ذیشان خان

Administrator
جامعہ امام ابن تیمیہ میں "زوم کلاسِز" کا کامیاب تجربہ
( عربی زبان میں صحیح بخاری کا پہلا درس)


✍⁩ترجمہ وتلخیص: آصف تنویر تیمی

بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی.اگر ارادہ مستحکم اور مضبوط ہو تو آدمی اپنے مقصد کو پا ہی لیتا ہے.ٹھیک اسی طرح محترم رئیسِ جامعہ ڈاکٹر عبد اللہ محمد السلفی حفظہ اللہ کے فیصلے کے مطابق آج جامعہ میں "زوم کلاسِز" کا شاندار افتتاح استاد محترم ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی حفظہ اللہ کے صحیح بخاری کے درس سے ہوا.آج کے درس کا عنوان امام بخاری اور ان کی کتاب صحیح بخاری تھا.اگرچہ یہ درس جامعہ کے ثالثہ فضیلہ کے طلبہ کے لئے خاص تھا مگر درس کی اہمیت وافادیت کے پیشِ نظر جامعہ کے بہت سارے قدیم فارغین اور دیگر کلاسوں کے طلبہ نے بھی استفادہ کیا.محاضرے کا باضابطہ آغاز ہندوستانی وقت کے مطابق شام چھ بجے ہوا اور عشاء کی اذان شام ساڑھے سات بجے تک جاری رہا.محاضرے کےشروع سے اخیر تک مستفدین کا سلسلہ رہا.محاضرہ عربی زبان میں تھا.بیچ بیچ میں طلبہ کی آسانی اور تفہیم کی خاطر بعض تاریخوں کی وضاحت اردو میں بھی کی گئی.
محاضر موصوف نے آج کے محاضرے میں موضوع کے جن اہم نکات پر گفتگو کی ذیل کے سطور میں بالاختصار ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
1- محاضر موصوف نے اپنے محاضرے کے آغاز میں اشخاص و أعلام کی زندگی کے پڑھنے اور جاننے کے مقاصد کو بیان کیا.اس تعلق سے ایک عام اور دوسرے خاص مقصد کی نشاندہی کی.سیرت وسوانح کے جاننے کا عام مقصد یہ ہے کہ سامع اور قاری صاحبِ سوانح کی زندگی کے ان ادوار سے آگاہ ہوجائے جس سے ان(صاحبِ سوانح) کو گزرنا پڑا.ساتھ ہی ہم ان کی(زندگی کی) اچھائیوں سے فائدہ اٹھائیں اور ان کی غلطیوں کو اپنی زندگی میں نہ دہرائیں. دوسرا خاص مقصد کسی کی زندگی اور سوانح کے پڑھنے کا یہ ہے کہ ہم ان کی سیرت وکردار کو اپنی زندگی میں داخل کریں.اور یہ مقصد امام بخاری اور ان جیسے دیگر ائمہ کرام کی زندگی ہی سے حاصل ہوسکتا ہے.
2- نام ونسب: امام بخاری کا مکمل نام ونسب اس طرح ہے: محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَردِزبہ بخاری جُعفی.
3- کنیت اور لقب: آپ کی کنیت ابو عبد اللہ اور لقب امام المحدثین اور امیر المومنین فی الحدیث ہے.اسی ضمن میں محاضر موصوف نے کنیت اور لقب کے فرق کو بھی واضح کیا اور مثالیں دیں.یعنی کنیت وہ ہے جس کے شروع میں اب یا ام کا سابقہ ہو جیسے ابو بکر، اور ام کلثوم وغیرہ. اور لقب وہ ہے جس سے کسی شخص کی تعریف یا مذمت مقصود ہو جیسے زین العابدین اور أنف الناقہ وغیرہ.
4- نسبت: امام بخاری ولادت کے اعتبار سے شہر بخارا اور ولایت کے اعتبار سے جُعفی کہے جاتے ہیں. مورخین نے لکھا ہے کہ"یمان الجعفی" شہرِ بخارا کے حاکم تھے، انہی کے ہاھ پر امام بخاری کے پردادا مغیرہ نے اسلام قبول کیا تھا اس لئے حاکم بخاری کی طرف منسوب ہوگئے.
5- والدین: امام بخاری کے والد معروف محدث تھے،انہیں امام مالک اور عبد اللہ ابن مبارک رحہما اللہ جیسے جلیل القدر محدثین کی شاگردی کا شرف حاصل تھا.اور امام بخاری کی والدہ ماجدہ بھی نہایت عابدہ زاہدہ خاتون تھیں. امام سبکی نے طبقات ابو علی غسّانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی والدہ مستجاب الدعوات تھیں اور انہی کی دعاؤں کی برکت سے امام بخاری کی بصارت لوٹی تھی.
6- جائے پیدائش اور تاریخ ولادت: امام بخاری "بخارا"( جو خراسان کا قدیم شہر ہے،اور اس وقت ازبکستان سے معروف ہے) میں 13/شوال 194 ھ میں پیدا ہوئے.
7- پرورش وپرداخت اور تعلیم: آپ کی پرورش وپرداخت علم وفضل اور سنت سے معمور گھر میں ہوئی. آپ کے والد بڑے محدث اور والدہ عبادت گزار تھیں.لیکن آپ کو بھی یتیمی کا درد برداشت کرنا پڑا.بچپن میں ہی والد کا انتقال ہوگیا. اس کے بعد کی پوری کفالت والدہ نے کی. دس سال کی عمر میں والدہ نے آپ کو مکتب میں داخل کیا،اور جب ہوش مند ہوئے تو حفظ حدیث اور اس کی تحقیق کی طرف آپ کا میلان ہوا. بلکہ اہل علم نے لکھا ہے کہ دس سال ہی کی عمر سے امام بخاری نے حدیثوں کو یاد کرنا شروع کردیا تھا. مشائخ کے علمی حلقوں میں بھی شامل ہوتے جیسے علامہ داخلی کے بخارا کا درس وغیرہ. سولہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ نے حدیث کا ایک ذخیرہ حفظ اور جمع کرچکے تھے. صحیح ضعیف،علل حدیث،رواة حدیث کی معرفت اور ان کے مکمل احوال پر آپ کو دسترس حاصل تھا.اس وقت کے متعدد واقعات سیرت وتاریخ کی کتابوں میں درج ہیں.
8- اساتذہ: آپ کے اساتذہ کے ناموں کی فہرست بڑی طویل ہے،ذیل میں چند ناموں پر اکتفاء کیا جاتا ہے:
* محمد بن سلام بیکندی.
*محمد بن یوسف بیکندی.
*عبد اللہ بن محمد مسندی.
*ابراہیم بن اشعث.
*علامہ داخلی وغیرہ.

