ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1608385939388.jpg

اخلاص کی برکت

راقم السطور : محمد شاهد يار محمد سنابلى

سال 2008 میں فرانس کی ایک میگزین ميں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق امام نووی رحمہ اللہ کی کی معروف کتاب " الأربعين النووية " سب سے زيادہ بکنے والی کتاب ثابت ہوئی.

اس سروے کو یہاں ذکر کر کے اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ کیا امام نووی رحمہ اللہ کو اس کتاب کی تالیف کے وقت یہ اندازہ رہا ہوگا کہ ان کی یہ کتاب آگے چل کر مشہور زمانہ کتاب کے طور پر پڑھی اور جانی جائے گی. دراصل یہ اخلاص کی برکت ہے جس کی وجہ سے امام نووی رحمہ اللہ کی اس کتاب کو اور اس کے ساتھ ان کی دیگر اور کتابوں کو کافی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی.

اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کی کتاب مؤطا کے تعلق سے ایک واقعہ مشہور ہے جسے حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تدریب الراوي ميں بیان کیا ہے کہ امام مالک جب اپنی کتاب مؤطا لکھ رہے تھے تو لوگوں نے کہا : اس جیسی بہت ساری کتابیں لوگوں نے لکھ رکھی ہیں پھر آپ کی اس کتاب کا کیا فائدہ ہوگا؟
انھوں نے جواب دیا : "ما كان لله بقي" یعنی جو کتاب اللہ کے لئے لکھی گئی ہوگی وہ باقی رہے گی.
چنانچہ امر واقعہ یہی ہوا کہ اخلاص کی بدولت اللہ تعالی نے اس کتاب کو بقا و دوام بخشا اور اس نام کی دوسری کتابیں گمنامی کی نذر ہو گئیں.
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

اخلاص کی اہمیت ہی کے پیش نظر امام بخاری رحمہ اللہ نے "إنما الأعمال بالنيات ..." والی حديث کے ذریعے اپنی کتاب صحیح بخاری کا آغاز کیا ہے. ابو القاسم المهلب بن ابی صفرہ فرماتے ہیں : اس حدیث کو کتاب کے شروع میں ذکر کرنے کا مقصد جہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کتاب کو محض اخلاص اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے تالیف کیا ہے وہیں یہ پیغام دینا بھی مقصود ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے پڑھانے والے کے پیش نظر بھی یہی مقصد ہونا چاہئے. (شرح صحیح البخاري ابن بطال 1/31)

جب نیتوں ميں اخلاص ہوتا ہے اور انسان حظوظ نفس کی آلائشوں سے پاک و صاف ہوتا ہے تو زبان و بیان اور تقریر و تحریر میں وہ تاثیر پیدا ہوتی ہے کہ خواہ اسلوب و انداز کیسا بھی ہو وہ باتیں جا کر دل و دماغ کے نہا خانوں میں بیٹھ جاتی ہیں اور ایسی باتوں کی تاثیر و افادیت وقتی نہیں بلکہ دیر پا ثابت ہوتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جو بات دل سے نکلتی ہے وہ دل کی گہرائی میں اتر جاتی ہے اور جو بات صرف زبان سے نکلتی ہے وہ ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جاتی ہے.
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔

حمدون القصار سے پوچھا گیا : کیا بات ہے سلف صالحین کی باتیں ہم سے زيادہ موثر اور نفع بخش ہوتی ہیں؟ انھوں نے جواب دیا : جب وہ بولتے تھے تو ان کی باتیں اسلام کی سربلندی، رحمان کی خوشنودی اور نفس کی نجات کے لئے ہوتی تهیں جب کہ ہماری باتیں (تقرریں اور تحریریں) نفس کی سربلندی، دنیا طلبی اور شہرت و ناموری کے لئے ہوتی ہیں. (المدخل إلى علم السنن للبيهقي 1/42)

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج جلسوں، سیمیناروں اور کانفرنسوں کی بھر مار ہے، مقررین و واعظین بے شمار ہیں، مدارس و مکاتب کا جال بچھا ہوا ہے، دعوت و تبليغ اور اصلاح امت کے نام پر بے پناہ کوششیں اور پیسے صرف کئے جاتے ہیں لیکن پھر بھی شکوہ ہے کہ ان ساری محنتوں کے کوئی خاطر خواہ نتائج نظر نہیں آ رہے ہیں. اس کے اسباب و وجوہات مختلف ہو سکتے ہیں مگر اس کی ایک بڑی وجہ اخلاص کی کمی یا اس کا فقدان ہے.

اللہ تعالى ہم سب کو اپنا محاسبہ اور تزکیہ کرنے کی توفیق بخشے اور قول و عمل میں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے.
•••••━════✿═════━•••••
 
Top