورہ بات کہنے کے مجاز تھے.
اور رہی بات اس قاعدے کی ((کلام الأقران یطوی ولا یروی)) تو یاد رہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہر معاصر کے کلام کو چھوڑ دیا جائے گا، اگر ایسا کیا جائے تو کیا ائمہ جرح وتعدیل جیسے ابن معین، ابن المدینی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہ نے جو اپنے معاصرین پر کلام کیا ہے، کیا ان کے کلام کو معاصرانہ اختلافات کا نام دے کر چھوڑ دیا جائے گا؟
اسی طرح شیخ البانی نے بوطی پر کلام کیا ہے، اور بہت سے علماء کرام نے قرضاوی اور سید قطب کے پر کلام کیا ہے، کیا ان سب کے کلام پر ((کلام الأقران یطوی ولا یروی)) کا قاعدہ فٹ کرکے بوطی، سید قطب اور قرضاوی کو صحیح منہج وفکر کا حامل مانا جائے گا؟
اسی طرح ائمہ جرح وتعدیل نے اپنے زمانے کے جتنے رواۃ کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور جن باطل افکار ونظریات کے حاملین پر رد کیا ہے ان سب کی کاوشیں معاصرانہ چشمک بھینٹ چڑھ جائے گی اور باطل افکار کے حاملین کو دندانے کا پورا موقع مل جائے گا.

قارئین کرام: اگر کوئی کسی بدعتی یا منحرف الفکر کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اپنی خوشی اور غم میں اس کو شریک کرتا ہے اور اسے دوست بناتا ہے تو یقینا یہ کہا جائے گا کہ وہ شخص اس بدعتی کی تائید کرنے والا اور اس کا حمایتی ہے، اگر وہ اس کا حمایتی نہیں ہوتا تو یقینا اپنے ساتھی کی بدعت اور اس کے انحرافات پر رد کرتا، اور اس سے دور رہتا!!!
سلمان العودة خارجی فکر، حریت پسند اور بہت سے باطل افکار کا مجموعہ ہے، عبد العزیز الطریفی ان کے دوست تھے، اور ان سے اپنی خوشی اور غم کے لمحات شئیر کیا کرتے تھے، گاہے بگاہے ان کی زیارت بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ خود سلمان العودہ نے اپنی ویب سائٹ اور اپنے ٹویٹر پر لکھا ہے.
ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ سلمان العودہ کے ساتھ رہنے سے یا اس کی زیارت کرنے سے عبد العزیز الطریفی کیسے منحرف ہو گئے؟
محترم قارئین: عبد العزیز الطریفی کو صرف سلمان العودة اور ان جیسے منحرفین کے ساتھ نشست وبرخاست کی وجہ منحرف نہیں کہا گیا ہے، بلکہ عبد العزیز الطریفی خود ان نظریات وافکار کے حامل ہیں جو ایک انسان کو منحرف بناتی ہیں، ذیل میں کچھ لنک دئیے جارہے ہیں، آپ انہیں بغور سنیں اور خود فیصلہ کریں:
١- اہل سنت والجماعۃ کا اصول ہے کہ حاکم پر سب کے سامنے کھلے عام نکیر نہیں کی جائے گی، جب کہ عبد العزیز الطریفی اس کی مخالفت کرتے ہیں، اور صرف مخالفت پر ہی بس نہیں بلکہ وہ اپنے سے بڑے علماء کو غلط بھی ٹھہراتے ہیں.
قارئین کرام: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اصلاح کے مقصد سے کھلے عام منبر ومحراب سے حاکم پر نکیر کرنا خوارج کا منہج ہے، نیز اس سے عوام کے دلوں میں حاکم کی نفرت بیٹھتی ہے، اور عام آدمی اپنے حاکم سے بغض وعداوت کرنے لگتا ہے اور اس طرح حکومت کے خلاف ایک فضا تیار ہوتی ہے، اور پھر حکومت کے خلاف خروج کا راستہ ہموار ہوتا اور خروج کا نتیجہ فساد وبگاڑ اور بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں.
٢- عبد العزيز الطریفی نے مصر کی عوام کو وہاں کے حاکم عبد الفتاح سیسی کے خلاف خروج کرنے پر ابھارا بلکہ اس کا فتوی بھی دیا.

