استغفار کی اہمیت
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
----------------------------------------------
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قرآن مجید میں استغفار کا حکم دیا ہے:
وَٱسۡتَغۡفِرُوا۟ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمُۢ﴾ [المزمل ٢٠]

استغفار پیغمبروں کی سنت ہے:
آدم و حواء علیہما السلام نے اللہ سے استغفار کیا:
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ﴾ [الأعراف ٢٣]

نوح علیہ السلام کا استغفار:
رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِی وَلِوَ ٰ⁠لِدَیَّ وَلِمَن دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنࣰا وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِینَ إِلَّا تَبَارَۢا﴾ [نوح ٢٨]

ابراہیم علیہ السلام کا استغفار:
وَٱلَّذِیۤ أَطۡمَعُ أَن یَغۡفِرَ لِی خَطِیۤـَٔتِی یَوۡمَ ٱلدِّینِ[الشعراء:٨٢]

موسی علیہ السلام کا استغفار:
قَالَ رَبِّ إِنِّی ظَلَمۡتُ نَفۡسِی فَٱغۡفِرۡ لِی فَغَفَرَ لَهُۥۤۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ.[القصص:16]

داؤد علیہ السلام کا استغفار:
وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّ رَاكِعࣰا وَأَنَابَ۔[ص: ٢٤]

سلیمان علیہ السلام کا استغفار:
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِی وَهَبۡ لِی مُلۡكࣰا لَّا یَنۢبَغِی لِأَحَدࣲ مِّنۢ بَعۡدِیۤۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ . [ص:٣٥]

یونس علیہ السلام کا استغفار:
وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَـٰضِبࣰا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَیۡهِ فَنَادَىٰ فِی ٱلظُّلُمَـٰتِ أَن لَّاۤ إِلَـٰهَ إِلَّاۤ أَنتَ سُبۡحَـٰنَكَ إِنِّی كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِینَ﴾ [الأنبياء ٨٧]

یعقوب علیہ السلام کا استغفار:
قَالُوا۟ یَـٰۤأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَاۤ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔینَ ۔ قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّیۤۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ۔ [يوسف ٩٧-٩٨]

پیغمبروں نے اپنی قوم کو استغفار کی دعوت دی:

ہود علیہ السلام نے دعوت دی:

وَیَـٰقَوۡمِ ٱسۡتَغۡفِرُوا۟ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوۤا۟ إِلَیۡهِ یُرۡسِلِ ٱلسَّمَاۤءَ عَلَیۡكُم مِّدۡرَارࣰا وَیَزِدۡكُمۡ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا۟ مُجۡرِمِینَ﴾ [هود ٥٢]

صالح علیہ السلام نے دعوت دی:
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَـٰلِحࣰاۚ قَالَ یَـٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَـٰهٍ غَیۡرُهُۥۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِیهَا فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوۤا۟ إِلَیۡهِۚ إِنَّ رَبِّی قَرِیبࣱ مُّجِیبࣱ﴾ [هود ٦١]

شعیب علیہ السلام نے دعوت دی:
وَٱسۡتَغۡفِرُوا۟ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوۤا۟ إِلَیۡهِۚ إِنَّ رَبِّی رَحِیمࣱ وَدُودࣱ﴾ [هود ٩٠]

اللہ نے اپنے نبی کو استغفار کا حکم دیا:
وَٱسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورࣰا رَّحِیمࣰا۔ [النساء :١٠٦]

﴿فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِۗ وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ﴾ [محمد ١٩]

فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا.[النصر : ٣]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ نے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے تھےلیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے انعام و احسان کے شکریہ میں کثرت سے استغفار کرتے تھے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ دن اور رات میں ستر سے زائد مرتبہ استغفار کرتے تھے:
واللَّهِ إنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وأَتُوبُ إلَيْهِ في اليَومِ أكْثَرَ مِن سَبْعِينَ مَرَّةً.
(صحيح البخاري ٦٣٠٧ )
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ دن بھر میں سو مرتبہ استغفار کرتے تھے:
إنَّه لَيُغانُ على قَلْبِي، وإنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، في اليَومِ مِئَةَ مَرَّةٍ.
(صحيح مسلم ٢٧٠٢)

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں سو سو مرتبہ استغفار کرتے تھے:
عنِ ابنِ عمرَ، قالَ: إن كنّا لنعدُّ لرسولِ اللَّهِ ﷺ في المَجلِسِ الواحدِ مائةَ مرَّةٍ:
ربِّ اغفر لي، وتُب عليَّ، إنَّكَ أنتَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
(صحيح أبي داود ١٥١٦)

