ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: 26؍ ربیع الآخر؍ 1442 ھ، مطابق 11؍دسمبر ؍ 2020 عیسوی
خطیب: فضیلۃالشیخ ڈاکٹر حسین بن عبد العزیز آل الشیخ
موضوع: ایذا رسانی سے پرہیزکرنا۔
ترجمہ: نور عالم محمد ابراہیم سلفی

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو نیکو کاروں کا دوست ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی حق اور واضح معبود ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اُس کے چنندہ رسول اور برگزیدہ بندے ہیں۔ اے اللہ تو اُن پر، اور ان کے آل واصحاب پر جو کہ نیکی اور تقوی والے ہیں، درود وسلام نازل فرما۔
امابعد!
اے مسلمانو! میں خود کو اور آپ لوگوں کو اللہ تبارک وتعالی کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، یقینا اس کے تقوی میں بہت بڑی سعادت ہے، اور اس کی اطاعت میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوۡا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلاً سَدِيۡدًاۙ‏ ﴿۷۰﴾ يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡؕ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا‏ ﴿۷۱﴾
” اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو۔ (اس طرح) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو درست کردے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مان لیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی۔“ (احزاب: 70-71)۔
اللہ کے بندو!
خلقِ خدا کوناحق تکلیف پہنچانا یا تکلیف پہنچانے کا سبب بنناانسان کے لیے خطرناک ترین راستہ ہے، اور یقینا یہ شیطانی راستہ ہے جس کی ابتدا دشمنی پر مبنی ایسے اختلافات اور خونریز جھگڑوں سے ہوتی ہے جو کہ رحمت وشفقت اور نرمی وہمدردی سے خالی ہوتے ہیں۔
یقینا اللہ کی مخلوق کو تکلیف پہنچانا نہایت مذموم عادت ہے ،جس کی تہوں میں متعدد قسم کے مہلک جرائم پوشیدہ ہوتے ہیں۔
قول وفعل کے ذریعے دوسروں کی ایذا رسانی کے لیے وہی شخص خود کو بے لگام چھوڑ تا ہے جو کمزور ایمان کا مالک اور خواہشات کا غلام ہوتا ہے، اور وہ باطل اور برائی وبے حیائی پر ابھارنے والے نفس کے زیر ِ اثر ہوتا ہے۔
لہذا اے مسلمان! اپنے نفس کو دوسروں کی ایذا رسانی سے روکے رکھو اور اپنی خواہش پر کنٹرول رکھو تاکہ وہ تمہیں ہلاکت میں نہ ڈال دے، اگر تم نے ایسا کرلیا تو دنیا و آخرت میں امن وسلامتی اور نعمتوں سے سرفراز کیے جاؤگے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَيۡرِ مَا اكۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا‏ ﴿۵۸﴾
” اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بلاوجہ تکلیف دیتے ہیں انہوں نے بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا وبال اپنے آپ پر لیا ہے۔“ (احزاب: 58)۔
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمَنۡ يَّكۡسِبۡ خَطِيۡٓــَٔةً اَوۡ اِثۡمًا ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ بَرِيۡٓـًٔـا فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا‏ ﴿۱۱۲﴾
”اور جو گناہ یا خطا کرکے کسی بے گناہ کے ذمہ لگائے اس نے بڑا بہتان اٹھایا اور واضح گناہ کیا۔“ (نساء: 112)۔
اور ہمارے رسول ﷺ نے اپنے رب کی کتاب کو واضح کیا اور پوری تفصیل کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی ۔ اوپر بیان کی گئی آیات کی متواتر تفسیر میں دوسروں کو تکلیف پہنچانے اور ان پر ظلم وزیادتی کرنے کی سخت ممانعت اور شدید وعید آئی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہذا وہ اُس پر ظلم نہ کرنے، نہ اُسے حقیر سمجھے، اور نہ ہی اُسے ذلیل ورسوا کرے۔“ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔
اور انہوں نے ہی راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت والی حدیث بھی روایت کی ہے جس میں نبی ﷺ نے واضح کیا ہے کہ راستوں میں بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
اے مسلمان بھائی!
اپنی نیکیوں کی حفاظت کریں ، اپنے دین کو محفوظ رکھیں، اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے گریز کریں، اور ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ فضیل بن عیاض نے کہا کہ: ”جب تمہارے لیے کسی کتا یا خنزیر کو بھی ناحق تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے، تو بھلا سب سے باعزت مخلوق یعنی انسان کو کیسے تکلیف پہنچا سکتے ہو۔“
مسلمانو!
