ذیشان خان

Administrator
علم کے نام پر عمر ضائع کرنے والے طلبہ

✍⁩ ڈاکٹر شمس کمال انجم

ڈاکٹر عمر فروخ (۱۹۰۶ء- ۱۹۸۷ء) لبنان کے بہت بڑے ادیب، اسکالر اور محقق ومورخ تھے۔ کئی معرکۃ الآراء کتابوں سے انھوں نے عربی کے کتب خانے کو مالامال کیا ہے۔ انھوں نے اعلی تعلیم کے لیے جرمنی کا سفر کیا اور دو سال میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر وطن واپس آگئے۔ انھوں نے اپنی خود نوشت ’غبار السنین‘ میں لکھا ہے:
’’انھوں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس سال یعنی دوسال میں میری پڑھائی ختم ہوجائے گی اور تم یہاں تین سال سے ہو لیکن تمھیں ابھی تک پتہ ہی نہیں کہ تمھاری پڑھائی کب ختم ہوگی۔ اس نے کہا کہ اگر میں اپنی پڑھائی ختم کرکے اپنے ملک واپس جاؤں گا تو مجھے کوئی ایسی نوکری مل جائے گی جس کی تنخواہ ساڑھے بارہ جنیہ ہوگی جب کہ ابھی میرا ملک مجھے ہر ماہ پچاس جنیہ ادا کرتا ہے۔‘‘ (غبار السنین)
مجھے یہ اقتباس پڑھ کر مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم کااپنا زمانہ یاد آگیا۔مدینہ یونیورسٹی میں میرا داخلہ ہوا تو میں نے کلیۃ اللغۃ العربیۃ کا انتخاب کیا۔ ہر چندکہ کلیۃ اللغۃ میں ہندوستانی طلبہ کو بہت کم داخلہ دیا جاتا تھا۔ مجھ سے پہلے شاید ایک یا دو ہی طالب علم اس کلیے میں داخل ہوئے لیکن میری درخواست پر مجھے کلیۃ اللغۃ میں داخلہ دیاگیا۔ میں نے چار سالہ گریجویشن کا کورس مکمل کیا اور بی اے کی ڈگری لے کر افتاں وخیزاں وطن واپس آکر دہلی یونیورسٹی میں ایم اے عربی میں اور اس کے بعد پی ایچ ڈی میں داخل ہوگیااور محض اٹھارہ ماہ کی قلیل ترین مدت میں میں نے اپنا مقالہ جمع کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔
واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ جب مدینہ یونیورسٹی گئے تو ہمارے ساتھ اس وقت اور بھی لوگ تھے جن کا داخلہ وہاں ہوا تھا۔ ان میں سے بہت سارے ایسے طلبہ بھی تھے جو اپنے اپنے مدارس کے ممتاز طالب علم مانے جاتے تھے۔ اچھی خاصی عربی بھی جانتے تھے۔لیکن انھوں نے غیر عربی دانوں کو عربی سکھانے والے شعبے ’شعبۃ اللغۃ العربیۃ‘ کے تھرڈ لیول میں داخلہ لیا اور وہاں ڈیڑھ سال مکمل کرنے کے بعدکلیہ یعنی گریجویشن میں داخل ہوئے۔
ایک صاحب تو ہندوستان میں کسی مدرسے کے صدر بھی تھے۔ عربی درجات کے استاد تھے۔ انھوں نے کلیۃ الشریعہ میں داخلہ لیا۔ بعد میں انھیں احساس ہوا کہ چار سال بعد جب گریجویشن مکمل ہوگا توکیا بنے گا؟ یعنی وطن واپس ہونا پڑے گا۔ لہذا انھوں نے عربی نہ جاننے کا بہانہ بناکرغیر عربوں کو عربی سکھانے والے شعبے’شعبۃ اللغۃ العربیۃ‘ میں اپنا ٹرانسفر کرالیااور تیسرے مستوی (تھرڈ لیول) میں داخل ہوکر گویا یونیورسٹی میں اپنی زندگی کے ڈیڑھ سال کا اضافہ کرالیا۔ ایک اور صاحب تھے جو بہت ذہین وفطین اور ممتاز طالب علم تھے۔ ان کا بھی کچھ ایسا ہی قصہ ہے۔ وہ شعبے کے ڈائرکٹر دکتور ف عبد الرحیم کے پاس گئے اور کہا کہ انھیں عربی نہیں آتی۔ دکتور ف نے ان سے اٹک اٹک کر سوال وجواب کیا۔ انھوں نے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ جیسے کہ وہ عربی جانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ وہ عربی خوب جانتے تھے۔ چنانچہ دکتور ف نے انھیں بھی شعبے کے تھرڈ لیول میں داخل کردیا۔ان کے جیسے اور بھی کئی طلبہ اسی طرح شعبے میں داخل ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ سال مستی کرتے ہیں اور پھر کلیہ میں آتے ہیں اور چار سال کا کورس ایک دو مضامین میں فیل ہوکرپانچ اور چھ سال میں مکمل کرتے ہیں۔ اور سات ،آٹھ یا پھر دس سال بعد ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ عمر فروخ کے ساتھی کی طرح وہ بھی کہتے ہیں کہ میں یہاں شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مقیم ہوں۔ یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہوں۔ اچھاخاصہ مکافاہ (اسکالر شپ) مل رہا ہے۔ میں اگر جلدی جلدی کورس ختم کرکے اپنے وطن واپس جاؤں گاتو میری نوکری کے بھی لالے پڑ جائیں گے۔
بہت سارے لوگ اس طرح کے منحہ دراسیہ (اسٹڈی اسکالرشپ) کو اپنی زندگی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ انسان اگر نیک نیتی کے ساتھ تعلیم حاصل کرے۔ اپنے اندر اپنے مضمون کی گہری سمجھ اور صلاحیت پیدا کرے۔ نیک نیتی سے کام لے تو وہ خواہ کہیں بھی رہے اس کے لیے دروازے بند نہیں ہوتے بلکہ کھلتے چلے جاتے ہیں۔ میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوا۔ اللہ رب العزت نے مجھ پر اپنی عطا اور اپنی عنایتوں کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔ مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد ایک بھی دن ضائع کیے بغیر میں ہندوستان واپس آگیا۔ جب کہ میرے کئی ساتھی کہہ رہے تھے کہ ہمیں جانا ہی ہے تو ہم بعد میں جائیں گے کچھ روز اور مدینے سے استفادہ کرلیں۔ مگر میرا ایک ہی مقصد تھا کہ مجھے بی اے کے بعد ایم اے کرنا ہے۔ مدینے میں نہ سہی اپنے وطن میں ہی سہی۔ چنانچہ اللہ تعالی اپنے کرم سے نوازتا رہا۔میں ابھی پڑھ ہی رہا تھا کہ میرے لیے ایک دروازہ اور کھلا گلف میں پرماننٹ ملازمت کا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی وہاں بھیجاگیا مگر استعفا دے کر واپس آگیا۔ اپنی ہی مادر علمی دہلی یونیورسٹی میں استاد بن گیا۔ ایک سال وہاں خدمات انجام دیں اوراس کے بعد راجوری آگیا اور یہاں گزشتہ پندرہ برسوں سے علم وادب کی خدمت کررہا ہوں۔یہاں بہت کچھ سیکھا اور اپنی چھوٹی موٹی جوئے علم سے تشنگان ادب کو سیراب کرتا رہا۔
علم در اصل سیکھا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس سے دوسروں کو فیض پہنچایا جائے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہ کر اپنی صلاحیت اور استعداد سے خلق خدا کومستفید کرکے صدقۂ جاریہ کا سبب بنا جائے۔ آپ اپنی نیت درست رکھیں اللہ آپ کو کبھی محروم نہیں کرے گا۔ان شاء اللہ
 
Top