ذیشان خان

Administrator
کیا رفع یدین کی وجہ بغل میں مورتی؟

یہ جھوٹ و فریب اور سراسر بہتان ہے جس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
لوگوں میں یہ جهوٹ پهیلایا گیا کہ پہلے لوگ بغل میں بُت دبا کر نماز ادا کرتے تھے اسی لئے محمد ﷺ رکوع کے رفع یدین کرتے تھے تاکہ بُت گر جائیں ، جب لوگوں نے بغل میں بُت دبا کر نماز ادا کرنا چھوڑ دی تو محمد ﷺ نے رکوع کے رفع یدین بھی ترک کر دیئے۔
یہ بات کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہوتی یہاں تک کہ ضعیف روایت سے بهی نہیں.
ویسے بھی جس کو نماز ادا کرنی ہوگی اس کو تو پہلے بُت چھوڑنا ہوں گے بُت بغل میں دبا کر کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا۔
یہ جھوٹی کہانی دراصل سنت کے قاتلوں نے گھڑی ہے تاکہ لوگ سنت کو اختیار نہ کریں۔
خالص جھوٹ گھڑنے کے علاوہ سنت کے دشمن کچھ احادیث میں جھوٹ کو ملاتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نماز کے دوران رفع یدین کرنا ایسا ہے کہ جیسے جنگلی گھوڑے کا اپنی دم کو حرکت دینا اور اس سے نماز کا سکون متاثر ہوتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ یہ لوگ ایسی دلیل دیتے وقت اپنی عید کی نماز کو بھول جاتے ہیں جس میں یہ خود نماز کے دوران چھ دفعہ رفع یدین کرتے ہیں۔
کیا عید کی نماز میں جنگلی گھوڑے جیسی حرکت کی جاسکتی ہے ؟
کیا عید کی نماز میں سکون نہیں ہوتا ؟
اور کیا ہر نماز کا آغاز جنگلی گھوڑے کے جیسی حرکت سے ہوتا ہے ؟
حق بات دراصل یہ ہے کہ ایک صحابی نے نماز میں سلام پھیرتے وقت اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دائیں بائیں اشارے سے سلام بھیجا۔ جب نماز مکمل ہوئی تو اللہ کے رسول نے (خفگی) سے فرمایا ”تم میں سے ایک کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو ایسے چلا رہا ہے کہ جیسے وہ جنگلی گھوڑوں کی دُمیں ہوں“۔ (مسند احمد)
ان صحابی نے سلام پھیرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور دائیں بائیں اشارہ کرکے دوسرے صحابہ کو سلام پیش کیا۔
عبد اللہ ابن عبّاس فرماتے ہیں کہ اس عمل سے نماز کا سکون متاثر ہوتا ہے۔ (تفسیر ابن عباس)
اسی وجہ سے محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ نماز میں سکون اختیار کرو یعنی سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کو رانوں پر رکھے رہو ، اِدھر اُدھر مت چلاو جنگلی گھوڑے کی دُم کی طرح۔ مسلمان روایات میں تو رکوع کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے ، یہ روایات تو سلام سے متعلق ہیں۔

اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیئے ان لوگوں کو جو روایات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر ان کا من گھڑت مطلب نکالتے ہیں اور محمد ﷺ کی مبارک سنّت کو جانوروں جیسی حرکت قرار دیتے ہیں۔
 
Top