ذیشان خان

Administrator
نماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا🤲🏼

ازقلم : حسان عبد الغفار

نماز میں انسان اللہ رب العزت سے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے بلکہ اس سے سرگوشی اور مناجات بھی کرتا ہے ، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ". ( صحيح البخاري : 405).
" جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے " ۔
لہذا ایسے وقت میں ایک مؤمن اور مسلم کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ رب العزت سے کچھ مانگے ، اپنی پریشانیاں اس کے سامنے رکھے اور اپنی گناہوں کی بخشش طلب کرے ۔ لیکن چونکہ وہ عربی زبان سے واقف نہیں ہوتا ہے، لہذا اس کے سامنے یہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے وہ اپنی زبان میں دعا کر سکتا ہے کہ نہیں؟؟
قارئین کرام ! سب سے پہلے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ نماز میں دعا کے مقامات کون سے ہیں ۔

نماز میں دعا کے مقامات تین ہیں ، خواہ وہ فرض نماز ہوں یا نفلی نماز ۔

1 - سجدہ میں ۔
2 - دونوں سجدوں کے درمیان ۔
3 - آخری تشہد میں " التحیات " اور " درود وسلام " کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے ۔

پہلا سوال : کیا ان تینوں مقامات میں " دعائے ماثور "( وہ دعائیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں) کے علاوہ اپنی طرف سے یا اپنی پسند کی کوئی دعا کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ ۔

جواب : دعائے ماثور کے علاوہ بھی دعا کر سکتے ہیں ۔

اس کی دلیل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا درج ذیل فرمان ہے ۔
1 - أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ".( صحیح مسلم : 482).
" بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو ( سجدے میں ) تم بکثرت دعائیں کیا کرو " ۔
2 - عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم ( قعدہ میں ) یہ کہا کرتے تھے : " السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، وَفُلَانٍ ". کہ اس کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو ، بلکہ یہ کہو : " التحيات لله،‏‏‏‏ والصلوات والطيبات،‏‏‏‏ السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين‏ ". ... " أشهد أن لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله "
اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو "۔ ( صحيح البخاري : 835).
" پھر اسے جو دعا پسند ہو وہ کرے " ۔

ان دونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نماز میں " دعائے ماثور " کے علاوہ بھی دعا کر سکتا ہے ۔ بصورت ديگر " فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " اور " ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ " کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جائے گا ۔

دوسرا سوال : کیا انسان نماز میں عربی زبان کے علاوہ اپنی زبان میں دعا کر سکتا ہے؟
جواب : اس سلسلہ میں علماء کرام کا کافی اختلاف رہا ہے ۔
البتہ جو بات راجح اور درست ہوتی ہے اس کی دو شکلیں ہیں ۔

پہلی شکل : - وہ دعائیں جو ماثور ہیں ، جیسے : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ... " ۔ یا : " اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا... " ۔ یا : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ... " ۔
تو ان دعاؤں کو بالکل اسی طرح عربی زبان میں پڑھنا ضروری ہے ۔
وہ اس وجہ سے کہ نماز میں دعا ایک عبادت ہے اور اس عبادت کو ویسے ہی بجا لانا ہے جس طرح وہ لفظ اور معنی کے ساتھ وارد ہوا ہے ۔
کیونکہ عبادت میں لفظ اور معنی دونوں مقصود ہوتے ہیں ۔

البتہ اگر کوئی شخص ان دعاؤں کو عربی زبان میں پڑھنے پر باکل بھی قادر نہیں ہے تو ان دعاؤں کے مفہوم کو اپنی زبان میں پڑھ سکتا ہے ۔
اور یہی حکم نماز کے علاوہ دیگر وراد شدہ اذکار کا ہے ۔ جیسے صبح وشام کے اذکار وغیرہ ۔
کہ اگر کوئی شخص ان دعاؤں کو پڑھنے پر بالکل بھی قادر نہیں ہے تو ان کے ترجمے کو پڑھ سکتا ہے ۔
وہ اس وجہ سے کہ اگر ہم ایسے شخص کو عربی زبان ہی میں پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اسے ایسی چیز پر مجبور کر رہے ہیں جس کی طاقت وقدرت اس کے اندر ہے ہی نہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ". ( البقرة : 286).
" اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا "۔
نیز اس کا نتیجہ یہ ہوگا وہ پڑھنا بند کر دیگا اور بہت سارے سنن و مستحبات بلکہ بعض واجبات کو بھی چھوڑنے دینے کی وجہ سے بڑے اجر وثواب سے محروم رہ جائے گا ۔
لہذا ایسا شخص ان دعاوں کو پڑھنے اور یاد کرنے کی پوری کوشش کرے اور جب تک پڑھنے اور یاد کرنے پر قادر نہ ہو جائے انہیں چھوڑ نہ دے بلکہ ان دعاؤں کے ترجمے کو اپنی زبان میں پڑھے ۔

