ذیشان خان

Administrator
امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ: ایک سرسری مطالعہ

عربی تحریر: ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی
اردو قالب:
آصف تنویر تیمی

مشاہیر محدثین کی فہرست طویل ہے،اس طویل فہرست میں جو لوگ سب سےاوپر نظر آتے ہیں ان میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سب سے نمایاں ہیں جن کے اعمال وکردار سے مسلمانوں کی بڑی جماعت آگاہ ہے۔
مدارس وجامعات کے علاوہ عام تعلیم یافتہ طبقہ میں جو شخصیتیں قابل توجہ رہی ہیں اس لحاظ سے بھی امام بخاری سر فہرست ہیں۔اللہ نے ان سے جمعِ حدیث کا جو کام لیا وہ کسی اور کی قسمت میں نہ آسکا۔دین کے دشمنوں اور نفس پرستوں کی نگاہ میں جتنا امام بخاری اور ان کی شہرہ آفاق کتاب ’صحیح بخاری‘چبھتی ہے، اتنی کسی اور کی کتاب نہیں۔اس لیے کہ قرآن مجید کے بعد باطل افکار وخیالات پر جتنا ضرب اس کتاب سے پڑتا ہے اتنا کسی اور کتاب سے نہیں۔اگر کوئی مسلمان سچائی کے ساتھ قرآن مجید اور صحیح بخاری کو اپنی زندگی کا دستور بنالے تو اس کی دنیا وعاقبت دونوں سدھر جائے گی۔ ذیل کے سطور میں امام بخاری رحمہ اللہ کی زندگی پر اختصار کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے،جس سے عام لوگوں کے علاوہ مدارس وجامعات کے طلبہ زیادہ استفادہ کرسکتے ہیں۔اس لیے کہ ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی حفظہ اللہ کی تحریر کا یہ اردو ترجمہ ان کے جامعہ امام ابن تیمیہ کے آخری سال کے طلبہ کے سامنے پیش کیے گئے ایک درس سے عبارت ہے۔انھوں نے یہ تحریر طلبہ کو سامنے رکھ کر تیار کی تھی،جس کا حُسن اختصار اور جامعیت ہے۔
نوٹ:اردو میں اصل تحریر کو منتقل کرتے وقت جملوں کو آپس میں مربوط رکھنے کی خاطر شروع میں کچھ اضافے بھی کیے گئے ہیں جن کا صاحب تحریر سے کچھ لینا دینا نہیں۔
اشخاص و أعلام کی زندگی کے پڑھنے اور جاننے کے مقاصد:
ان مقاصد کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؛ ایک عام مقصد اور دوسرا خاص مقصد۔سیرت وسوانح کے جاننے کا عام مقصد یہ ہے کہ سامع اور قاری صاحب سوانح کی زندگی کے ان ادوار سے آگاہ ہوجائے جن سے ان(صاحب سوانح) کو گزرنا پڑا۔ساتھ ہی ہم ان کی(زندگی کی) اچھائیوں سے فائدہ اٹھائیں اور ان کی غلطیوں کو اپنی زندگی میں نہ دہرائیں۔
دوسرا خاص مقصد کسی کی زندگی اور سوانح کے پڑھنے کا یہ ہے کہ ہم ان کی سیرت وکردار کو اپنی زندگی میں داخل کریں۔اور یہ خاص مقصد امام بخاری اور ان جیسے دیگر ائمہ کرام کی زندگی ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔
(۲)نام ونسب:
امام بخاری کا مکمل نام ونسب اس طرح ہے: محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَردِزبہ بخاری جُعفی
(۳)کنیت اور لقب:
آپ کی کنیت ابو عبد اللہ اور لقب امام المحدثین اور امیر المومنین فی الحدیث ہے۔اسی ضمن میں محاضر موصوف نے کنیت اور لقب کے فرق کو بھی واضح کیا اور مثالیں دیں،یعنی کنیت وہ ہے جس کے شروع میں اب یا ام کا سابقہ ہو جیسے ابو بکراور ام کلثوم وغیرہ۔اور لقب وہ ہے جس سے کسی شخص کی تعریف یا مذمت مقصود ہو جیسے زین العابدین اور أنف الناقہ وغیرہ۔
(۴)نسبت:
امام بخاری ولادت کے اعتبار سے شہر بخارا اور ولایت کے اعتبار سے جُعفی کہے جاتے ہیں۔مورخین نے لکھا ہے کہ’یمان الجعفی‘ شہر بخارا کے حاکم تھے، انھی کے نام پر امام بخاری کے پردادا مغیرہ نے اسلام قبول کیا تھا اس لیے حاکم بخاری کی طرف منسوب ہوگئے۔
(۵)والدین:
امام بخاری کے والد معروف محدث تھے،انھیں امام مالک اور عبد اللہ ابن مبارک جیسے جلیل القدر محدثین کی شاگردی کا شرف حاصل تھا۔اور امام بخاری کی والدہ ماجدہ بھی نہایت عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔امام سبکی نے طبقات ابو علی غسّانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی والدہ مستجاب الدعوات تھیں اور انھی کی دعاؤں کی برکت سے امام بخاری کی بصارت لوٹی تھی۔
(۶)جائے پیدائش اور تاریخ ولادت:
امام بخاری ’بخارا‘(جو خراسان کا قدیم شہر ہےاور اس وقت ازبکستان سے معروف ہے) میں۱۳؍شوال۱۹۴ ھ میں پیدا ہوئے۔
(۷)پرورش وپرداخت اور تعلیم:
