ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1608551374263.jpg

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور دنیا داری!

✍ ابو تقی الدین رحمی

شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کا رات دن لکھنے پڑھنے اور پڑھانے کے سوا دوسرا مشغلہ نہیں تھا، نہ ان کے پاس کوئی ادارہ تھا، نہ دولت تھی اور نہ ہی ان کا کوئی کاروبار تھا.
خود ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - ایک مناظرہ میں اشعری قاضیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا :
"إن حُبست فوالله إن حبسي لمن أعظم نعم الله علي
وليس لي ما أخاف الناس عليه؛ لا مدرسة ولا أقطاع ولا مال ولا رئاسة ولا شيء من الأشياء".
"یعنی اللہ کی قسم اگر میں قید کر لیا گیا تو مجھ پر یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی، میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے کھونے کا مجھے ڈر ہے، نہ میں مدرسے کا مالک ہوں، نہ میں زمین جائداد رکھتا ہوں، نہ میرے پاس روپیہ پیسہ ہے، اور نہ ہی میں کسی منصب پر فائز ہوں، کوئی چیز میرے پاس نہیں ہے".
مورخین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ الملک الناصر نے ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ بہت سے لوگ آپ کے مطیع ہو گئے ہیں، اور آپ کے دل میں حکومت پر قبضہ کرنے کا خیال ہے؟! شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بڑے اطمینان کے ساتھ بلند آواز سے جس کو تمام حاضرین نے سنا جواب دیا :-
"أنا أفعل ذلك؟ والله إن ملكك وملك المغل لايساوي عندب فلساً".
"میں ایسا کرونگا؟ اللہ تعالیٰ کی قسم تمہاری اور تاتاریوں کی پادشاہت مل کر بھی میری نگاہ میں ایک پیسہ کے برابر نہیں".
مولانا غلام رسول مہر مرحوم نے لکھا ہے:
"(حضرت امام نے) عمر بھر شادی نہیں کی، نہ مال جمع کیا، نہ گھر بنایا، نہ کسی دوسرے مشغلہ میں مصروف ہوئے، ضروریات بہت محدود تھیں، بھائی سارا انتظام فرما دیتے تھے اور حضرت امام ہر طرف سے فارغ ہوکر صرف اپنے فریضۂ مجدديت کی تکمیل میں مصروف رہتے تھے".
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ایک معاصر صاحبِ "الكواكب الدرية" ان کی اس علمی یکسوئی، دینی انہماک ،اور دنیا سے بے لوثی وبے تعلقی کی شہادت ان الفاظ میں دیتے ہیں :-
"ما خالط الناس في بيع ولا شراء ولا معاملة ولا تجارة ولا مشاركة ولا مزارعة ولا عمارة ولا كان ناظرا أو مباشرا لمال وقف ولم يقبل جراية ولا صلة لنفسه من سلطان ولا أمير ولا تاجر ولا كان مدخرا دينارًا ولا متاعا ولاطعاما وإنما كانت بضاعته مدة حياته وميراثه بعد وفاته - رضي الله عنه - العلم، اقتدأ بسيد المرسلين، فإنه قال إن العلم ورثة الأنبياء، إن الأنبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ به أخذ بحظ وافر"
"یعنی انہوں نے لوگوں کے ساتھ بیع وشرا معاملۂ تجارت، شرکت، زراعت، عمارت وغیرہ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھا، نہ کبھی کسی مال وقف کے نگراں یا متولی رہے، نہ کبھی انہوں نے حکومت کا وظیفہ یا کسی سلطان، حاکم یا تاجر کی پیش کش قبول کی، نہ کبھی انہوں نے دینار ودرہم یا سامان یا خوراک جمع کی، ان کا سرمایہ اور ان کی پونجی جب تک زندہ رہے اور جب انتقال کیا تو ان کی میراث یہی علم تھا اور یہ سنت نبوی ہے، کیونکہ آنحضرت - صلی اللہ علیہ وسلم - نے فرمایا ہے، علما وارثین انبیا ہیں اور انبیا نے دینار ودرہم کبھی اپنی میراث میں نہیں چھوڑے، انہوں نے علم کی میراث چھوڑی، جس کو یہ میراث ملی وہ بڑا خوش نصیب ہے ".
