اسم مصدر اور مصدر میں فرق

✍⁩ ہدایت اللہ فارس
-------------------------------------------
🔹اسم مصدر: ایسا اسم ہے جو کسی شیء پر یا ذات پر دلالت کرے (خواہ حسی ہو یا معنوی ) یہ اپنے فعل ماضی کے تمام حروف پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ اس میں سے ایک حرف یا ایک سے زائد حروف بغیر کسی عوض کے کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح اپنے فعل سے حرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

جیسے: فعل أعطی سے اسم مصدر "عطاء " ہے جو دی جانے والی کسی چیز پر دلالت کرتا ہے۔

فعل کَلَّمَ سے اسم مصدر " کلاما " ہے جو ملفوظ پر دال ہے
#حرکات کے اعتبار سے مختلف ہونے کی مثال:
فعل تَوَضَّأ سے اسم مصدر " وَضُوءًا " جو اس پانی پر دلالت کرتا ہے جس سے وضوء کیا جاتا ہے۔
غَسَلَ فعل سے اسم مصدر "غُسلا " ہے
یہ بھی اس پانی پر دلالت کرتا ہے جس سے غسل کیا جائے۔۔۔۔

🔹جبکہ "مصدر" یہ حدث پر دلالت کرتا ہے اور اپنے فعل ماضی کے تمام حروف پر مشتمل ہوتا ہے۔یا مصدر میں کوئی حرف کم ہوگا لیکن اس کے عوض میں کوئی دوسرا لفظ لایا گیا ہوگا.

جیسے: فعل "أعطی" کا مصدر " إعطاء" ہے
تَوَضَّأ فعل سے مصدر "وُضُوءًا" ہے
غَسَلَ فعل سے مصدر غَسْلاً ہے
کَلَّمَ سے مصدر " تکلیما " ہے
یہ سارے مصدر ہیں جو بنفسہ حدث پر دلالت کرتے ہیں۔

#عوض کی مثال
جیسے وعد سے مصدر عدة یہ مصدر ہے اگرچہ اس میں واؤ کم ہے جو فعل وعد میں پائی جاتی ہے لیکن اس واؤ کے عوض(بدلے) آخر میں تاء ہے لہذا یہ مصدر ہے اسم مصدر نہیں۔
 
Top