ذیشان خان

Administrator
صالح سے محبت اور مصلح سے نفرت

(صالح یعنی صرف اپنی اصلاح کرنے والا اور مصلح یعنی پوری قوم کی اصلاح کرنے والا)
اگر آدمی نیک اورصالح ہو تو لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن اگر وہی آدمی مصلح بن جائے تو اسے لوگ نا پسند کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ صالحین یعنی نیکوں سے محبت کرتے ہیں جبکہ مصلحین سے عموما بغض و عداوت رکھتے ہیں۔
مکہ والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بعثت سے پہلے بہت پسند کرتے تھے لیکن جیسے ہی اللہ تعالی نے انہیں رسول بنایا اور وہ مصلح کے طور پر اپنی قوم میں ابھرے تو لوگ ان سے عداوت و دشمنی کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جادوگر، کذاب اور مجنون تک کہہ دیا۔
اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کیونکہ لوگ مصلح کو اپنی نفسانی خواہشات کی راہ میں روڑا اور رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
بعض اہل علم کا کہنا ہے: ایک مصلح اللہ کے نزدیک ایک ہزار صالحین سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ ایک مصلح کی بدولت اللہ تعالی پوری قوم کی حفاظت فرماتا ہے جب کہ ایک صالح انسان صرف اپنے آپ کی حٖفاظت کرتا ہے۔
اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: "( وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ)" یعنی تیرا ربّ ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ ( ھود 117 )
غور کیجئے یہاں اللہ تعالی نے "صالحون" نہیں بلکہ "مصلحون" کہا ہے۔
(عربی سے منقول)
 
Top