ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1608486753197.jpgFB_IMG_1608486712721.jpg

اردو کی خدمت

✍⁩ ابو تقی الدین رحمی

اسلامی آداب واطوار کے موضوع پر امیر المومنین فی الحديث امام بخاری - رحمہ اللہ - کی ایک مایہ ناز تصنیف "الأدب المفرد" کے نام سے ہے، اس کتاب میں ابواب کی کل تعداد 644 اور مرفوع وموقوف روایات کی تعداد 1322 ہے.
اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر ہر دور میں اہل علم نے اس پر کام کیا، کسی نے ترجمہ کیا تو کسی نے شرح لکھی، کسی نے اس میں وارد احادیث کی تخریج کی تو کسی نے صحیح اور ضعیف احادیث کے درمیان خط امتیاز کھینچا.
سید نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد مولانا عبد الغفار نشر مہدانوی نے مولانا ابو محمد ابراہیم آروی[ت:1902ء] کی فرمائش پر "الأدب المفرد" کا "سلیقہ" کے نام سے اردو ترجمہ کیا تھا، یہ ترجمہ شدہ کتاب 1309ھ میں مولانا آروی نے بڑے اہتمام سے اپنے مطبع خلیلی (آرہ) سے شائع کی تھی، مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی مرحوم کے بقول اس دور کے ہندوستانی اہل علم میں اس ترجمے کو بہت پسند کیا گیا تھا اور مدرسہ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے شائقینِ علم میں خاص طور سے اس کو پذیرائی حاصل ہوئی تھی.
"الأدب المفرد" کا ترجمہ "سلیقہ" تیرہ سو اٹھائیس (1328) حدیثوں پر مشتمل ہے اور بامحاورہ شگفتہ ترجمہ ہے، پوری کتاب تین حصوں میں ختم ہوئی ہے، ترجمہ کی زبان کا نمونہ ملاحظہ ہو.
"رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بغض مت رکھا کرو، حسد مت کیا کرو، اترا مت جایا کرو، خدا کے بندو! سب بھائی بھائی بن جاؤ اور مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑنا حلال نہیں" [صفحہ :88]
اس ترجمے سے پتا چلتا ہے کہ آج سے تقریباً 130 سال قبل علمائے اہل حدیث نے جہاں حدیث اور حدیث سے متعلق علوم کی خدمت کی وہاں اردو زبان کو بھی ایک خاص انداز سے قارئین کے سامنے پیش کیا، لہذا اردو کی نشوونما اور ترقی میں وہابیوں کا اہم رول ہے.
 
Top