سوال : اگر کوئی شخص " ماثور اذکار یا دعاؤں " کو یاد کر لیتا ہے لیکن ان کے معانی اور مفاہیم کو بالکل نہیں سمجھتا ہے تو ایسا شخص کیا کرے، کیا عربی زبان ہی میں کرے یا پھر اپنی زبان میں؟؟؟

جواب : اس سلسلے میں تین باتوں کا خیال رکھے ۔

1 - ماثور اذکار کو پڑھے بلکہ کثرت کے ساتھ پڑھے، اسی طرح دعا کرتے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعاوں کا اہتمام کرے اگرچہ ان کا مطلب نہ جانتا ہو ۔
کیونکہ ایک مسلم اگر چہ ان ادعیہ واذکار کے تفصیلی معانی اور مفاہیم کو نہ جانتا ہو مگر اتنا تو ضرور جانتا ہوگا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ان اذکار اور دعاؤں میں دنیا وآخرت سے متعلق خیر وبھلائی ہی کی باتیں ہوں گی ۔
لہذا وہ اسی جذبے کے ساتھ ان الفاظ کے ذریعے دعا کرے کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے نکلی ان دعاؤں کے اندر بے شمار خیر وبھلائی موجود ہے ۔
2 - پھر ان ماثور دعاؤں کو پڑھنے کے بعد اپنی زبان میں دل کی گہرائی سے ( چاہے وہ اردو ہو ہندی ہو انگریزی ہو دیہاتی ہو) جو چاہے اللہ رب العزت سے کہے یا اس سے مطالبہ کرے ۔
3 - ان ماثور ادعیہ واذکار کا معنی اور مطلب یاد کرنے اور سیکھنے کی کوشش کرے ۔
اگر کوئی شخص صرف ایک ہفتہ میں ایک ہی دعا یا ذکر کے معنی اور مفہوم کو سیکھنے اور جاننے کی کوشش کرے گا تو ان شاء اللہ سال بھر سے کم کی مدت میں تمام ادعیہ واذکار کے معانی سیکھ جائے گا ۔

دوسری شکل : - اگر وہ مطلق دعائیں ہیں یعنی : جو " ماثور " نہیں ہیں بلکہ انسان اپنی پسند یا ضرورت کے اعتبار سے کرنا چاہتا ہے ، جیسے سجدہ اور آخری تشہد میں دعا کرنا ۔
تو انہیں اپنی زبان میں کرنا جائز اور درست ہے خواہ وہ فرض نماز ہوں یا نفلی نماز ۔
جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " والدعاء يجوز بالعربية وبغير العربية والله سبحانه يعلم قصد الداعى ومراده وإن لم يقوم لسانه فإنه يعلم ضجيج الأصوات بإختلاف اللغات على تنوع الحاجات " . ( مجموع الفتاوى : 22/489) .
" دعا عربی و غیر عربی دونوں زبانوں میں مانگنا درست ہے ، اللہ رب العزت دعا کرنے والے کے مقصد اور ارادے کو جانتا ہے ، اور اگر دعا مانگنے والے کی زبان درست نہ ہو تو بھی اللہ تعالی آوازوں کی گونج میں مختلف زبان والوں کی مختلف ضروریات مانگنے کو بھی جانتا ہے " ۔
اور یہی بات شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہی ہے دیکھئے : " https://youtu.be/CtCbCeme8LQ۔

لہذا اب اگر ہم کہتے ہیں کہ عربی زبان ہی میں کرنا ضروری ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم حدیث کے الفاظ - " فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " کثرت سے دعا کرو، اور " ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو " پھر جو دعا کرنا چاہے کرے " - کو صرف عربی زبان جاننے اور سمجھنے والوں کے ساتھ خاص کر رہے ہیں ۔ اور جو بیچارے عربی بالکل بھی نہیں جانتے اور سمجھتے انہیں اس سے محروم کر رہے ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ نماز میں " ماثور دعاؤں " کے علاوہ اپنی طرف سے بھی دعائیں کرنا درست ہے ۔
فرض اور نفل کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے دونوں نمازوں میں دعا کر سکتا ہے ۔
اور اگر انسان ماثور ادعیہ واذکار کو پڑھنے اور سمجنے پر بالکل بھی قادر
نہیں ہے تو عربی زبان کے علاوہ اپنی زبان میں ان دعاؤں کے ترجمے کو پڑھ سکتا ہے ۔
اسی طرح مطلق دعاؤں کو اپنی زبان میں کرنا درست ہے ۔
البتہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ماثور ادعیہ واذکار خصوصاً نماز میں پڑھے جانے والے ادعیہ واذکار کو لازمی طور پر یاد کریں اور ان کے معانی اور مفاہیم کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں ۔
نیز یہ علماء اور فقہاء کے یہاں ایک اختلافی مسئلہ ہے لہذا ہر کسی کو دلائل کی روشنی میں اختلاف کرنے کا مکمل اختیار ہے ۔
 
Top