*گھروں میں اچھے نقوش چھوڑیئے*

ب🖊:صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

ایک لڑکے کو میں نے خواب میں دیکھا جسے میں پہچانتا ہوں، کہ وہ ایک گانے کی کتاب لئے پڑھ رہا ہے، پرانے سی کتاب، میں نے اس لڑکے سے پوچھا یہ کتاب کہاں سے تم کو ملی؟اس نے کہا یہ میرے والد صاحب کی تھی، مجھے یہ سن کر افسوس ہوا، اور خواب میں ہی، میں نے سوچا دیکھو اگر اس کے والد کوئی دینی کتاب یا دعاوں وغیرہ کی کتاب چھوڑ کر گئے ہوتے تو یہ بچہ اس کتاب سے استفادہ کرتا، خواب میں ہی میں نے کہا اس پر کچھ لکھنا چاہئے( یہ کہانی نہیں میرا سچا خواب ہے)
واقعی ہمیں چاہئے کہ مستقبل کے لئے اچھے نقش چھوڑیں، وہ نقش کتابوں کی شکل میں ہوں ، عمل کی شکل میں ہو، حسین یادوں کی شکل میں ہوں، سماج و معاشرے کی اصلاح کی شکل میں ہو، درس تدریس و تعلیمی نظام کی شکل میں ہو، حسین پل و تربیتی نصیحتوں و دعاوں کی شکل میں ہو، حقوق العباد و حقوق الله کی پابندی کی شکل میں ہو، بااخلاق و باکردار خصال پر مشتمل وعظ کی شکل میں ہو، غرضیکہ جس قدر ہو سکے حسین و جمیل اور کامیاب نقوش ثبت کرے گا، اتنی ہی کامیاب نسلیں جنم لیں گے، اور اس کا سہرا اس اچھے کام کی ابتدا کرنے والے کو بھی اتنا ہی ملے گا، اور رب کے یہاں مقام و مرتبہ بلند ہوگا۔
مسلم شریف کی ایک حدیث میں
نبی ﷺنے فرمایا : جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے پھر لوگ اس کے بعد اس کام پر عمل کریں تواس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی، اور جو اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہوگا۔
(صحیح مسلم ، حدیث نمبر : 6975)
 
Top