اہل ایمان کے حق میں استغفار
شیخ ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
----------------------------------------------
استغفار کے آداب میں ایک ادب یہ ہے کہ اپنے حق میں استغفار کرنے کے ساتھ اپنے والدین، اعزہ واقارب اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لئے بھی استغفار کریں، جیساکہ کتاب وسنت میں ہمیں اسی بات کی تعلیم دی گئی ہے:
انبیاء کی سنت ہے:
انبیاء علیہم السلام نے جہاں اپنے لئے استغفار کیا وہیں اپنے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے حق میں بھی استغفار کیا،جیساکہ ابراھیم علیہ السلام کی دعا میں ہے:
﴿رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لِی وَلِوَ ٰ⁠لِدَیَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ یَوۡمَ یَقُومُ ٱلۡحِسَابُ﴾
[إبراهيم ٤١]
نوح علیہ السلام نے دعا کی :
رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِی وَلِوَ ٰ⁠لِدَیَّ وَلِمَن دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنࣰا وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِینَ إِلَّا تَبَارَۢا.[نوح :٢٨]
نبیﷺ کو حکم:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ مومنین و مومنات کے حق میں استغفار کریں:
چند آیات ملاحظہ فرمائیں:
فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِۗ وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ﴾ (محمد ١٩)
نیز فرمایا:
فَبِمَا رَحۡمَةࣲ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِیظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِی ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ یُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِینَ﴾
[آل عمران ١٥٩]
سورۃ الممتحنہ میں ہے :
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ إِذَا جَاۤءَكَ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتُ یُبَایِعۡنَكَ عَلَىٰۤ أَن لَّا یُشۡرِكۡنَ بِٱللَّهِ شَیۡـࣰٔا وَلَا یَسۡرِقۡنَ وَلَا یَزۡنِینَ وَلَا یَقۡتُلۡنَ أَوۡلَـٰدَهُنَّ وَلَا یَأۡتِینَ بِبُهۡتَـٰنࣲ یَفۡتَرِینَهُۥ بَیۡنَ أَیۡدِیهِنَّ وَأَرۡجُلِهِنَّ وَلَا یَعۡصِینَكَ فِی مَعۡرُوفࣲ فَبَایِعۡهُنَّ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ﴾ [الممتحنة ١٢]
سورۃ النساء میں فرمایا:
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوۤا۟ أَنفُسَهُمۡ جَاۤءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابࣰا رَّحِیمࣰا﴾ [النساء ٦٤]

حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نافرمان اور گنہگار بندوں کو ہدایت دے رہا ہے کہ جب ان سے کوئی غلطی اور نافرمانی ہو جائےتو آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ کے پاس اللہ سے استغفار کریں اور آپ سے بھی دعائے مغفرت کی درخواست کریں، جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرے گا، ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں معاف کر دے گا، اسی لئے آیت کے آخر میں اللہ نے کہا: لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابࣰا رَّحِیمࣰا۔ ( تفسیر ابن کثیر)

اسی طرح حدیث میں ہے: عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں خوش مزاجی دیکھی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ میرے لئے اللہ سے دعا کردیں تو آپ صلی اللہ وسلم نے کہا:
(اللَّهمَّ اغفِرْ لِعائشةَ ما تقدَّم مِن ذنبِها وما تأخَّر ما أسرَّتْ وما أعلَنَتْ)
اے اللہ! عائشہ کے اگلے، پچھلے اور اعلانیہ و پوشیدہ تمام گناہوں کو معاف کر دے،تو عائشہ رضی اللہ عنہا یہ دعا سن کر ہنسنے لگیں، یہاں تک کہ ہنستے ہنستے ان کا سر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں جا گرا تو آپ نے کہا:کیا میری دعا سے تمہیں خوشی ہوئی ہے؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ کی دعا مجھے کیوں نہ خوش کرے؟ تو آپ نے کہا: اللہ کی قسم ہر نماز میں میری امت کے لیے میری یہی دعا ہے۔

(السلسلة الصحيحة ٥‏/٣٢٤، حسن، شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج صحيح ابن حبان ٧١١١ • إسناده حسن)
زندوں کے ساتھ مردوں کے حق میں استغفار:
اسی طرح مومنوں میں جو زندہ ہیں ان کے حق میں استغفار کرنے کے ساتھ وہ اہل ایمان جو اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کے حق میں بھی استغفار کریں ، قرآن مجید میں سچے ، مخلص مومنوں کی یہی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے جو ایمان والے گزر چکے ہیں ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَٱلَّذِینَ جَاۤءُو مِنۢ بَعۡدِهِمۡ یَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَ ٰ⁠نِنَا ٱلَّذِینَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِیمَـٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِی قُلُوبِنَا غِلࣰّا لِّلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَاۤ إِنَّكَ رَءُوفࣱ رَّحِیمٌ﴾
[الحشر ١٠]

