ذیشان خان

Administrator
امام ملا علی قاری رحمہ اللہ کے عقائد کے تعلق سے چند تحقیقی باتیں۔

✍ مامون رشید ہارون رشید سلفی.

امام علی بن سلطان معروف بہ ملا علی قاری حنفی جن کا پورا نام أبو الحسن علی بن سلطان محمد نور الدين الملا الهروی القاری المکی تھا ایک مشہور و معروف محدث و فقیہ،جلیل القدر مفسر، علم قرأت کے متخصص، کہنہ مشق فلسفی اور جامع معقول ومنقول شخصیت تھے،ہرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے ہروی کہلائے اس کے بعد جب مکہ معظمہ ہجرت کر کے آ گئے تو اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے مکی بھی کہے جانے لگے اور چونکہ آپ علم قرأت کے متخصص تھے اس لیے قاری کے لقب سے مشہور ہوئے آپ رحمہ اللہ کی ولادت سنہ 930 ہجری میں ہوئی, اپنے آبائی وطن ہرات ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی قرآن کریم حفظ کیا اور علم تجوید میں مہارت حاصل کی آپ نے اساتذہ کی ایک کثیر تعداد سے کسب فیض کیا جن میں امام احمد بن حجر ہیثمی مکی، علی متقی ہندی، علامہ ابو الحسن بکری،شیخ عبد اللہ سندی، شیخ قطب الدین مکی وغیرہم مشہور ہیں...آپ ایک عابد وزاہد متقی وپرہیزگار کم گو اور قناعت پسند و کفایت شعار انسان تھے لوگوں سے بہت کم ملتے جلتے تھے اپنی ہاتھ کی کمائی سے گزارا کرتے اور اسی پر خوش رہتے تھے.. آپ نے متعدد کتابیں تصنیف فرمائی جن میں سے "تفسير القرآن" "مرقاة المفاتيح" "شرح نخبة الفكر" "الفصول المهمة" "شرح مشكلات الموطأ" "بداية السالك" "شرح الحصن الحصين" "شرح الأربعين النووية" "ضوء المعالي" "شم العوارض في ذم الروافض" "فيض المعين" اور ابن عربي کی كتاب "فصوص الحکم" اور وحدت الوجود کے قائلین کی تردید میں ایک رسالہ لکھا ...اس کے علاوہ بھی آپ کی بہت ساری کتابیں اور چھوٹے بڑے رسائل ہیں...آپ کی وفات صحیح قول کے مطابق سنہ 1014 میں ہوئی ہے... رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
(تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں:"الأعلام" للزركلي (5/12-13)"التعليق الصبيح على مشكاة المصابيح" للكاندهلوي (ص6) "التعليقات السنية" للكنوي (ص8-9) "الملا علي القاري فهرس مؤلفاته وما كتب عنه" لمحمد عبد الرحمن الشماع )

آپ کے اندر بہت سارے اچھے اوصاف میں سے ایک وصف یہ بھی تھا کہ آپ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم رحمہما اللہ کی حمایت اور ان کا دفاع کرتے تھے دیگر حنفیوں کی طرح ان کے خلاف زبان طعن دراز نہیں کرتے تھے...

ملا علی قاری کے عقائد کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے سے قبل یہ جان لینا مفید ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی تعطیل کے کئی مراتب اور درجات ہیں:
پہلا درجہ:سرے سے اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات کا انکار جیسا کہ جہمیہ کا طریقہ ہے.
دوسرا درجہ: اسماء باری تعالیٰ کا اثبات اور صفات الہیہ کا کلی انکار جو کہ معتزلہ کا عقیدہ ہے.
تیسرا درجہ:کل اسماء باری تعالیٰ کا اثبات اور صفات الہیہ میں سے سات صفات کے علاوہ بقیہ سب کا انکار جو کہ اشاعرہ وماتریدیہ کا طریقہ ہے... قاری صاحب بہت سارے امور اعتقادیہ میں اشاعرہ وماتریدیہ کے موافق ہیں.

