ذیشان خان

Administrator
☄☄سردی اور جمع بین الصلاتین ☄☄

✍⁩ حسان بن عبد الغفار

بلا شبہ نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا کرنا ہی افضل اور ضروری ہے، جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : " إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا ". (النساء : 103).
" یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے ".

لیکن شریعت نے نرمی و آسانی کے لئے یہ سہولت دی ہے کہ عذر شرعی کی بنا پر مقیم حضرات دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتے ہیں .
جیسے تيز بارش کی وجہ سے مسجد میں جانا مشکل ہو یا بارش سے راستے خراب ہوں یعنی : پانی یا بہت زیادہ کیچڑ وغیرہ ہو جہاں سے گزرنے میں بہت دشواری ہو تو شریعت نے آسانی کے لئے دو نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی ہے ۔

لیکن کیا " سردی اور ٹھنڈی " کا شمار بھی ان شرعی اعذار میں ہوتا ہے جن کی بنا پر دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا مباح ہو جاتا ہے؟؟

اس سلسلے میں علمائے کرام کے دو اقوال ملتے ہیں ۔

1️⃣ - پہلا قول :
سردی اور ٹھنڈی کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتے ہیں ۔

اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ہے : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ ". وفي رواية " فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ :
قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : فَسَأَلْتُ سَعِيدًا ؛ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ ". ( صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : الْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ : 705).
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش کے ،جبکہ دوسری روایت میں ہے : بغیر خوف اور سفر کے (مدینے میں) ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا".
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے" سعید " سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟؟
" سعید " نے کہا کہ میں نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی سوال کیا تھا جو آپ نے مجھ سے کیا ہے تو انھوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں ".

شيخ الإسلام ابن تيمية رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "يجوز الجمع للوحل الشديد والريح الشديدة الباردة في الليلة الظلماء ونحو ذلك، وإن لم يكن المطر نازلًا، في أصح قولي العلماء". ( الفتاوي الكبري : 2/ 350).
" علماء کے دو اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق اندھیری رات ہو اور راستے شدید کیچڑ والے ہوں اور تیز سرد ہوائیں چل رہی ہوں تو اس جیسی صورت حال میں دو نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے اگر چہ بارش نہ ہو رہی ہو ".

جبکہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ "لقاء الباب المفتوح " میں فرماتے ہیں: جب ٹھنڈی سخت ہو جائے ساتھ ہی ایسی ہوا بھی چل رہی ہو جس سے لوگوں کو تکلیف اور ایذاء پہنچتی ہو تو انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ ظہر و عصر، کو اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھ لے، جیسا کہ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دو نمازوں ( ظہر و عصر) کو جمع کیا جبکہ نہ تو خوف لاحق تھا نہ ہی بارش ہوئی تھی، لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جمع کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقصد تھا تو انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ امت کو مشقت میں نہ ڈالیں۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جمع کرنے کی مشروعیت کے پیچھے یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ مسلمانوں سے مشقت کے بوجھ کو اتارا جائے، لہذا مشقت نہ ہو تو جمع کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اور سردی کے موسم میں مشقت اسی وقت ہوتی ہے جب کہ ٹھنڈی فضا کے ساتھ تیز سرد ہوا چل رہی ہو، لیکن اگر صرف فضا سرد ہو اور اس کے ساتھ ہوا نہ چل رہی ہو تو انسان موٹے اور گرم لباس پہن کر سردی سے بچ سکتا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی؛
چنانچہ اگر کوئی سوال کرے کہ کیا صرف موسم زیادہ سرد ہونے کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے؟ تو ہمارا جواب ہوگا: محض موسم کے سخت سرد ہونے کی بنا پر دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور شرط پائی جائے وہ یہ کہ ساتھ ہی سرد ہوا چل رہی ہو جس سے لوگوں کو اذیت پہنچتی ہو، یا پھر برف باری ہو رہی ہو کیونکہ جب برف باری ہوتی ہے تو لازماً لوگوں کو اذیت پہنچتی ہے پھر اس صورت میں جمع کرنا بالکل درست ہے،
اور جہاں تک رہی بات صرف سردی کی تو یہ کوئی ایسا عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہو جائے، لہذا جو شخص دونوں نمازوں کو بلا کسی شرعی عذر کے جمع کر لے تو وہ گنہگار ہو گا اور جو نماز اس کے وقت ہونے سے پہلے پڑھ لی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہوگی، اور اس کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ اس نماز کو دوبارہ (اپنے وقت میں) ادا کرنا ہوگا۔ اور اگر اس نے جمع تاخیر ( ظہر کو عصر کے وقت میں یا مغرب کو عشاء کے وقت میں ایک ساتھ ملا کر) پڑھی ہوگی تو اس کی پہلی نماز بے وقت ہو جائے گی اور وہ اس پر گناہگار ہو گا،
". ( لقاء الباب المفتوح : 18/1).
خلاصہ : سخت سردی کی بنا پر دو نمازوں چند شرائط کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں :

1⬅ - سخت سردی کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں چل رہی ہوں ؛ رہی بات ان ہواؤں کی جو روز مرہ چلتی ہیں تو ان کی بنا پر نماز کو جمع کرنا جائز نہیں ہے ۔
2 ⬅- وہ ہوائیں سرد اور نقصان دہ ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2️⃣ دوسرا قول -
سردی اور ٹھنڈی کی وجہ سے دو نماز کو جمع کرنا درست نہیں ہے ۔یہ قول جمہور اہل علم کا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی صحیح، صریح اور مرفوع دلیل موجود نہیں ہے ۔

☑☑☑راجح :

مذکورہ دونوں اقوال میں جمہور اہل علم کی بات زیادہ درست اور راجح معلوم ہوتی ہے ۔

اور جہاں تک رہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حدیث کی ، تو اس سلسلے میں چند باتیں قابل توجہ ہیں ۔

1️⃣ - اس روایت میں یہ صراحت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سردی کی وجہ سے نماز کو جمع کیا تھا ۔

2️⃣ - " غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ ". وفي رواية " غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ ، اور " أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ ". رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بلکہ صحابی رسول ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اجتہاد ہے ۔

3️⃣ - ابن عباس رضی اللہ عنہما نے " غَيْرِ خَوْفٍ " بھی کہا ہے، جبکہ خوف کی بنا پر دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنے کے سلسلے میں علماء کا اختلاف رہا ہے اور راجح یہ ہے کہ خوف " شرعی عذر " نہیں ہے اور نہ ہی خوف کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز کو جمع کرنا ثابت ہے،( دیکھئے، نهاية المحتاج للرملي : 2/282).
کیونکہ خوف میں قصر ہے اور وہ بھی کیفیت میں، نہ کی کمیت میں، جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : " وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنۡ خِفۡتُمۡ أَن یَفۡتِنَكُمُ ٱلَّذِینَ كَفَرُوۤا۟ۚ ". ( النساء : 101).
" جب تم سفر پر جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ".
جبکہ دوسرے مقام پر فرماتا ہے : " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ". البقرة: 238-239 ).
" نمازوں کی حفاظت کرو ، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالٰی کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو . اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوارہی سہی ".

4️⃣ - ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں " جمع صوری " کا تذکرہ کیا گیا ہے، جمع صوری یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو اس کے آخری وقت تک مؤخر کر دیا جائے اور عصر کی نماز کو بالکل اول وقت میں ادا کیا جائے ۔ اسی طرح مغرب اور عشاء میں بھی کیا جائے ۔ ( فتح الباري : 2 / 308)
یہی رائے امام شوکانی اور صاحب تحفة الأحوذي کا ہے ۔ ( دیکھئے، تحفة الأحوذي : 1/559).

