ذیشان خان

Administrator
کیا اسلام صرف چودہ سو سال پرانا ہے؟؟

ازقلم : حسان عبد الغفار

اسلام وہ دین ہے جسے اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے لئے منتخب فرمایا ہے اور ان کی ہدایت اور کامیابی کو اسی کے ساتھ مربوط قرار دیا ہے ۔

قارئین کرام : اسلام کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے ۔
- معنی عام
- معنی خاص
1️⃣ - معنی عام یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے تابع کر دے اور اس کے سامنے سرِتسلیم خم کر دے ۔
یہ دو چیزوں سے متضمن ہے :

1 - اللہ رب العزت کی عبادت سے ۔
2 - اس کی اطاعت وفرمابرداری سے ۔
لہذا ہر وہ شخص جو اللہ رب العزت پر ایمان لایا اور صحیح و غیر منسوخ شریعت کے مطابق اس کی عبادت کی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے منھ نہیں موڑا تو ایسا شخص " مسلمان " ہے ۔
چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : " إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ "۔( آل عمران : 19)
" بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ".

لہذا ایسا ہرگز نہیں ہے کہ مذکورہ " اسلام " سے صرف وہی اسلام مراد ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی امتوں کے لئے اللہ رب العزت نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا انتخاب فرمایا تھا ۔
بلکہ یہاں مراد وہ اسلام ہے جسے اللہ رب العالمین نے آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انس وجن کے لئے منتخب فرمایا ہے اور اس دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اللہ کے یہاں نہ مقبول تھا اور نہ قیامت سے مقبول ہوگا ۔
جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " وَقَدْ دَلَّ قَوْلُهُ " إنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ " عَلى أنَّهُ دِينُ جَمِيعِ أنْبِيائِهِ ورُسُلِهِ وأتْباعِهِ مِن أوَّلِهِمْ إلى آخِرِهِمْ، وأنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ قَطُّ ولا يَكُونُ لَهُ دِينٌ سِواهُ ". (مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين لابن القیم : 3/144).
" یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ہی اولین وآخرین تمام انبیاء ورسل اور ان کے متبعین کا دین ہے اور اس دین اسلام کے علاوہ کبھی بھی نہ تو کوئی دین اللہ کو مقبول تھا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا ".
چنانچہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے جابجا دین حق کی پیروی کرنے والوں کو " مسلمان " سے تعبیر کیا ہے خواہ پیروی کرنے والوں کا تعلق سابقہ انبیاء کی جماعت سے ہو یا ان کے متبعین سے ۔
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بارے میں فرمایا : " ما كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ". (آل عمران :67) ۔
" ابراہیم نہ تو یہودی تھا اور نہ عیسائی، بلکہ وہ ایک رخ مسلمان تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا ۔
اسی طرح ابراہیم واسماعیل علیہما السلام دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں : " رَبَّنَا وَٱجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَكَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَاۤ أُمَّةࣰ مُّسۡلِمَةࣰ لَّكَ ". ( البقره : 128).
" اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار (مسلمان )بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک جماعت پیدا کر جو تیری فرمانبردار (یعنی : مسلمان) ہو ۔

اسی طرح فرعون کے جادوگروں نے اسلام لانے کے بعد کہا : " رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ". الأعراف:126).
" اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور اس حال میں موت دے کہ ہم مسلمان ہوں ".

اسلام قبول کرنے اور اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنے کی وصیت ابراہیم اور ان کے پوتے یعقوب علیہما السلام نے بھی اپنی اولاد کو فرمائی۔
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : " إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ . وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ".(البقرة :131-132).
" جب انہیں ان کے پروردگار نے فرمایا کہ مسلمان (فرمانبردار) بن جا تو انہوں نے فوراً کہا کہ : میں رب العالمین کے لئے مسلمان (فرمانبردار) ہو گیا ہوں اور ابراہیم نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی تھی اور یعقوب نے بھی ، انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہذا تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا ".

نیز یعقوب علیہ السلام کی اولاد نے اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کا اقرار بھی کیا، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : " أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاء إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ". (البقرة:133).
" کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب پر موت کا وقت آیا، اس وقت اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے جواب دیا ہم اسی ایک الٰہ کی بندگی کریں گے جو آپ کا اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق کا الٰہ ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار( مسلمان) رہیں گے " ۔
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : " فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى اللّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ". (يونس :72)۔
" پھر اگر تم (میری نصیحت سے) اعراض کرتے ہو تو میں تم سے کوئی مزدوری تو نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں مسلمان بن کر رہوں " ۔

اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : " يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُواْ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ ". (يونس :84) ۔
" اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور واقعی میں مسلمان ہو تو اسی پر بھروسہ کرو ".