محترم قارئین: آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ عوام کو حاکم کے خلاف خروج کی ترغیب دینے والے مفتیان اور خطباء سب سے بدترین قسم کے خوارج ہوتے ہیں جنہیں "قعدیہ" کے نام سے جانا جاتا ہے، جیسا کہ سلف سے منقول ہے.
٣- فتوی کا کھیل.
سن 2012 میں عبد العزیز الطریفی نے فتوی دیا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کسی ملک پر بزور قوت وشمسیر غلبہ پالیتا ہے، تو وہ حاکم متغلب ہوگا، گرچہ اس حکومت کو پانے کیلئے وہ لوگوں کا قتل کرے اس کے باوجود اس کی اطاعت ضروری ہوگی، اور اس کے خلاف خروج کرنا جائز نہیں ہوگا.
لیکن جب 2013 میں سیسی مصر کے حاکم بنے تو فورا عبد العزیز الطریفی نے اپنا فتوی بدل دیا اور فتوی دیا کہ سیسی ظالم ہے اس سے بدلہ لینا اور اس کے خلاف خروج کرنا جائز نہیں بلکہ واجب ہے.
عبد العزیز الطریفی کیسے تناقض کا شکار ہیں وہ آپ نے ملاحظہ کیا.
٤- اخوان المسلمین جو عقیدہ ومنہج کے اعتبار سے گمراہ جماعت ہے، کس طریقے سے عبد العزیز الطریفی ان کا دفاع کر رہے ہیں یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے.
جبکہ عبد العزیز الطریفی کے میدان علم میں ولادت سے قبل ہی علماء کرام نے اخوان المسلمین کے باطل عقائد و افکار کے مد نظر اس جماعت کو گمراہ کہہ چکے ہیں، لیکن عند العزیز الطریفی کو شاید کبار علماء جیسے ابن باز، ابن عثیمین اور البانی رحمہم اللہ وغیرہم کی بات اچھی نہیں لگی، اس لئے اخوان المسلمین کی تعریف میں رطب اللسان ہیں.
٥- ملک شام میں آٹھ سالوں سے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اس سے کون ناواقف ہوگا، اس معاملہ کی شروعات حاکم کے خلاف خروج سے ہوئی تھی، اور اس وقت بڑے سلفی علماء نے شام کی عوام کو خروج کرنے منع فرمایا تھا، اور اس کے مفاسد سے آگاہ کیا تھا، لیکن عبد العزيز الطریفی اور ان جیسے مفتیان نے شام کی عوام کو اپنے حاکم کے خلاف خروج کا فتوی دیا، بلکہ عبد العزیز الطریفی نے اس خروج کو اللہ کی نعمت سے تعبیر کیا، مندرجہ ذیل لنک میں آپ عبد العزیز الطریفی کی بات سن سکتے ہیں.
محترم قارئین: ملک شام میں لوگ چین وسکون کی زندگی بسر کر رہے تھے، سب اپنے اہل وعیال کے ساتھ خوش تھے، لیکن ظالم حاکم کے نام پر عبد العزیز الطریفی، محمد العریفی اور سلمان العودۃ اور ان جیسے دیگر ٹیلی ویژن کے مفتیان غیر کرام نے شام کی عوام کو حاکم کے خلاف خروج کا فتوی دیا اور انہیں سبز باغ دکھائے، اور شام میں ہونے والے ان مظاہرات کو جن میں بڑے، بوڑھے، بچے اور خواتین کا قتل عام ہو رہا تھا، رداء عزت تار تار ہو رہی تھی، گھر ویران ہو رہے تھے، بچے یتیم ہو رہے تھے، خواتین بیوہ ہو رہی تھیں عبد العزیز الطریفی اسے اللہ کی نعمت قرار دے رہے تھے، جب کہ ایک دوسرے مفتی سعد البریک کہہ رہے تھے کہ اس مظاہرے ہزار دس ہزار لوگ بھی قتل ہو جائیں تو کوئی بات نہیں.

قارئین کرام: مندرجہ بالا سطور میں عبد العزیز الطریفی کے منہجی انحراف پر کئی دلائل پیش کئے گئے، کیا اس کے بعد بھی شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کی بات کو معاصرانہ چشمک قرار دیا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ بلا دلیل اور بلا سبب انہوں نے عبد العزیز الطریفی کو منحرف کہا ہے؟

کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ حاکم وقت کے خلاف خروج، یا اس پر کھلے عام نکیر کرنے سے منع کرنا یہ صرف سعودی علماء کرام کا منہج ہے، ایسا کہنا یا سمجھنا بالکل غلط ہے، کیوں کہ اس منہج کی تعلیم سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، یہی منہج متقدمین سلف اور ان کے بعد اہل سنت والجماعۃ کے تمام علماء کرام کا ریا ہے، سعودی عرب کے علماء کرام نے حکام کے تعلق سے سلف کے اس منہج کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے، کوئی نیا منہج ایجاد نہیں کیا ہے.
محترم قارئین: حسن ادا، شیریں کلام، شعلہ بیان اور کر وفر کرنے والے ہر مقرر سے متاثر نہ ہوں، بلکہ بڑے علماء جیسے شيخ ابن باز، شیخ ابن عثيمين، شیخ محمد أمان الجامي اور شیخ البانی وغيرهم رحمهم الله ، نیز شيخ صالح الفوزان، شيخ صالح اللحيدان، شيخ عبد المحسن العباد، شيخ ربيع بن هادي المدخلي اور ان جیسے دیگر سلفی علماء حفظہم اللہ جمیعا کے فقہ وفتاوے سے استفادہ کریں.

أسأل الله أن يُرِيَنا الحق حقًا ويرزُقنا اتباعه، وأن يرينا الباطل باطلاً وير زُقنا اجتنابه.
 
Top