امانت داری بہت ہی معزز صفت ہے
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اس نے امانت کی ادائیگی کا اس کے اہل کو حکم دیا، ہم اس کے اس انعام اور اس فضل پر اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اور کما حقہ اس کی ادائیگی کے لئے، اللہ سے مدد چاہتے ہیں، اور اپنی کوتاہیوں کیلئے اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔
بیشمار درود و سلام نازل ہوں الصادق الامین نبی محترم ﷺ پر،آپ اصحاب اور آپ کی اتباع کرنے والے تمام لوگوں پر ۔

اللہ بندو! تقویٰ اختیار کرو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو بجا لاو، یاد رکھو امانت کو اللہ رب العالمین نے زمین و آسمان پر پیش کیا مگر وہ ڈر گئے اور اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا، انسان اس کی عظمت اور اس کے حقوق سے جاھل تھا، نادان تھا اور اس نے اس بوجھ کو اٹھا لیا۔
اللہ تعالی فرماتا ہے: اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَـهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْـهَا وَحَـمَلَـهَا الْاِنْسَانُ ۖ اِنَّهٝ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا (الاحزاب 72)
ہم نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے امانت پیش کی پھر انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور اسے انسان نے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم بڑا نادان تھا۔
اسلامی بھائیو! امانت یہ انسانوں میں سب سے مکرم انبیاء اور ان کے سردار محمد ﷺ کی صفت ہے، کفار مکہ نے آپ کی بعثت سے پہلے آپ کی امانت کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو الامین کا لقب دیا، اللہ تعالی نے اپنی کتاب کریم کے اندر مومنین کی اس عظیم صفت امانت کا ذکر کیا ہے، اللہ تعالی نے سورۃ المومنون میں کامیاب مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا : وَالَّـذِيْنَ هُـمْ لِاَمَانَاتِـهِـمْ وَعَهْدِهِـمْ رَاعُوْنَ (8)
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدہ کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔
اللہ تعالی نے امانت کی ادائیگی اور اس کے حق کو ہمارے اوپر فرض قرار دیا ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓى اَهْلِها (النساء 58)
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو۔
اور ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں وصیت کی ہے کہ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ) . رواه الترمذي (1264) وصححه الألباني ۔ جس کی امانت تمہارے پاس ہے انہیں واپس لوٹا دو، اور اگر کوئی خیانت کرے تو تم خیانت مت کرو،
اللہ کے بندو! امانتوں کی پاسداری کرو، امانت اور ایمان یہ دونوں جدا نہیں ہو سکتے، بلکہ اللہ نے امانت کو ایمان کی علامت بتلائی ہے ۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: لا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، ” جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں ۔( رواہ احمد والمنذری و صححہ الالبانی)
اسی طرح سے اللہ کے نبی ﷺ نے امانت کو ضائع کرنے اور اس کے اندر خیانت کرنے کو نفاق کی نشانی بتلائی ۔ حدیث شریف میں ہے : عن ابي هريرة، عن النبي ﷺ قال: آية المنافق ثلاث، إذا حدث كذب، وإذا وعد اخلف، وإذا اؤتمن خان"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
امانت کو ضائع کرنا یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بھی ہے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا فَإِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ، جب امانت داری دنیا سے اٹھ جائے تو قیامت کا انتظار کرو ۔
مسلمانوں اللہ آپ پر رحم فرمائے، یاد رکھو! امانت ہر چیز میں داخل ہے چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات ہوں، اللہ کا یہ دین "اسلام" امانت ہے، اللہ کی کتاب قرآن کریم امانت ہے، اس کی دعوت و تبلیغ امانت ہے ۔
اسی طرح سے تمام فرض عبادات امانت ہیں۔
لھذا صلاة( نماز ) یہ ہماری گردنوں میں امانت ہے۔ اس لئے اس کے اوقات کی پابندی، تمام شروط کی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی مومن کے لئے ضروری ہے۔
اسی طرح سے زکوة امانت ہے، صیام (روزہ) ہمارے اور اللہ کے درمیان امانت ہے، حج بھی امانت ہے ۔
ایمانداری، عھد اور وعدے کی پابندی، لوگوں کے درمیان خریدو فروخت یہ ساری چیزیں امانت ہیں، تربیت اولاد بھی امانت ہے، یہ صحت آنکھ، کان، ناک، دل و دماغ یہ اللہ کی امانت ہیں ۔
اور عنقریب قیامت کے دن ہم سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔
ارشاد ربانی ہے: اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُـوْلًا ( الاسراء ۔36)
بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
اسی لئے اللہ رب العالمین نے امانت میں خیانت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَخُوْنُوا اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُـوٓا اَمَانَاتِكُمْ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (27)
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور آپس کی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو حالانکہ تم جانتے ہو۔
اور سب سے بڑی خیانت اللہ کے مومن بندوں کی ہے جو ان کے مال کو باطل طریقے سے کھاتے ہیں، جھوٹ بول کر، دھوکہ دہی کر کے ۔
اسی طرح سے عمومی ذمہ داریوں کا مالک ہونا بھی امانت ہے، جیسے قاضی، تعلیم اور صحت وغیرہ کے عہدوں پر فائز ہونا، یہ ساری چیزیں امانت ہیں۔
ابو ذرّ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ۔
«قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي؟ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا»
’’میں نے عرض کیا: اللّٰہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے (کوئی ذمہ داری دے سکتے ہیں) ؟ تو آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: ’’ابوذر! تم کمزور ہو، اور یہ (امارت) امانت ہے اور قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہو گی، مگر وہ شخص جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس میں جو ذمہ داری اس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا۔ )وہ شرمندگی اور رسوائی سے مستثنیٰ ہو گا)‘‘
اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
منِ استعملناهُ على عملٍ فرزقناهُ رزقًا فما أخذَ بعدَ ذلِكَ فَهوَ غُلولٌ(صحيح أبي داود:2943(
جس کو ہم نے کسی کام پر مقررکردیا اور اس کے معاش کا بھی انتظام کردیا اسکے بعد جوکچھ لے گا وہ خیانت ہوگی۔
نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو بنی سلیم میں صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا یہ آپ کیلئے ہے ( صدقہ ہے جس کے لئے آپ نے مجھے بھیجا تھا ) اور یہ مجھے ھدیہ ملا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر سچے ہو تو بتاؤ !
کیا تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں بیٹھا رہتا تو وہ تجھے یہ دیتا ؟ یعنی آپ نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔
لہذا اے مسلمانو! امانت کی ادائیگی کا خیال رکھو، اور خیانت سے بچتے ہوئے اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی کے لئے کام کرو
اللہ تعالی ہم سب کو امانت کی حفاظت اور اس کی پاسداری کی توفیق بخشے۔ آمین ۔
 
Top