جیسا کہ ابو الشعشاء کہتے ہیں : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ : يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ. قَالَ : وَأَنَا أَظُنُّهُ ". ( صحيح البخاري | بَابُ التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ | بَابُ مَنْ لَمْ يَتَطَوَّعْ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ : 1174).
" میں نے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ ( ظہر اور عصر ) اور سات رکعت ایک ساتھ ( مغرب اور عشاء ملا کر ) پڑھیں۔
ابوالشعثاء سے میں نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں پڑھی ہو گی۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں پڑھی ہو گی اور عشاء اول وقت میں۔ ابوالشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے ". )
اسی طرح ابو سعيد الخدري رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : " جمع رسولُ اللهِ ﷺ بين الظهرِ والعصرِ وبين المغربِ والعشاءِ أخَّر المغربَ وعجَّل العشاءَ فصلاَّهما جميعًا". ( أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط : 7994 والخطيب في تاريخ بغداد : 2/390)علامہ البانی نے " السلسلة الصحيحة : 7/88 میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔)

ابن حجر کہتے ہیں : والجمع الصوري أولى والله أعلم. جمع صوری مراد لینا ہی اولی اور بہتر ہے ۔ساتھ ہی کہتے ہیں کہ اگر " نفی حرج " مراد ہے تو حدیث کو " جمع صوری " پر محمول کر لینے سے مشکل حل نہیں ہوتی، اس لئے کہ " جمع صوری " کا قصد بھی حرج سے خالی نہیں ہے ۔ ( فتح الباري : 2/309)
ابن حجر کا یہ کلام بتاتا ہے کہ وہ دوسری کسی توجیہ خصوصا " رفع حرج " کے منکر نہیں ہیں، البتہ انھوں نے " جمع صوری " کی توجیہ کو ترجیح دی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کیا ہے " رفع حرج " کے دلائل بھی اپنے اندر ایک وزن رکھتے ہیں ۔

5️⃣ - مذکور حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما
نے " بِغَيْرِ عُذْرِ " نہیں فرمایا ہے ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کسی عذر کے نماز کو جمع کیا تھا؛ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی عذر ضرور تھا، سو اس عذر کی طرف اشارہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی حدیث میں موجود ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کے ساتھ ہی ذکر کیا ہے ۔
چنانچہ عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں : " خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ. قَالَ : فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ لَا أُمَّ لَكَ ؟ ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ ". ( صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : الْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ : 705).
" ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وعظ پر مشتمل خطبہ دینا شروع کیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے چمکنے لگے ، لوگوں نے"الصلوٰۃالصلوٰۃ"کہنا شروع کردیا، پھر بنو تمیم کا ایک آدمی آیا۔ اس نے بھی بلا دھڑک "الصلوٰۃالصلوٰۃ" کی آواز بلند کی تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : افسوس ہے تو مجھے سنت کی تعلیم دیتا ہے ؟؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مدینہ طیبہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا تھا۔
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میرے دل میں کھٹکاسا پیدا ہوا۔ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مؤقف کی تصدیق کی ".

اس تفصیل کے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک معقول عذر کی بناء پر مغرب و عشاء کو جمع کیا تھا وہ یہ کہ آپ کسی اہم موضوع پر تقریر کر رہے تھے۔اگر درمیان میں مغرب کی نماز پڑھی جاتی تو تسلسل کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے کچھ باتیں ذہن سے نکل جاتیں اور شاید کچھ لوگ بھی نماز کے بعد چلے جاتے اور پورا وعظ سننے سے محروم رہتے،اس لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز مغرب کو نماز عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھا پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عمل کا حوالہ دیا کہ آپ نے بھی ایسے حالات میں دو نمازوں کو جمع کیا تھا یعنی : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی اہم علمی مجلس کی وجہ سے جمع بین الصلاتین کیا تھا جسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ۔

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں : وقد ذهب جماعة من الأئمة إلى الأخذ بظاهر هذا الحديث، فجوزوا الجمع في الحضر للحاجة مطلقا لكن بشرط أن لا يتخذ ذلك عادة ".
" ائمہ کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ظاہر پر محمول کیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ ضروری حاجت درپیش ہو تو ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ اس کو عادت نہ بنا لیا جائے ". ( فتح الباري : 2/309)
یعنی ہر وہ کام جس کا نفع راجح اور غالب ہو اس کے لئے کبھی کبھار دو نمازوں کو جمع کر سکتے ہیں، اور انھیں راجح اور غالب کاموں میں سے ایک کی مثال ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل سے دی ۔

