ذیشان خان

Administrator
فرض نمازوں کے بعد دعا کی شرعی حیثیت

عہد ِنبوتﷺ میں نماز کے بعد اجتماعی دعا کا تصور نہ تھا۔ صحیح بخاری کے الفاظ یوں ہیں: وخرج سرعان الناس وقالوا: أقصرت الصلاة یعنی ’’مسجد سے جلدی نکلنے والے مقتدی یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ کیا نماز کم کردی گئی ہے۔‘‘
اور صحیح بخاری میں باب التسلیم کے تحت حدیث ہے کہ حضرت اُمّ سلمہؓ نے فرمایا:
’’نبی اکرمﷺجب سلام پھیرتے تو عورتیں فوراً اُٹھ کھڑی ہوتیں اور آپ ؐ تھوڑے سے وقفہ کے لئے تشریف رکھتے۔‘‘ امام ابن شہاب زہریؒ کہتے ہیں کہ ’’میرا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺاس لئے بیٹھے رہتے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے گھروں کو رخصت ہوجائیں۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاریؒ نے بھی سلام پھیرنے کے باب کے تحت نقل کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے رہنے کا عام حالات میں اس وقت معمول نہ تھا۔ اس سے نماز سے فراغت کے بعد اجتماعی دعا کا تصور ناپید ہوجاتا ہے۔
صحیح بخاری کے باب الذکر بعد الصلوٰۃ کی احادیث پر غور کیجئے یہاں صرف ذکرو اذکار کی تصریح ہے جس سے اجتماعی دعا کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے اور صحیح بخاری کے باب مکث الامام في مصلاه بعد السلام اور ’’باب من صلی بالناس فذکر حاجة فتخطاهم‘‘ پر بار بار غور فرمائیے، حقیقت ِحال منکشف ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ
ابن ابی شیبہ (۱؍۳۰۲) میں ہے کہ حضرت عمرؓ سلام پھیرنے کے بعد اِمام کے بیٹھے رہنے کو بدعت قرار دیتے تھے اور عبداللہ بن عمر نماز کے اِتمام پر فوراً کھڑے ہوجاتے یا جاے نماز سے اُٹھ جاتے۔ (کتاب الصلوٰۃ باب من قال یستحب إذا سلم أن یقوم وینحرف: ۱؍۳۰۱)
حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی سلام کے بعد ایسی کیفیت ہوتی، گویا گرم پتھر پر تھے۔ فوراً اُٹھ کھڑے ہوتے۔ (ابن ابی شیبہ :۱؍۳۰۲)
نیز صحیح حدیث میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ
کان رسول اللهﷺلم يقعد إلا مقدار مايقول: اللهم أنت السلام…الخ
’’رسول اللہﷺسلام پھیرنے کے بعد اللهم أنت السلام پڑھنے کے مقدار برابر بیٹھتے۔‘‘ (صحیح مسلم:کتاب المساجد باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ وبیان صفتہ)
اور حضرت ابن مسعودؓ سے بھی رسول اللہﷺکا عمل اس طرح مروی ہے۔ اگرچہ اہل علم نے اس حدیث کی مختلف توجیہیں کی ہیں مگر ایک ظاہری توجیہ یہ بھی ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد آپ فوری تشریف لے جاتے۔
حسن بصری سلام کے بعد پیچھے ہٹ جاتے یا فوراً اُٹھ کر چلے جاتے۔( مصنف ابن ابی شیبہ:۱؍۳۰۲) …اور طاؤس جب سلام پھیرتے تو بلا توقف فوراً اُٹھ کر چلے جاتے، بیٹھتے نہیں تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱؍۳۰۲)… ابن مسعودؓ جب سلام پھیرتے تو صف سے اُٹھ کر مشرق یا مغرب کی طرف چلے جاتے۔ (مصنف عبدالرزاق: رقم ۲،۳۲۲۱؍۲۴۳ اور مصنف ابن ابی شیبہ:۱؍۳۰۲)… نسائی میں ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں: رسول اللہﷺنماز ہلکی اور پوری پڑھا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺکے ساتھ نماز پڑھی، آپ ا سلام پھیرتے ہی اُٹھ جاتے، پھر میں نے حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ بھی سلام کے بعد کود کر اپنی جگہ سے کھڑے ہوجاتے، گویا کہ گرم پتھر پر تھے۔ (صحیح سنن نسائی: رقم۷۹۴ للالبانی) …