نیز حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے پاس اپنا پیغام کچھ اس انداز میں بھیجا تھا : " إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ". (النمل :30-31)۔
" بیشک یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ کہ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ، میرے مقابلے میں سرکشی اختیار نہ کرو، بلکہ مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ " ۔

پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے بلقیس کے کلام کو نقل کرتے ہوئے فرمایا : " قَالَتۡ رَبِّ إِنِّی ظَلَمۡتُ نَفۡسِی وَأَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمَـٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ ". ( النمل : 44).
" اس نے کہا اے میرے پروردگار ! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی ہوں اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لئے مسلمان ہو رہی ہوں " ۔
لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ صرف ان کے گھر والے ہی مسلمان تھے : " فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ". (الذاريات :36).
" چناچہ ہم نے وہاں ایک گھر کے سوا کوئی مسلمانوں کا گھر نہ پایا " ۔
مزید برآں عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے شہادت دی تھی کہ وہ مسلمان ہیں ۔
جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : " فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللّهِ آمَنَّا بِاللّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ". (آل عمران : 52).
" پھر جب عیسیٰ کو ان کے کفر و انکار کا پتہ چل گیا تو کہنے لگے : کوئی ہے جو اللہ کے لیے میری مدد کرے ؟ حواری کہنے لگے : ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں ۔ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں " ۔

قارئین کرام : قرآن مقدس کے ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ " اسلام " کوئی جدید اور نیا دین نہیں جیسا کہ بعض لوگ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اسلام کا وجود ہوا ۔ جسے صرف ساڑھے چودہ سو سال ہوا ہے اس سے پہلے اسلام کا کوئی وجود نہیں تھا ۔
بلکہ یہ اس وقت سے ہے جس وقت آدم علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے اور قیامت تک رہے گا ۔ ولو کرہ الکافرون ۔

2️⃣ - معنی خاص :
اس سے مراد وہ دین ہے جسے لیکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے ۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین اللہ رب العزت کے یہاں مقبول نہیں ہوگا ۔
جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : " وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ". ( آل عمران : 85).
" اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا " ۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " وقد تنازع الناس فيمن تقدم من أمة موسى وعيسى هل هم مسلمون أم لا ؟ وهو نزاع لفظي ، فإن الإسلام الخاص الذي بعث الله به محمدا صلى الله عليه وسلم المتضمن لشريعة القرآن ليس عليه إلا أمة محمد صلى الله عليه وسلم ، والإسلام اليوم عند الإطلاق يتناول هذا ، وأما الإسلام العام المتناول لكل شريعة بعث الله بها نبيا من الأنبياء فإنه يتناول إسلام كل أمة متبعة لنبي من الأنبياء "۔ ( التدمرية : ص 173-174)
" لوگوں نے گزشتہ امتوں جیسے امت موسی و امت عیسی علیہما السلام کے سلسلے میں اختلاف کیا ہے کہ آیا وہ مسلمان تھے یا نہیں؟ حالانکہ یہ محض ایک لفظی ہے، کیونکہ اسلام خاص جسے دیکر اللہ عز وجل نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جو قرآن کے احکام وعقائد پر مشتمل ہے اس پر صرف امت محمد ہی ہے ، دوسری کوئی امت نہیں ہے اور اس وقت اسلام بول کر یہی مراد لیا جاتا ہے ، اور جہاں تک رہی بات " اسلام عام " کی جو ان تمام شریعتوں کو شامل ہے جسے اللہ تعالی نے ہر ایک نبی کو عطا فرمایا تو وہ تمام امتوں کے اسلام کو متضمن ہے جو کسی بھی نبی کے تابع رہی ہو " ۔

خلاصہ کلام یہ نکلا کہ :

- اسلام کا معنی ہے اپنے آپ کو رب العالمین کے تابع کر دینا ، اور اس کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا ۔
- اللہ کی تابعداری کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک اس کی عبادت، دوسری اس کی اطاعت و فرمانبرداری ۔
- اسلام کوئی نیا دین نہیں بلکہ سب سے قدیم اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ دین ہے ۔
- ہر دور اور ہر امت میں اللہ پر ایمان لانے والوں اور صحیح و غیر منسوخ شریعت کے مطابق اللہ رب العزت کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری کرنے والوں کو " مسلمان " کہا جاتا تھا ہے جیسا کہ اس دور میں شریعت محمدیہ پر مکمل طور سے عمل پیرا ہونے والے کو مسلمان کہا جاتا ہے ۔
چنانچہ آدم علیہ السلام سے لیکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام کے تمام انبیاء مسلمان تھے اور ان کی امتوں میں اللہ پر ایمان لانے والے اور ان انبیاء کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق اس کی عبادت اور فرمانبرداری کرنے والے لوگ بھی مسلمان تھے ۔
- تمام انبیاء کا دین صرف اور صرف " دین اسلام " تھا البتہ ان کی شریعتوں یعنی : بعض احکام ومسائل میں کچھ کمی بیشی ضرور تھی ۔ جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ". ( صحيح البخاري |كِتَابٌ : أَحَادِيثُ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ. | بَابُ قَوْلِ اللَّهِ : وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ : 3443) .
" انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں ( کی طرح ) ہیں ، ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ".
- اس دور میں جب اسلام کہا جاتا ہے تو اس سے مراد خاص اسلام ہوتا ہے یعنی : وہ اسلام جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے ۔
مثلا اگر اس وقت کہا جائے کہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان اللہ کے یہاں مردود ہیں تو اس سے مراد وہی اسلام ہوگا جسے لیکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ آئے ۔ عام اسلام مراد نہیں ہوگا ۔
 
Top