Roshni ek Jugnu Ki.jpg

خطابت وصحافت کی طرح اظہار رائے کا ایک اہم اسلوب اور مؤثر ذریعہ شعر وشاعری ہے، اس کے ذریعہ جذبات واحساسات اور تخیلات کی ترجمانی کی جاتی ہے، بہت سے شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسلام کی ترجمانی کی اور اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت کے لیے اسے اپنا ہتھیار بنایا، شاعری اگر بوقت ضرورت اور اسلامی اصول وضوابط کے مطابق ہو تو ممدوح اور قابل تعریف ہے، لیکن اگر جنون کی حد تک ہو اس طرح سے کہ ہمیشہ اسی فکر میں سر گرداں رہیں تو یہ مذموم اور ناپسندیدہ عمل ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں جہاں شعر وشاعری کی مذمت بیان کی گئی ہے اور نبیﷺ کی ذات سے اس کی نفی کرتے ہوئے شان نبوت کے خلاف بتایا گیا ہے وہیں حکمت پر مبنی عمدہ اور نصیحت آموز اشعار کی اجازت دی گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالشُّعَرَاء یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوُونَ} [الشعراء: ۲۲۴] شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں، دوسری جگہ فرمایا: {وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُ إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِیْنٌ} [یسٓ: ۶۹] نہ تو ہم نے اس پیغمبر علیہ السلام کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے لائق ہے، وہ تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے، حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لأن یمتلي جوف الرجل قیحا یریہ خیر من أن یمتلی شعرا [مسلم: کتاب الشعراء: ۲۲۵۷] پیٹ کو خون اور پیپ سے بھرنا جو اسے خراب کردے شعر بھرنے سے بہتر ہے۔
مذکورہ بالا نصوص میں ان شعراء کی مذمت بیان کی گئی ہے جو مدح وذم میں غلو ومبالغہ سے کام لیتے ہیں، جو شاعرانہ تخیلات میں ہر وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں، جو اپنے کلام میں صدق وکذب کی تمیز نہیں کرتے، جن شعراء کی شاعری باطل افکار ونظریات کی تائید اور فروغ میں ہوتی ہے، جو آزاد وروشن خیال ہوتے ہیں، مگر جو اصول وضوابط کا لحاظ کرتے ہیں اور اسلامی حدود میں رہ کر حقیقت پسندانہ شاعری کرتے ہیں اور اپنے کلام کے ذریعہ کتاب وسنت کی تعلیمات کی تشریح کرتے ہیں، ایسے شعراء کو زبان رسالت سے إن من الشعر لحکمۃ [سنن أبي داؤد: کتاب الأدب، باب الشعر: ۳۷۵۵] یقینا شعر میں حکمت پائی جاتی ہے، کہہ کر نہ صرف اس کی اجازت دی گئی ہے بلکہ مدح سرائی بھی کی گئی ہے، صحابہ کرام میں حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ اور دیگر شعراء صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے اشعار کے ذریعہ مشرکین کی ہجو کرتے اور ان کی طرف سے کیے گئے اعتراضات اور الزامات کا دفاع کرتے تھے، الغرض شعر وشاعری کے دو رخ ہیں، مثبت اور منفی، مثبت پہلو کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
شعر وادب یہ ایک وہبی فن ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ جامعہ کے طلبہ میں شروع سے ہی شعری ذوق رہا ہے، میدان شعر وادب میں جامعہ کے ہونہار لائق وفائق فارغین کا کردار اظہر من الشمس ہے، ان میں فضیلۃ الشیخ مولانا یوسف جمیلؔ جامعی صاحب حفظہ اللہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے، جنہوں نے منہج سلف کے تعارف اور توحید وسنت کی نشر واشاعت میں اپنی شاعری کا استعمال کیا اور اب تک اس عظیم الشان خدمت پر حکومت ہند اور دیگر ملی وفلاحی تنظیموں سے ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں اور آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہو کر وقت کے کبار شعراء وادباء سے داد تحسین حاصل کرچکے ہیں، اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کی مخلصانہ جہود کو شرف قبولیت بخشے، صحت وعافیت سے نوازے اور تادیر آپ کا سایہ جماعت پر باقی رکھے۔ آمین۔
اس سلسلے کی ایک کڑی جامعہ میں فضیلت سال اول میں زیر تعلیم ایک طالب عزیزم محمد تمیم صدیقی بن محمد مستقیم صدیقی ہیں، جنہیں شعری ذوق حاصل ہے اور حسب ضرورت شاعری کرتے ہیں، انہوں نے اپنا تخلص باسمؔ اختیار کیا ہے، عزیزم کی کوششوں اور محنتوں کا ثمرہ آپ کے ہاتھوں میں ہے، جس میں شعر وادب کے کئی اصناف سخن پر طبع آزمائی کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ اس حقیر کوشش کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین۔
اس موقع پر میں عزیزم باسمؔ سلمہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے کلاس کی درسی کتابوں اور دیگر ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی نبھاتے ہوئے وقت نکال کر اس طرف بھی توجہ مبذول کی اور کامیابی حاصل کی اور اساتذۂ جامعہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے حوصلہ افزائی کی اور اپنی پرخلوص دعاؤں سے نوازا، اسی طرح میں ممنون ومشکور ہوں شانتی سندیشم ویلفئر سوسائٹی کے باوقار ذمہ داروں کا جنہوں نے اس مجموعہ کی طباعت کے مرحلے کو آسان کردیا اور اسے شائع کرکے حوصلہ افزائی فرمائی اور اب یہ عمدہ اور دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ فجزاھم اللہ أحسن الجزاء۔
اللہ تعالیٰ جامعہ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور اس کے مستقبل کو روشن وتابناک بنائے۔ آمین۔
نیک خواہشات کے ساتھ
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
۲؍اپریل ۲۰۱۸ء / بروز پیر
 
Last edited:
Top