⁦مبتدأ وخبر کا بیان بالکل آسان طریقے سے (دوسری قسط)

✍⁩ ہدایت اللہ فارس
------------------------------------------
پہلی قسط میں مبتدأ کی وضاحت کی گئی تھی۔اب آئیے خبر کے متعلق جانکاری حاصل کرتے ہیں۔
♦⁩خبر کی تین قسمیں ہیں
(١) مفرد (٢) جملہ۔ (٣) شبہ جملہ
📍خبر مفرد کی پہچان :جو نہ تو جملہ کی شکل میں ہو اور نہ ہی شبہ جملہ کی شکل میں اس کی مثال جیسے : حامد کاتب ، الرجلان عالمان ، الرجال عالمون۔
مذکورہ مثالوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ " کاتب ، عالمان وعالمون " خبر ہیں اور سب مفرد ہیں، ان میں سے کوئی نہ تو جملہ ہے اور نہ ہی شبہ جملہ۔

📍 جملہ: اس کی پھر دو قسمیں ہیں : (١) اسمیہ (٢) فعلیہ

خبر اگر جملہ اسمیہ ہو تو اس کی پہچان یہ ہے کہ جملہ میں دو اسم ہوں گے (اسم +اسم) اور مبتدأ ثانی وخبر کے بیچ ایک ضمیر ہوگی (ربط پیدا کرنے کے لیے) جو پہلے اسم کی طرف لوٹ رہی ہوگی، پہلا اسم اگر مذکر ہو تو ضمیر بھی مذکر اور اگر مؤنث ہو تو ضمیر بھی مؤنث۔(یعنی ضمیر مبتدأ اول کے مطابق آئے گی) اور جو خبر ہوگی وہ دوسرے اسم(مبتدأ ثانی) کی مناسبت سے ہوگی۔ جیسے : خالد قلمه جدید
( دوسرے اسم " قلمه " میں ضمیر " ہ" پہلے اسم یعنی خالد کی طرف راجع ہے۔ اور "جدید " اس کی خبر ہے جو کہ دوسرے اسم یعنی " قلم " کے لیے ہے نہ کہ خالد کے لیے۔۔۔)
قرآن میں ہے : أُو۟لَـٰۤىِٕكَ جَزَاۤؤُهُم مَّغۡفِرَةࣱ مِّن رَّبِّهِمۡ۔۔۔
"أولئك " مبتدأ اول ، جزآؤهم مبتدأ ثانی اور اس میں "ھم" ضمیر راجع ہے مبتدأ اول ( أولئك) کی طرف، اور "مغفرة " اس کی خبر۔

#فائدہ : { جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ مبتدأ اور خبر کے بیچ ربط پیدا کرنے کے لیے ایک ضمیر کو لایا جاتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ صرف ضمیر سے ربط پیدا ہو بلکہ تکرار سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کی مثال جیسے: ٱلۡحَاۤقَّةُ مَا ٱلۡحَاۤقَّةُ... القارعة ما القارعة. }
📍 خبر جملہ فعلیہ کی شکل میں، اس کی مثال یہ آیت کریمہ " ٱللَّهُ یَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ.....
"الله " مبتدأ اور جملہ " یبسط الرزق " خبر ہے
اس کی مثال قرآن میں کثرت سے ہیں
واضح رہے جملہ اسمیہ کی طرح اس میں دو اسم نہیں ہوا کرتے۔

📍 خبر شبہ جملہ کی صورت میں
شبہ جملہ کی دو قسمیں ہیں (١) ظرف (٢) جار مجرور
♦⁩ظرف زمان ومکان : الكتاب فوق المكتب (مكان)، السفر صباحا (زمان )

♦⁩ جار مجرور : الكتاب في الحقيبة

📍اس کے اعراب کے سلسلے میں دو مذہب ہیں
مذہب اول ان جیسے مثالوں کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: (پہلی مثال میں) "الكتاب " مبتدأ ہے اور "فوق المکتب" میں فوق ظرف مکان منصوب لیکن محلا مرفوع ہے۔ ( الکتاب کی خبر ہے ) بس اتنا ہی کہتے ہیں۔
اسی طرح سے " السفر" مبتدأ اور " صباحا" ظرف زمان منصوب شبہ جملہ محلا مرفوع ۔
"الکتاب " مبتدأ اور " في الحقيبة" جار مجرور (شبہ جملہ) محلا مرفوع ، مبتدأ (الکتاب )کی خبر ہے۔
لیکن مذہب ثانی کا کہنا ہے کہ : شبہ جملہ متعلق ہوتا ہے خبر محذوف کے ساتھ، یعنی شبہ جملہ بذات خود خبر نہیں ہوتا بلکہ یہ خبر محذوف "استقر یا مستقر " کے ساتھ متعلق ہوکر خبر ہے
یہ لوگ فعل " استقر " کو مقدر مانتے ہیں، یا تو اسم مستقر کو۔ لیکن ایسی صورت میں اگر فعل کو محذوف مانیں گے تو پھر یہ جملہ فعلیہ ہوجائے گا، اور اگر اسم مستقر کو محذوف مانیں تو پہلے قسم ( خبر مفرد) کی طرف منتقل ہوجائے گا۔
مثالوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں : "الکتاب " مبتدأ ہے اور " فوق۔۔ " ظرف مکان منصوب متعلق ہے خبر محذوف کے ساتھ، یعنی فوق فی نفسہ خبر نہیں بلکہ یہ مقید ہے محذوف کے ساتھ۔
#نوٹ: پہلا زیادہ آسان ہے لیکن دوسرے کو غلط نہیں کہیں گے بلکہ جب وضاحت مطلوب ہو تو ویسے ہی وضاحت کریں گے جیسے دوسرے نے کی۔۔۔
 
Top