6 - امام ترمذی رحمہ الله فرماتے ہیں : اس سنن میں جتنی حدیثیں ہیں سب کی سب معمول بہ ہیں۔ بعض اہل علم نے اس کی تصدیق کی ہے سوائے دو حدیثوں کے ،جن میں سے ایک عبد اللہ بن عباس کی وہ حدیث جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اندر بغیر کسی خوف، بارش اور سفر کے ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کی صلاتوں کو جمع کیا ". ( العلل :5/736)

مگر "ملا معین " نے دراسات اللبیب میں اور علامہ عبیداللہ رحمانی نے ترمذی کے کلام پرتعاقب کیا ہے؛ تفصیل کے ملاحظہ ہو :" شفاء الغلل شرح كتاب العلل في آخر تحفة الأحوذي "

7 - ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ نہیں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل ایک سے زائد مرتبہ کیا ہے بلکہ حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل زندگی بھر میں صرف ایک مرتبہ انجام دیا ہے ۔

8 - عبادات کے اندر جب کسی چیز کے جواز اور عدم جواز کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلاف ہو جائے تو ایسی صورت میں اصل ہی پر قائم رہتا اولی اور بہتر ہوتا ہے ،اور عبادت میں اصل " عدم جواز " ہے جب تک اس کی کوئی صحیح اور صریح دلیل نہ مل جائے ۔لھذا اس قاعدہ کی رو سے سردی کی بنا پر جمع بین الصلاتین کو ترک کر دینے میں ہی عافیت ہے ۔

اسی طرح اس دور کے اندر سردیوں کے مہینے میں مسجدوں تک آنے کے لئے درج ذیل امور کی وجہ سے کوئی خاص مشقت اور پریشانی نہیں ہوتی ہے :
1 - مساجد کی کثرت اور قربت ۔
چونکہ اس دور میں مساجد تقریبا ہر علاقے بلکہ ہر محلے میں موجود ہوتے ہیں، لھذا سردی کے باوجود بھی مسجد تک آنے میں کسی مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے ،ساتھ ہی مسجدوں میں پردوں اور قالین وغیرہ کا انتظام بھی رہتا ہے جس سے سردی کی شدت میں کافی کمی واقع ہوتی ہے ۔
2 - اس زمانے میں ایسے اندرونی اور بیرونی لباس لوگوں کے پاس موجود ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے وہ سردی کی شدت سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ہاں اگر کسی کے پاس گرم لباس موجود نہیں ہے اور مسجد میں آنے کی وجہ سے اسے ضرر اور نقصان لاحق ہو سکتا ہے تو ایسی صورت میں پہلے قول کے اعتبار سے وہ جمع کر سکتا ہے ۔

3 - سردی کی وجہ سے اگر لوگ نماز کو جمع کر لیتے ہیں تو اس کے بعد ایسا نہیں ہوتا کہ وہ سیدھے اپنے گھروں کو چلے جائیں ،بلکہ بعض اپنی دوسری ضرورتوں میں لگ جاتے ہیں جبکہ بعض ہوٹلوں اور محفلوں وغیرہ کا رخ کرتے ہیں ،لھذا جب سردی ان جیسے تصرفات کے لئے مانع نہیں ہے تو پھر عشاء کی نماز ادا کرنے کے لئے کیسے مانع ہو سکتی ہے؟؟!!

خلاصہ یہ کہ سردی اور ٹھنڈی " جمع بین الصلاتین " کے لئے عذر نہیں ہیں اور جن لوگوں نے عذر مانا ہے ان لوگوں نے بھی دو شرطیں لگائی ہیں :
1 - سخت سردی کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں چل رہی ہوں ؛ رہی بات ان ہواؤں کی جو روز مرہ چلتی ہیں تو ان کی بنا پر نماز کو جمع کرنا جائز نہیں ہے ۔
2 - وہ ہوائیں سرد اور نقصان دہ ہوں ۔

لھذا مجرد سردی کی وجہ سے "جمع بین الصلاتین" جائز نہیں ہے اور اسے عادت بنا لینا صرف گمراہی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
 
Top