نبی ﷺ نے مسلمانوں کی ایذا رسانی سے سختی کے ساتھ روکتے ہوئے فرمایا: ”اے وہ لوگو جنہوں نے صرف زبان سے اسلام قبول کیا ہے، لیکن ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے، تم لوگ مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ، نہ اُنہیں عار دلاؤ اور نہ اُن کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو، کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑتا ہے، اللہ تعالی خود اس کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوجاتا ہے، اور جان لو کہ اللہ تعالی جس کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوجاتا ہے، اُسے رسوا کرکے چھوڑتا ہے اگرچہ وہ گھر کے اندر چھپا رہے۔“ (اسے ترمذی اور ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے)۔
قتادہ فرماتے ہیں: ”تم کسی مومن کو تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ اللہ تعالی اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور اُس کے لیے ناراض ہوتا ہے۔“
اے اللہ کے بندو!
دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچو، اور اپنے نفس کو ظلم وزیادتی سے روکو توتم رسوائی اور ہلاکت سے محفوظ رہوگے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)۔
نیز آپ نے یہ بھی فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔“ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)۔
اور مسلم کی روایت میں ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے شر سے اُس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے۔“
اسلامی بھائیو!
آج کے دور میں جس چیز کو ہم سوشل میڈیا کہتے ہیں، اور جسے کچھ لوگ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے، ان کے حکام، علما، عام لوگ اور اُن کے معاشرے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور ان وسائل کے ذریعے ہر جھوٹی بات اور گندی سازشوں کو نشر کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالی اُنہیں دیکھ رہا ہے، اور نیکیوں اور برائیوں کو ترازو میں تولا جائے گا، لہذا وہ مفلسی اور محرومی کی حالت میں اپنے رب سے ملاقات کرنے سے ڈریں، ہم اللہ تعالی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔
اللہ کے بندو!
مسلمانوں کی ایذا رسانی صرف افراد کو تکلیف پہنچانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے مشترکہ مفاد جیسےپبلک پراپرٹی وغیرہ کو نقصان پہنچانا بھی مسلمانوں کی ایذا رسانی میں شامل ہے۔اِس سلسلے میں نبی ﷺ کا یہ فرمان اسلام کا اصول ہے کہ : ”نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔“
نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”لعنت کو واجب کرنے والی دو چیزوں سے بچو؛ وہ شخص جو لوگوں کے راستے میں یا اُن کے سایے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔
اور طبرانی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کو ان کے راستے کے مسئلے میں تکلیف پہنچائے اُس پر اُن لوگوں کی لعنت واجب ہوجاتی ہے۔“
اس لیے اے میرے مسلمان بھائی آپ خود محفوظ رہیں، اور اپنی زبان اور قول وفعل کے ذریعے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانے سے گریز کریں، تو آپ دنیا و آخرت میں سعادت مند اور کامران رہیں گے۔
میں انہی کلمات سے اپنی بات ختم کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، یقینا وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ اگلے پچھلے تمام لوگوں کا معبود ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اُس کے بندے اور امانت دار رسول ہیں۔
اے اللہ تو اُن پر، اور ان کے آل واصحاب پر جو کہ نیکی اور تقوی والے ہیں، تاقیامت درود وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
امابعد!
اے مسلمان بھائی! اپنے نفس کو ظاہری وباطنی ہر اعتبار سے اور ہر قسم کی زیادتی کے ذریعے مسلمانوں کی ایذا رسانی سے محفوظ رکھنے کا عادی بنائیں، اور جان لیں کہ شرک وبدعت، بغض وحسد، کینہ کپٹ، اور مسلمانوں پر ظلم وزیادتی سے اپنے دل کو پاک رکھنانجات کا ذریعہ اور اہل جنت کی صفت ہے، اللہ تعالی اپنے بندے اور خلیل ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ لَا تُخۡزِنِیۡ یَوۡمَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾ یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾ اِلَّا مَنۡ اَتَی اللّٰہَ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾
”اور مجھے اس دن رسوانہ کرنا جب سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔جس دن نہ مال کوئی فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔ سوائے اُس کے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔“ (شعراء: 87-89)۔