نماز جنازہ میں بھی ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ نماز جنازہ میں جہاں میت کے حق میں دعا کی جاتی ہے وہیں زندوں، مردوں ،حاضر، غائب، چھوٹے،بڑے، مرد ، عورت سب کے حق میں مغفرت کی دعا کی جاتی ہے ہے،
اسوہ نبوی ﷺ:
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل ایمان میں سے زندوں، مردوں اور مردوں و عورتوں سب کے حق میں استغفار کرتے تھے،
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا کی:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ وارْفَعْ دَرَجَتَهُ في المَهْدِيِّينَ، واخْلُفْهُ في عَقِبِهِ في الغابِرِينَ، واغْفِرْ لَنا وَلَهُ يا رَبَّ العالَمِينَ، وافْسَحْ له في قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ له فِيهِ.
(صحيح مسلم ٩٢٠ )
حدیث میں ہے ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اللہ تعالی کا آپ کے لیے حکم ہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے حق میں استغفار کریں،
إنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ البَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لهمْ
(صحيح مسلم ٩٧٤)
اسی طرح عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں رات گزارنے کی ہوتی تو آپ رات کے آخری حصے میں بقیع قبرستان جاتے اور وہاں مدفون تمام اہل ایمان کے حق میں دعاءمغفرت کرتے:
السَّلامُ علَيْكُم دارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتاكُمْ ما تُوعَدُونَ غَدًا، مُؤَجَّلُونَ، وإنّا، إنْ شاءَ اللَّهُ، بكُمْ لاحِقُونَ،
اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الغَرْقَدِ.
(صحيح مسلم ٩٧٤)

نیز حدیث میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین سے فارغ ہو جاتے تو وہاں ٹھہرتے اور تمام حاضرین سے کہتے:
استغفِروا لأخيكُم، وسَلوا لَهُ التَّثبيتَ، فإنَّهُ الآنَ يُسأَلُ
( صحيح أبي داود ٣٢٢١)
اپنے بھائی کے حق میں مغفرت اور ثابت قدمی کی دعا کرو کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا۔

بالخصوص مرحوم والدین کے حق میں زیادہ سے زیادہ مغفرت کی دعائیں کریں، ہماری دعاؤں سے اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے درجے بلند کرتا ہے جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ ہے:
إنَّ الرجُلَ لَتُرْفَعُ درجتُهُ في الجنةِ فيقولُ: أنّى لِي هذا؟ فيُقالُ: بِاستغفارِ ولَدِكَ لَكَ
(الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح ابن ماجه ٣‏/٢١٤ • حسن ،صحيح الجامع ١٦١٧)

کتاب وسنت کی مذکورہ تعلیمات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اہل ایمان کے حق میں استغفار کرنا ایک مشروع عمل ہے، انبیاء کرام کی سنت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کا حکم دیا ہے اور یہ ہمارے ایمان کا تقاضا بھی ہے کیونکہ ہم میں سے ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل ہو تاکہ وہ دخول جنت کا مستحق ہو سکے اسی طرح ہمیں تمام مومنین و مومنات کے حق میں بھی استغفار کرنا چاہئے تاکہ ان کی مغفرت ہوجائے ، حدیث نبوی ﷺ ہے:
لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى يُحِبَّ لأخِيهِ ما يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.
(صحيح البخاري ١٣ )
اور جب ہم اپنے مومن بھائیوں کے حق میں غائبانہ طور پر دعائے مغفرت کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر فرشتہ ہماری دعا پر آمین کہے گا اور وہ ہمارےحق میں اللہ سے دعا کرے گا، فرمان نبوی ﷺ ہے:
مَن دَعا لأَخِيهِ بظَهْرِ الغَيْبِ، قالَ المَلَكُ المُوَكَّلُ بهِ: آمِينَ، وَلَكَ بمِثْلٍ.
(صحيح مسلم ٢٧٣٢)

مومنین و مومنات کے حق میں استغفار کرنے کی فضیلت کے باب میں ایک حدیث بہت مشہور ہے:

[عن عبادة بن الصامت:] مَنِ استغفَرَ للمؤمنينَ وللمؤمناتِ، كتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ مؤمِنٍ ومؤمنةٍ حسنةً.

(الألباني (ت ١٤٢٠)، صحيح الجامع ٦٠٢٦ • حسن)
یعنی جو شخص مومنین و مومنات کے لئے استغفار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئےہر مومن اور مومنہ کی طرف سے ایک نیکی لکھے گا،
امام البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں اس حدیث کی تحسین کی ہے، مگر دیگر محققین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور علماء کا یہی راجح موقف ہے کہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں تین تین راوی ضعیف ہیں، بکر بن خنیس، عتبہ بن حمید، عیسیٰ بن سنان۔
(تفصیل اس لنک میں ملاحظہ فرمائیں، حديث ( مَن استغفر للمؤمنين كتب له بكل مؤمن حسنة ) - الإسلام سؤال وجواب (https://islamqa.info/ar/104460) حديث ( مَن استغفر للمؤمنين كتب له بكل مؤمن حسنة ) - الإسلام سؤال وجواب)
وضاحت:
مومنین و مومنات کے حق میں استغفار کی فضیلت اور اس کے اجر و ثواب کی تعیین اگرچہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے مگر یہ ایک مشروع تاکیدی اور کثیر الفوائدعمل ہے، اس لیے ہمیں اپنے حق میں استغفار کرتے ہوئے اپنے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے حق میں بھی استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے۔آمین
----------------------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
20 / دسمبر 2020 ، بروز اتوار
 
Top