ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1607610643279.jpg

عبارت آرائی کا فتنہ

✍ ابو تقي الدین رحمی

شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - نے لکھا ہے:
"ومن هؤلاء من يكون حَسَنَ العبارة، فصيحًا، ويدسُّ البدعَ في كلامه، وأكثر الناس لايعلمون، كصاحب "الكشاف" ونحوه، حتى يروج على خلق كثير ممن لايعتقد الباطل من تفاسيرهم الباطلة ماشاء الله!"
یعنی "ایسے بھی مفسرین ہیں جو حسین عبارت لکھتے ہیں، فصاحت کے مالک ہیں اور اپنی تحریروں میں بدعتیں اس طرح چھپا دیتے ہیں کہ اکثر لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی، مصنفِ "کشاف" ہی کو دیکھو کس طرح ایسے لوگوں میں بھی باطل کو رواج دے دیتا ہے، جو باطل کے معتقد نہیں ہوتے".
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی مرحوم اس پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھا ہے:
"راقم عرض کرتا ہے، ہمارے زمانے کی بعض عربی تفسیروں اور بعض اردو تراجم وتفاسیر کا بھی یہی حال ہے کہ ساحرانہ انداز بیاں میں کج روی سمودی گئی ہے".
میں کہتا ہوں : علامہ مودودی مرحوم کی تفسیر "تفہیم القرآن" کو بھی بڑی احتیاط سے مطالعہ کرنا چاہئے، اس تفسیر میں بھی نہایت خطرناک عقدی غلطیاں موجود ہیں، لوگوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اور وہ مولانا کی فصاحت وبلاغت کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں!
کئی مثالیں اس سے پہلے پیش کر چکا ہوں، آج پھر ایک مثال قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں.
الله تعالیٰ کا ارشاد ہے :
{يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَىَّ‌ ؕ} [ص:75]
مولانا نے آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے :
"رب نے فرمایا: "اے ابلیس! تجھے کیا چیز اس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟... ".
پھر لکھا ہے :
"اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جسے میں نے خود بلاواسطہ بنایا ہے اس کے آگے جھکنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ "
یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن آگے لکھتے ہیں :
"-"دونوں ہاتھوں" کے لفظ سے غالباً اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شانِ تخلیق کے دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی بنا پر وہ حیوانات کے جنس میں سے ایک نوع ہے.
دوسرے یہ کہ اس کے اندر روح ڈال دی گئی جس کی بنا پر وہ اپنی صفات میں تمام ارضی مخلوقات سے اشرف وافضل ہو گیا".
قارئین کرام! میں یہاں زیادہ کچھ نہیں لکھونگا اس لئے کہ میں نے اپنی دو کتابوں ("اسما وصفات سے متعلق بعض قواعد" اور "اردو تراجم وتفاسیر کا علمی جائزہ") میں اس پر مفصل لکھا ہے، بس یہاں اتنا لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ:
1 - اس آیت اور دوسری بہت سی آیات واحادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں.
2 - بعض لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں.
ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس کے ہاتھ مانیں تو وہ ہمارے جیسا ہو جائے گا حالانکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں.
ان لوگوں کی بات درست نہیں کیونکہ یہ تو اس وقت ہوگا جب ہم کہیں کہ اس کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے ہیں، جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ ہیں مگر ہمارے جیسے نہیں، بلکہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی ہے.
3 - اس کے ہاتھوں کے انکار سے کئی احادیث اور قرآنی آیات کا انکار لازم آتا ہے.
4 - لہذا بڑی احتیاط سے ایسی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے.
 
Top