ملا علی قاری کے عقائد:
(1) ملا علی قاری رحمہ اللہ نے عقائد کے باب میں تفوق حاصل کرنے کی راہ میں بھی بڑی کوششیں کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے اور مکمل طور پر منہج سلف صالحین کے مطابق اسے سیکھنے سے قاصر رہے اس لیے وہ عقائد کے باب میں تذبذب کے شکار نظر آتے ہیں کبھی سلف کی موافقت کرتے ہیں تو کبھی اشاعرہ کی، کبھی ماتریدیہ کی ہم نوائی کرتے ہیں تو کبھی مفوضہ کی...لیکن چونکہ عموما احناف عقائد واصول میں ماتریدی ہیں اس لیے ماتریدیت کی جانب رجحان غالب نظر آتا ہے....اس لیے دیکھنے میں آتا ہے کہ کبھی وہ سلف کا دفاع کرتے ہیں تو کبھی اشاعرہ و ماتریدیہ کا اور اس کے لیے نصوص صریحہ صحیحہ کی تاویل سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں...

(2) ملا علی قاری رحمہ اللہ بھی عام متکلمین اور جمہور احناف کی طرح عقائد کے باب میں اخبار آحاد کو حجت نہیں سمجھتے ہیں.
(3) ملا علی قاری رحمہ اللہ کتاب و سنت کے علاوہ طرق صوفیہ پر چل کر محبت الہی کے حصول کو جائز سمجھتے ہیں...جو کہ سراسر بدعات و خرافات پر مشتمل ہوتے ہیں.

(4) قاری صاحب مساجد ثلاثہ کے علاوہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے شد رحال کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس کے استحباب پر اجماع کے مدعی ہیں اور قبر نبوی کے وسیلے سے دعا مانگنے کو بھی جائز تصور کرتے ہیں.

(5) قاری صاحب انبیاء اولیاء اور صالحین سے تبرک حاصل کرنے کو جائز سمجھتے ہیں.

(6) قاری صاحب اسماء و صفات کے باب میں اہل سنت کے بر خلاف اسم باری تعالیٰ کو عین ذات باری تعالیٰ تصور کرتے ہیں.

(7) قاری صاحب کہتے ہیں کہ اسماء و صفات کے باب میں تفویض جمہور سلف کا عقیدہ ہے حالانکہ یہ سرار غلط ہے سلف صالحین بالکلیہ تفویض کے قائل نہ تھے بلکہ معانی پر ایمان رکھتے تھے اور کیفیت کی تفویض کرتے تھے.

(8) قاری صاحب سمجھتے ہیں کہ سلف صالحین نے آیات واحادیث صفات کی تاویل سے کام لیا ہے...حالانکہ یہ سرار بہتان ہے.

(9) ملا علی قاری رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے صفت علو کا انکار کرتے ہیں جو کہ دلائل کتاب و سنت اور اہل سنت و جماعت کے منہج کی صریح خلاف ورزی ہے...

(10) قاری صاحب صفت کلام کو تو ثابت مانتے ہیں لیکن اس کی تفسیر ماتریدیہ واشاعرہ کی طرح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کلام الہی کا مطلب وہ معنی ہے جو حرف اور آواز کے بغیر نفس کے اندر پیدا ہوتا ہے... یہ تفسیر بھی اہل سنت کی تفسیر کے خلاف ہے.

(11) قاری صاحب صفات کے باب میں تفویض جائز سمجھتے ہیں جو سلف کے منہج کے خلاف ہے.
ان کے علاوہ اور چند چیزیں ہیں جن میں آپ اہل سنت کے مخالف ہیں ورنہ بقیہ امور میں آپ کا عقیدہ وہی ہے جو اہل سنت و جماعت کا ہے...

شیخ شمس الدین افغانی نے اپنی کتاب "الماتریدیۃ" کے اندر لکھا ہے کہ آپ ماتریدی تھے اور کچھ تفصیلات بھی بیان فرمائی ہے تفصیلات کے لیے اس کا مراجعہ مفید رہے گا.

اللہ رب العالمین اپ کی لغزشوں کو معاف فرمائیں اور ہمیں اپ کی زندگی سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
 
Top