مرض الموت میں وفات سے پہلے آپ نے اللہ تعالیٰ سے استغفار کی:
[عن عائشة أم المؤمنين:] أنَّها سَمِعَتِ النبيَّ ﷺ وأَصْغَتْ إلَيْهِ قَبْلَ أنْ يَمُوتَ، وهو مُسْنِدٌ إلَيَّ ظَهْرَهُ يقولُ:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي وارْحَمْنِي، وأَلْحِقْنِي بالرَّفِيقِ.
(صحيح البخاري ٤٤٤٠)

اللہ نے استغفار کے لئے جلدی کرنے کا حکم دیا اور اسے متقیوں کی صفت قرار دیا ہے:
وَسَارِعُوۤا۟ إِلَىٰ مَغۡفِرَةࣲ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تُ وَٱلۡأَرۡضُ أُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِینَ .ٱلَّذِینَ یُنفِقُونَ فِی ٱلسَّرَّاۤءِ وَٱلضَّرَّاۤءِ وَٱلۡكَـٰظِمِینَ ٱلۡغَیۡظَ وَٱلۡعَافِینَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ یُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِینَ.
وَٱلَّذِینَ إِذَا فَعَلُوا۟ فَـٰحِشَةً أَوۡ ظَلَمُوۤا۟ أَنفُسَهُمۡ ذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ فَٱسۡتَغۡفَرُوا۟ لِذُنُوبِهِمۡ وَمَن یَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمۡ یُصِرُّوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلُوا۟ وَهُمۡ یَعۡلَمُونَ﴾
[آل عمران:١٣٣-،١٣٥]

استغفار اولیاء اور صالحین کی صفت ہے:
ٱلصَّـٰبِرِینَ وَٱلصَّـٰدِقِینَ وَٱلۡقَـٰنِتِینَ وَٱلۡمُنفِقِینَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِینَ بِٱلۡأَسۡحَارِ
[آل عمران ١٧]

جب کوئی اسلام لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز سکھاتے اور یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے:

كانَ الرَّجُلُ إذا أَسْلَمَ، عَلَّمَهُ النبيُّ ﷺ الصَّلاةَ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بهَؤُلاءِ الكَلِماتِ:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وارْحَمْنِي، واهْدِنِي، وَعافِنِي وارْزُقْنِي.
(صحيح مسلم ٢٦٩٧ )

استغفار کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ نماز کی اکثر دعائیں استغفار پر مشتمل ہیں:

دعاء استفتاح:
اللَّهُمَّ باعِدْ بَيْنِي وبيْنَ خَطايايَ، كما باعَدْتَ بيْنَ المَشْرِقِ والمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطايا كما يُنَقّى الثَّوْبُ الأبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطايايَ بالماءِ والثَّلْجِ والبَرَدِ.
(صحيح البخاري ٧٤٤)

رکوع اور سجدے کی دعا:
سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنا وبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي يَتَأَوَّلُ القُرْآنَ.
(صحيح البخاري ٨١٧)

دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا:
اللَّهُمَّ اغفِرْ لي وارحَمْني، وعافِني واهْدِني وارزُقْني
(سنن أبي داود ٨٥٠ )

تشہد میں سلام سے پہلے استغفار کی دعا:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما قَدَّمْتُ وَما أَخَّرْتُ، وَما أَسْرَرْتُ وَما أَعْلَنْتُ، وَما أَسْرَفْتُ، وَما أَنْتَ أَعْلَمُ به مِنِّي، أَنْتَ المُقَدِّمُ وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ، لا إلَهَ إلّا أَنْتَ.
(صحيح مسلم ٧٧١ )

سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ استغفار:
كانَ رَسولُ اللهِ ﷺ، إذا انْصَرَفَ مِن صَلاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاثًا وَقالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبارَكْتَ ذا الجَلالِ والإِكْرامِ. قالَ الوَلِيدُ: فَقُلتُ لِلأَوْزاعِيِّ: كيفَ الاسْتِغْفارُ؟ قالَ: تَقُولُ:
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
(صحيح مسلم ٥٩١)

خلاصہ کلام:
مذکورہ تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام میں استغفار کی بڑی اہمیت ہے، مومن بندے کو چاہئے کہ دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرنے اور ہر قسم کے غم وفکر ،رنج والم اور آفات و مصائب سے محفوظ رہنے کے لئےاپنی زندگی میں کثرت سے استغفار کرے، استغفار کو زندگی کا معمول بنالے، اسی میں ہماری دنیوی و اخروی کامیاب کا راز مضمر ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
----------------------------------------------
13/دسمبر 2020، بروز اتوار
شیخ ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
 
Top