ابوالزناد کہتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن زید سے سناکہ وہ ان اماموں کے عمل کو کوتاہی شمار کرتے تھے جو سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے رہتے ہیں اور فرماتے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ امام اٹھ کر فوراً چلا جائے۔ (سنن کبریٰ بیہقی:۶؍۱۸۳) …شعبی اور ابراہیم نے بھی بیٹھے رہنے کو مکروہ سمجھا ہے۔ (سنن کبریٰ بیہقی:۲؍۱۸۲) …اور یہ بات حضرت عمر سے بھی منقول ہے۔ (سنن کبریٰ بیہقی: ۲؍۱۸۲) … فقہ مالکی کی کتاب المدونۃ میں امام مالک کا قول منقول ہے کہ امام کو سلام کے فوراً بعد اُٹھ کر چلے جانا چاہئے، بیٹھے نہیں رہنا چاہئے۔ ا ن آثار کو ذکر کرنے سے مقصود عملاً اجتماعی دعا کی نفی ہے ورنہ اگر کوئی بیٹھا رہے تو اسکابھی جواز ہے جس طرح کہ دیگر روایات میں تصریح ہے ۔
فتوی اللجنۃ الدائمۃ
سعودی عرب میں کبار علما پر مشتمل اللجنۃ الدائمۃ نے بھی اس بارے میں فتوی صادر کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں
’’عبادات کی جملہ اقسامِ توقیفی ہیں۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی ہیئات اور کیفیات کا طریق کار کتاب و سنت سے ثابت ہونا چاہئے۔ نماز کے بعد اجتماعی دعا کی مزعومہ صورت کا ثبوت نبی اکرمﷺکے قول، فعل اور تقریر سے نہیں ملتا۔ ساری خیر اسی میں ہے کہ ہم آپؐ کی ہدایت کی پیروی کریں۔
نماز سے فراغت کے بعد آپؐ جو وِرد و و ظائف پڑھتے تھے، وہ مستند دلائل سے ثابت ہیں بعد میں انہی وظائف پر آپ کے خلفائے راشدین،صحابہ کرام اور ائمہ سلف صالحین کار بند رہے۔ رسول اللہﷺکے فرامین کے خلاف جو طریقہ ایجاد کیا جائے گا، وہ مردود ہے۔ نبی رحمت ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهوردّ‘‘ جو دین میں نیا طریقہ ایجاد کرے، وہ ناقابل قبول ہے۔
جو امام سلام پھیرنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے اور اس کے مقتدی بھی ہاتھ اٹھائے آمین، آمین کہتے ہیں، ان حضرات سے مطالبہ کیا جائے کہ نبیﷺکے عمل سے دلیل پیش کریں ورنہ اس عمل کی کوئی حقیقت نہیں، وہ ناقابل قبول اور مردود ہے۔ جس طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَ‘‘ سنت سے ہمیں کوئی دلیل نہیں ملی سکی جو ان کے دعویٰ کی مستند بن سکے۔‘‘ ( فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ :۷؍۹۹)
اس فتویٰ کو میں نے اپنی عربی تصنیف ’’جائزۃ الأحوذي في التعلیقات السلفیۃ علی سنن الترمذي‘‘ میں بھی درج کیا۔ راقم السطور نے بلادِ عربیہ کا بالعموم اور سعودی عرب کا بالخصوص متعدد مرتبہ دورہ کیا ہے، کسی مقام پرنماز کے بعد اجتماعی دعا کا عمل نظر نہیں آیا۔ دراصل یہ برصغیر میں ہندوستانی اور پاکستانی بعض سلفیوں اور اکثرحنفیوں کی ایجاد ہے۔ اس کو دین کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کیا ان ممالک میں رہائش پذیر سب جاہل اور مسئلہ ہذا سے نابلد ہیں، حقیقت ِحال اس کے برعکس ہے۔
منقول
 
Top