✍⁩ ہدایت اللہ فارس
-----------------------------------------------------------------------
غفور۔۔۔۔۔ گناہ بخشنے والا
یہ " غفار" کی طرح مبالغہ کے معنی رکھتا ہے مگر " غفار " میں تکرار کے معنی ہیں ( یعنی بار بار بخشنے والا) اور " غفور " میں کمال اور تمام کے۔۔ یعنی تمام گناہوں کو بخشنے والا۔
( الغزالي بحواله تشريح الأسماء الحسنى،ص : ٨٤)
یہ اسم مبارک تنہا قرآن مجید میں (٩١) مرتبہ واقع ہوا ہے۔
اور " رحیم " کے ساتھ (٧٥) مرتبہ ، اسم " عزیز کے ساتھ (٢) مرتبہ، اسم " عفو" کے ساتھ (٥) مرتبہ، اسم " شکور " کے ساتھ (٢) مرتبہ ، اسم " حلیم " کے ساتھ ایک مرتبہ، اسم " ودود" کے ساتھ ایک مرتبہ اور صفت " ذوالرحمة " کے ساتھ ایک مرتبہ وارد ہوا ہے

شيخ ابن عثيمين رحمه الله لکھتے ہیں:
" غفور " مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہ غفر سے ماخوذ ہے جو کہ " بچاؤ کے ساتھ پردہ " سے عبارت ہے، اور یہ غفر یغفر مغفر سے ماخوذ ہے۔ مغفر (خود) ایک ایسی چیز ہے جسے فوجی جنگ کے دوران تیروں وغیرہا سے بچنے کے لیے سر پر پہنتا ہے۔ اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں، ایک تو سر چھپ جاتا ہے دوسرے تیروں سے محفوظ رہتا ہے، اس اعتبار سے " الغفور " وہ ہے جو اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور پھر معاف کرکے انہیں ان کی سزاؤں سے بچاتا ہے ۔ اس معنی کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے: " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کے ساتھ علیحدگی میں جاکر اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرواتے ہوئے فرمائے گا: تو نے یہ عمل کبھی کیا ، تونے یہ گناہ بھی کیا ۔۔۔۔۔یہاں تک کہ وہ سب کا اقرار کرلے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کہے گا : میں نے دنیا میں تیرے یہ گناہ چھپائے رکھا اور آج میں انہیں معاف کرتا ہوں " (صحیح بخاری: ٢٤٤١ ۔ صحیح مسلم : ٢٧٦٨)

دوسری جگہ لکھتے ہیں : " غفور" مبالغہ کے لئے اسم فاعل ہے یا صفت مشبہ ۔ دوسری صورت میں یہ صفت لازم ثابت پر دلالت کرتی ہے جو کہ صفت مشبہ کا تقاضا ہے، جبکہ پہلی صورت میں یہ صیغہ تکثیر کی طرف محول ہے، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی کثرت کے ساتھ معاف فرمایا کرتا ہے ۔
ہمارے نذیک یہ صیغہ دونوں چیزوں کا جامع ہے، یہ صفت مشبہ بھی ہے، اس لیے کہ مغفرت اللہ تعالیٰ کی دائمی صفت ہے، نیز یہ ایسا فعل بھی ہے جو اس کی طرف سے بکثرت واقع ہوا کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کس قدر زیادہ اور کس قدر باعظمت ہے ۔

رحیم۔۔۔۔ نہایت رحم کرنے والا، ہمہ گیر رحمت والا
یہ بھی اسم فاعل اور مبالغہ کے صیغہ کی طرف محول ہے، " رحم " سے اسم فاعل تو " رحیم " آتا ہے، مگر رحمت باری تعالی کی کثرت وسعت اور مرحومین کی کثرت کی وجہ سے اسے مبالغہ کے صیغہ " رحیم" میں تحویل کردیا گیا ۔
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں اسموں کو ایک ساتھ ذکر کیا اس لیے کہ یہ دونوں ملتے جلتے معنی پر دلالت کرتے ہیں۔
مغفرت باری تعالی مکروب اور گناہ کے آثار کے زوال کا پیغام لے کر جبکہ رحمت ایزدی حصول مطلوب کی بشارت لے کر آتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا : " تو میری رحمت ہے میں تیرے ساتھ جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ ( صحیح بخاری ٤٨٥٠ ۔ صحیح مسلم ٢٨٤٥ )
(شرح العقيدة الواسطية ص ٣٤٤)
رحیم۔۔۔ قرآن مجید میں (١١٤) مرتبہ آیا ہے

اسے بھی پڑھیں👇
(شیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کے ایک مضمون سے اقتباس)
غفور اور رحیم میں ربط ہے
غفور ،غفر سے ہے۔ اس کا معنی،
چھپانا ،ہے
اور جو چیز چھپاتی ہے وہ قریب بھی رہتی ہے اور شفیق بھی
جیسے۔ مغفر،خود ،کو کہتے ہیں
یہ سر کو چھپاتا بھی ہے اور سر کے قریب بھی رہتا ہے اور شفیق بھی
اسی طرح،رحیم،رحم سے ہے اور رحم کا معنی بچہ دانی،ہوتا ہے
اور بچہ دانی بچہ کو چھپائے بھی رہتی ہے اور اس کے قریب بھی رہتی ہے اور اس پر شفیق بھی ہوتی ہے۔
 
Top