ذیشان خان

Administrator
کیا موذن کو اذان کی اجرت دی جا سکتی ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ایسے شخص کو موذن بناؤ جو اجرت نہ لے ۔ (صحیح ابو داؤد #٤٩٧) (1)
(2)حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی تو میں نے اذان کہی پھر جب میں نے اذان مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی ۔ (صحیح نسائی # ٦١٣)
ان دونوں احادیث میں تطبیق یوں دی گئی
"بلا شبہ اجرت حرام اس وقت ہے کہ جب مشروط ہو اور اگر بغیر مانگنے کے کچھ دیا جائے" (تو جائز ہے ) (نیل الاوطار #٥٢٥)
راحج بات
ایسا موذن مقرر کیا جائے جو اذان کہنے پر اجرت نہ لیتا ہو جیسا کہ حدیث میں ہے لیکن اگر ایسا کوئی میسر نہ ہو تو پھر اجرت پر بھی موذن رکھ لینا جائز ہے کیونکہ اوقات نماز سے آگاہی کے لئے موذن کی تقرری نہایت ضروری ہے اور اگر موذن کا سوائے اذان کے کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے تو اس کے لئے اجرت لینا اور اسے اجرت دینا محض جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے البتہ موذن کے لئے اجرت لینے میں کراہت کا پہلی بہر حال موجود ہے جیسا کہ امام خطابیؒ اور اکثر علماء کا یہی موقف ہے۔​
 
Top