9- علمی اسفار: امام بخاری نے اپنے شہر کے اساتذہ سے کسبِ فیض کرنے کے بعد متعدد شہروں کا علمی سفر کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ اساطین علم وفن سے تعلیم حاصل کرسکیں.آپ نے جن شہروں کا سفر کیا ان میں حجاز،بصرہ،کوفہ،بغداد،مصر اور جزیرہ وغیرہ کا نام قابلِ ذکر ہے.اور ان تمام شہروں میں آپ کے اساتذہ علیحدہ ہیں جن کا ذکر طوالت کا باعث ہے.
10- اخلاق وعادات: امام بخاری کا دل فطری طور پر خوف الہی،رحم وکرم اور عدل وانصاف سے پُر تھا.آپ ایثار وقربانی کے خواہاں، مال ودولت کی بے جا محبت سے متنفر تھے.آپ متقی،پرہیز گار اور غیبت وچغلی سے کوسوں دور تھے.ان کا قول ہے کہ: جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی.آپ عبادت وبندگی میں سرتوڑ کوشش کرتے تھے.اور اس تعلق سے اہل علم کے متعدد اقوال ہیں جو ان کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں. امام بخاری کی بڑی صفت یہ بھی تھی کہ وہ حکمرانوں کی قربت اور چاپلوسی سے دور رہا کرتے تھے. اور ان کا ماننا تھا کہ اکثر وبیشتر علماء حکمرانوں کی ہمسائیگی کی وجہ سے پھسل جاتے ہیں ان سے چوک ہوجاتی ہے، حق وناحق کی تمیز ختم ہوجاتی ہے.
11- عام مسلمانوں کے دلوں میں قدر ومنزلت: اللہ تعالی نے امام بخاری رحمہ اللہ کو محبوبِ خلائق بنایا تھا.آپ جہاں بھی جاتے چاروں جانب سے لوگوں کی بھیڑ آپ کو مارے محبت سے گھیر لیتی تھی.اور لوگ آپ کے کمالات واوصاف کو سن کر ایک نظر دیکھنے کے متمنی ہوتے تھے.کبھی کبھار تو آپ کی محفل میں اتنی بھیڑ ہوتی کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہ بچتی. *جب آپ بخاری سے تعلیم مکمل کرکے لوٹے تو شہر والوں نے شہر سے دور آپ کا شاندار استقبال کیا اور آپ پر درہم ودینار برسائے. امام مسلم رحمہ اللہ کہتے: جیسا آپ کا نیساپور میں استقبال ہوا ویسا کسی بھی عالمِ دین کا نہیں ہوا.
12- شاگردان: آپ کے شاگردان کی تعداد بے شمار ہے.ان میں سے چند کے اسماء پر اکتفا کیا جاتا ہے:
*امام مسلم بن حجاج.
*امام ابو عبد الرحمن نسائی.
*امام ابو عیسی ترمذی.
*امام محمد بن نصر مروزی.
*امام دارمی.
*امام ابن خزیمہ

یہ سب کے سب اپنے وقت کے محدث اور محقق گزرے ہیں.
13- وفات: وفات سے قبل امام بخاری اپنے شہر بخارا کے حاکم کی سازش کے شکار ہوئے،اس نے لوگوں کے دلوں سے آپ کی محبت کو کم کرنے کی کوشش کی، خلق قرآن کی تہمت آپ پر چسپاں کرنے کی مذموم سعی کی،اسی ضمن میں آپ کو بخارا چھوڑنے کو کہا گیا.چنانچہ فتنوں کی باعث آپ بخارا سے سمرقند چلے گئے.وہیں بیمار ہوئے اور چند دنوں کے بعد انتقال کرگئے.
آپ کی وفات عید کی رات(یکم شوال) سنہ 256 ھ کو 62 سال کی عمر میں ہوئی.
آپ کی مکمل زندگی علم وعبادت اور تدریس وتصنیف سے عبارت ہے.آپ کی زندگی کا بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تصنیف وتالیف ہے جو قرآن مجید کے بعد دنیا کی سب سے صحیح کتاب ہے.قرآن مجید کے بعد مسلمانوں میں جو قبولیت اس کتاب کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کتاب کے حصے میں نہ آسکی.
 
Top