مولانا علی میاں ندوی مرحوم شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے زہد وتجرید اور فقر اختیاری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
"ابن تیمیہ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ علم دین کی خدمت کے لئے وقف تھے، انہوں نے زندگی بھر کسی اور چیز سے سروکار نہیں رکھا، ان کے اکثر معاصرین، رفقا اور ہم عمر جن میں بڑے بڑے مخلص، بڑے بڑے فاضل تھے، حکومت کے مختلف عہدوں پر سرفراز رہے، یا انہوں نے کوئی دینی منصب یا انتظامی ذمہ داری قبول کی، یا عطیۂ سلطانی یا خلعتِ شاہانہ یا انعام و اکرام سے سرفراز ہوئے، یا حکومت کے وظیفہ خوار رہے، لیکن ابن تیمیہ کا دامن ساری عمر ان آلائشوں سے پاک رہا، انہوں نے علم ودین کے اشتغال، افتا، درس وتدریس ،وعظ وارشاد اور تصنیف وتالیف اور تحقیق وتدقيق کے سوا کسی مشغلہ سے تعلق نہیں رکھا".
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے رفیق درس اور ہم عصر شیخ علم الدین البرزالی [ت:738ھ] نے لکھا ہے :
"وجرى على طريقة واحدة من اختيار الفقر والتقلل من الدنيا ورد ما يفتح به عليه"
یعنی شروع سے آخر تک ان کی حالت یکساں رہی کہ انہوں نے ہمیشہ فقر کو ترجیح دی، دنیا سے بقدرِ ضرورت اور برائے نام تعلق رکھا اور جو ملا وہ واپس کر دیا ".
مولانا علی میاں ندوی ایک اور مقام پر رقمطراز ہیں:
"علم اگر کسی مدرس یا مفتی کے لئے ایک ضرورت، وقتی مشغلہ اور خدمت کی حیثیت رکھتا ہو، تو ابن تیمیہ کی وہ غذا اور اوڑھنا بچھونا بن گیا تھا، اور ان کی طبیعت ثانیہ ہو گیا تھا، شیخ سراج الدین ابوحفص البزار فرماتے ہیں :
"وكأن العلم كأنه قد اختلط بلحمه ودمه وسائره فإنه لم يكن مستعارا بل كان له شعارا ودثارا"
"یعنی ایسا معلوم ہوتا ہے تھا کہ علم ان کے رگ وریشہ میں سرایت کر گیا ہے، اور گوشت پوست بن گیا ہے، علم ان کے لئے کوئی عارضی اور وقتی مانگے کی چیز نہیں تھی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا".
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے دو بھائی شیخ زین الدین اور شیخ شرف الدین ان کا سارا انتظام فرما دیتے تھے ، مورخین نے لکھا ہے:
"شیخ زین الدین درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کرتے تھے، شیخ ابن تیمیہ کا سفر وحضر اور قید وبند میں ساتھ دیا".
ان کا دوسرا بھائی شیخ شرف الدین ہے، یہ بھی بڑے عالم تھے تاہم انہوں نے اپنے بھائی امام ابن تیمیہ کی طرح تصنیف وتالیف کا شغل نہیں رکھا، بحث ومباحثے میں بہت قوی اور زور دار تھے، اکثر اوقات مطالعۂ کتب اور تلاوت قرآن وعبادت میں گزارتے تھے، انہوں نے بھی اپنے بھائی امام ابن تیمیہ کی خوب خدمت کی، مولانا یوسف کوکن عمری نے لکھا ہے:
"شیخ زین الدین کی طرح شیخ شرف الدین نے بھی اپنے بھائی ابن تیمیہ کا پورا ساتھ دیا، اپنے بھائی کے ساتھ مصر گئے اور ان کے ساتھ قید میں رہے، اور پھر جب ایک زمانے کے بعد 712ھ میں دمشق آئے... اور جب شیخ ابن تیمیہ آخری مرتبہ دمشق میں قید کئے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ قید خانہ چلے گئے، اور وہیں 14 جمادی الاولی 727ھ کو بدھ کے دن وفات پائی".
 
Top