اور اہل جنت کی صفات اپنائیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾
”اور ہم ان کے سینوں میں جو کینہ ہے وہ نکال دیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔“ (الحجر:47)۔
اس کے علاوہ بہت ساری صحیح احادیث میں مسلمانوں کے تئیں بغض وحسد اور عمدا ایذا رسانی سے اپنے دل کو صاف رکھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
انہی احادیث میں اُس انصاری صحابی کا قصہ بھی ہے کہ جب ان کے بارے میں نبی ﷺ نے جنت کی گواہی دی تو عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اِس کا راز جاننے کےلیے اُس صحابی کے گھر گیے اور تین دنوں تک ان کے گھر میں قیام کیا، لیکن اِس دوران اُنہوں نے اُن کو کبھی بھی قیام اللیل کرتے نہیں دیکھا، البتہ وہ جب بھی اپنے بستر پر کروٹ بدلتے تو اللہ کو یاد کرتے اور اللہ اکبر کہتے یہاں تک فجر کی نماز کے لیے اٹھتے اور کبھی بھی سوائے خیر کے کچھ نہیں کہتے۔ پھر عبد اللہ بن عمرو نے انہیں وہ بات بتائی جو اللہ کے رسول نے اُن کے بارے میں بتلایا تھا، تو انہوں نے اپنے عمل کے بارے میں بتایا کہ میرا کوئی خاص عمل نہیں ہے سوائے اس کے کہ میں اپنے دل میں کسی بھی مسلمان کے لیے کوئی کینہ نہیں رکھتا ، اور نہ ہی کسی پر اللہ کی نوازش کی وجہ سے اس سے حسد کرتا ہوں۔ تو عبد اللہ نے فرمایا: یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تم اس مقام تک پہنچے ، اور یہی وہ چیز ہے جو ہم سے نہیں ہوپاتی۔“
اے مسلمان بھائی! اپنے دل کو بغض وحسد اور ایذا رسانی سے صاف ستھرا رکھنے کا خود کو عادی بنائیں تو آپ خود دنیا وآخرت میں محفوظ رہیں گے۔
اللہ تعالی نے ہمیں اپنے نبی پر درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے،
اے اللہ! تو ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ پر درود وسلام اور برکتیں اور انعامات نازل فرما،
اے اللہ تو خلفائے راشدین، اور تمام آل واصحاب سے اور قیامت تک ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہوجا۔
اے اللہ تو مومن ومسلم زندہ ومردہ مرد وعورت کی مغفرت فرما!
اے اللہ تو ہمارے نفسوں کو تقوی عطا فرما، ان کا تزکیہ فرما، یقینا تو ہی ان کا سب سے بہتر تزکیہ کرنے والا ہے،
اے اللہ تو ہمارے دلوں کو بغض وحسد اور کینہ ونفرت سے پاک فرما، اے رب العالمین!
اے اللہ تو ہر جگہ مسلمانوں کی حفاظت فرما!
اے اللہ تو ہمارے اور تمام مسلمانوں کے غموں کو دور فرما! اے اللہ تو مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور فرما! اے اللہ تو اُن کی تکلیفوں کو ختم کردے، ان میں جو فقیر ہیں انہیں بے نیاز فرما، جو گمراہ ہیں انہیں ہدایت نصیب فرما!
اے اللہ تو تمام مسلم حکمرانوں کو خیر کی توفیق عطا فرما، اے اللہ تو انہیں اور ان کی رعایا کو خیر کی توفیق عطا فرما، اے زندہ وجاوید ذات!
اے اللہ تو ہمارے بادشاہ کو اپنی پسند اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عنایت فرما!
اے اللہ تو انہیں اور ان کے ولی عہد کو اپنی پسند اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما!
اے اللہ تو ہمارے اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما!
اے اللہ تو ہر جگہ ہماری فوجیوں کی مدد فرما!
اے اللہ تو انہیں بہتر بدلہ عطا فرما۔ اے اللہ تو انہیں ہماری اور تمام مسلمانوں کی طرف سے بہتر بدلہ عطا فرما!
اے تو ہمیں دنیا میں بہتری عطا فرما، اور آخرت میں بہتری عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
اے اللہ تو ہمیں وبا اور مصیبت سے محفوظ فرما!
اے اللہ ہم آزمائش کی پریشانی سے، بدبختی کے گڈھے سے، برے فیصلے سے، اور دشمن کی ہنسی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ ہم پر ، اور تمام انسانوں پر اس وقت جو مصیبت آپڑی ہے تو اسے دور فرما!
اے اللہ تو بے نیاز ہے، اے اللہ تو بے نیاز ہے، اے اللہ تو بے نیاز ہے، اور ہم تیرے محتاج ہیں،
اے اللہ تو بےنیاز ہے، اور ہم تیرے محتاج ہیں، اے اللہ تو بےنیاز ہے، اور ہم تیرے محتاج ہیں، اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ تو ہمارے ملک میں اور تمام مسلم ممالک میں بارش نازل فرما!
اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے روزی دینے والے!اے بے نیاز، اور اے قابل تعریف ذات!
اے اللہ توہمارے کمزوروں اور مسکینوں کے طفیل ہم پر بارش نازل فرما!
اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ تو ہم پر موسلا دھار ، خوشگوار، نفع بخش اور غیر ضرر رساں بارش نازل فرما! اے عظمت وجلال والے پروردگار!
اللہ کے بندو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو! اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو!
اور ہماری آخری دعا یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔
 
Top