آپ کی پرورش وپرداخت علم وفضل اور سنت سے معمور گھر میں ہوئی۔ آپ کے والد بڑے محدث اور والدہ عبادت گزار تھیں۔لیکن آپ کو بھی یتیمی کا درد برداشت کرنا پڑا۔بچپن میں ہی والد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد کی پوری کفالت والدہ نے کی۔دس سال کی عمر میں والدہ نے آپ کو مکتب میں داخل کیااور جب ہوش مند ہوئے تو حفظ حدیث اور اس کی تحقیق کی طرف آپ کا میلان ہوا۔بلکہ اہل علم نے لکھا ہے کہ دس سال ہی کی عمر سے امام بخاری نے حدیثوں کو یاد کرنا شروع کردیا تھا۔ مشائخ کے علمی حلقوں میں بھی شامل ہوتے جیسے علامہ داخلی کے بخارا کا درس وغیرہ۔سولہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ حدیث کا ایک ذخیرہ حفظ اور جمع کرچکے تھے۔صحیح ضعیف،علل حدیث،رواة حدیث کی معرفت اور ان کے مکمل احوال پر آپ کو دسترس حاصل تھا۔اس وقت کے متعدد واقعات سیرت وتاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔
(۸)اساتذہ:
آپ کے اساتذہ کے ناموں کی فہرست بڑی طویل ہے،ذیل میں چند ناموں پر اکتفا کیا جاتا ہے:
محمد بن سلام بیکندی
محمد بن یوسف بیکندی
عبد اللہ بن محمد مسندی
ابراہیم بن اشعث
علامہ داخلی
(۹)علمی اسفار:
امام بخاری نے اپنے شہر کے اساتذہ سے کسب فیض کرنے کے بعد متعدد شہروں کا علمی سفر کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ اساطین علم وفن سے تعلیم حاصل کرسکیں۔آپ نے جن شہروں کا سفر کیا ان میں حجاز،بصرہ،کوفہ،بغداد،مصر اور جزیرہ وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔اور ان تمام شہروں میں آپ کے اساتذہ علیحدہ ہیں جن کا ذکر طوالت کا باعث ہے۔
(۱۰)اخلاق وعادات:
امام بخاری کا دل فطری طور پر خوف الہی،رحم وکرم اور عدل وانصاف سے پُر تھا۔آپ ایثار وقربانی کے خواہاں، مال ودولت کی بے جا محبت سے متنفر تھے۔آپ متقی،پرہیز گار اور غیبت وچغلی سے کوسوں دور تھے۔ان کا قول ہے کہ’’جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی۔‘‘آپ عبادت وبندگی میں سرتوڑ کوشش کرتے تھےاور اس تعلق سے اہل علم کے متعدد اقوال ہیں جو ان کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔امام بخاری کی بڑی صفت یہ بھی تھی کہ وہ حکمرانوں کی قربت اور چاپلوسی سے دور رہا کرتے تھے۔اور ان کا ماننا تھا کہ اکثر وبیشتر علماء حکمرانوں کی ہمسائیگی کی وجہ سے پھسل جاتے ہیں ان سے چوک ہوجاتی ہے،حق وناحق کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔
(۱۱)عام مسلمانوں کے دلوں میں قدر ومنزلت:
اللہ تعالی نے امام بخاری رحمہ اللہ کو محبوب خلائق بنایا تھا۔آپ جہاں بھی جاتے چاروں جانب سے لوگوں کی بھیڑ آپ کو مارے محبت کے گھیر لیتی تھی اور لوگ آپ کے کمالات واوصاف کو سن کر ایک نظر دیکھنے کے متمنی ہوتے تھے۔کبھی کبھار تو آپ کی محفل میں اتنی بھیڑ ہوتی کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہ بچتی۔جب آپ بخارا سے تعلیم مکمل کرکے لوٹے تو شہر والوں نے شہر سے دور آپ کا شاندار استقبال کیا اور آپ پر درہم ودینار برسائے۔امام مسلم رحمہ اللہ کہتے: جیسا آپ کا نیساپور میں استقبال ہوا ویسا کسی بھی عالم دین کا نہیں ہوا۔
(۱۲)شاگردان:
آپ کے شاگردان کی تعداد بے شمار ہے۔ان میں سے چند کے اسماء پر اکتفا کیا جاتا ہے:
امام مسلم بن حجاج
امام ابو عبد الرحمن نسائی
امام ابو عیسی ترمذی
امام محمد بن نصر مروزی
امام دارمی
امام ابن خزیمہ
یہ سب کے سب اپنے وقت کے محدث اور محقق گزرے ہیں۔
(۱۳)وفات:
وفات سے قبل امام بخاری اپنے شہر بخارا کے حاکم کی سازش کے شکار ہوئے،اس نے لوگوں کے دلوں سے آپ کی محبت کو کم کرنے کی کوشش کی،خلق قرآن کی تہمت آپ پر چسپاں کرنے کی مذموم سعی کی،اسی ضمن میں آپ کو بخارا چھوڑنے کو کہا گیا۔چنانچہ فتنوں کے باعث آپ بخارا سے سمرقند چلے گئے۔وہیں بیمار ہوئے اور چند دنوں کے بعد انتقال کرگئے۔
آپ کی وفات عید کی رات(یکم شوال) سنہ۲۵۶ ھ کو۶۲ سال کی عمر میں ہوئی۔
آپ کی مکمل زندگی علم وعبادت اور تدریس وتصنیف سے عبارت ہے۔آپ کی زندگی کا بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تصنیف وتالیف ہے جو قرآن مجید کے بعد دنیا کی سب سے صحیح کتاب ہے۔قرآن مجید کے بعد مسلمانوں میں جو قبولیت اس کتاب کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کتاب کے حصے میں نہ آسکی۔
 
Top