ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1608301196365.jpg

سورہ کہف سے ہم نے کیا سیکھا؟

(عربی سے ترجمہ : محمد شاہد يار محمد سنابلى)

(جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنا ایک مسنون عمل ہے لہذا اس کی تلاوت کرنی چاہیے اور تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی آیات اور معانی میں غور و فکر کرنا چاہیے کیونکہ قرآن کا یہی اصل مقصود ہے۔ ذیل کے سطور میں اسی حوالے سے چند باتیں اختصار کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں۔)

(فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا )

👈سورہ کہف کی اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ پاکیزہ اور حلال کھاو اور کھلاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز ہی کو قبول فرماتا ہے۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

( وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُه فرطا)

ُ👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ نیک اور صالح دوست کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور نیک دوست وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے آخرت کی یاد آتی ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

( مَن يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا )

👈اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہدایت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی کے حصول کے لیے صرف اللہ ہی سے لو لگانی چاہیے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا)

👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو اللہ غار والوں کو 309 سال کے بعد زندہ کر سکتا ہے تو وہ اللہ بلاشبہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًاإِلَّا أَن يَشَاءَ اللهُ )

👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ اگر مستقبل میں کوئی کام کرنے کا ارادہ ظاہر کرے تو اس کے بعد اسے ان شاء اللہ ضرور کہنا چاہیے کیونکہ اللہ کے ساتھ ادب کا یہی تقاضہ ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(وَاذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَىٰ أَن يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا)

👈اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھول کا سب سے بہترین علاج اللہ کا ذکر ہے۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا)

👈اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا عذاب کتنا ہی سخت ہو مگر آخرت کے عذاب سے اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

( وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ )

👈اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اللہ کی حفاظت کرتا ہے اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ غار والوں کو الٹ پلٹ نہ کرتا تو زمین انہیں کھا جاتی۔ چنانچہ جو اللہ کے احکامات کی حفاظت کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی بھی حفاظت فرماتا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے تو زمین و آسمان، انسان، جمادات اور حیوانات ساری چیزوں کو اس کی حفاظت کے لیے مامور کر دیتا ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

" فانطلقا " " فانطلقا " " فانطلقا "

👈ان الفاظ سے یہ سبق ملتا ہے دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کیلئے کوشش اور جہد مسلسل شرط ہے۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا)

👈اس آیت کریمہ سے دنیا کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کتنی بے وقعت اور مختصر ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا)

👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کی شاہراہ پر چلتے ہوئے اگر لوگوں کی طرف سے کنارہ کشی، بے رخی اور عدم قبولیت کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے داعی کو دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

( كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا)

👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ زبان سے نکلنے والے الفاظ پر دھیان دینا چاہیے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ آپ کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ آپ کے گناہوں کے پلڑے کو بھاری کردے۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(وَلَمْ تَكُن لَّهُ فِئَةٌ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا )

👈اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ نصرت و مدد کے لئے اللہ کے علاوہ کسی اور سے لو نہیں لگانی چاہیے۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا)

👈اس آیت کریمہ سے یہ درس ملتا ہے کہ (سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر) یہ الفاظ کہنا روئے زمین کی ساری چیزوں سے افضل اور بہتر ہے۔

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا)

👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ آپ جسمانی اور قلبی لحاظ سے کتنے ہی زیادہ طاقتور اور مضبوط کیوں نہ ہوں مگر اس کے باوجود آپ کمزور ہیں اور آپ کو اپنے دوست و احباب کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا)

👈اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عمل کی کثرت کا اعتبار نہیں بلکہ عمل کے حسن اور اس کی خوبصورتی کا اعتبار ہے اور خوبصورت عمل وہی ہوتا ہے جس کے اندر اخلاص اور اتباع رسول پایا جائے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا)

👈اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب بھی دوسروں کے تئیں دل کے اندر کبر و غرور کا خیال آئے تو انسان کو اپنی اصل خلقت کو یاد کر لینا چاہیے کیونکہ جب انسان کی پیدائش مٹی اور حقیر پانی سے ہوئی ہے تو پھر کبر و غرور کیسا؟

•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

(وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا)

👈اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دین پر ثابت رہنے کا اہم ترین وسیلہ قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اصحاب کھف کے قصے کو ذکر کرنے کے بعد اسی بات کی وصیت فرمائی ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

👈اصحاب کہف کے قصے سے ایک سبق یہ ملتا ہے کہ بندہ اگر عبادت گزار اور تقویٰ شعار ہو تو غار بھی اس کے لیے کائنات سے زیادہ وسیع و کشادہ ہے اور اگر اللہ کی عبادت نہ کر سکے تو پوری کائنات اپنی وسعت کے باوجود اس کے لیے تنگ ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•

( وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا)

👈اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کی نیکی اور دین داری کی بدولت اللہ تعالٰی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے۔
•┈┈•••❀❁❀•••┈┈•
👈سورہ کہف سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ ایک مسلمان کو سورہ کہف کی تلاوت، اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی پند و نصائح پر عمل کرنا چاہیے تاکہ دجال کے فتنے، دین کے فتنے، مال کے فتنے، علم کے فتنے اور اقتدار کے فتنے سے محفوظ رہ سکے۔
┈┉┅━❀☆●☆●☆❀━┅┉┈
 
Top