ذیشان خان

Administrator
بانئ جماعت اسلامی مودودی رافضی کاصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی

‫خلافت اور ملوکیت کی گندی فکر کو سمجھیں

‫انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کے بعد انسانیت میں سب سے زیادہ مقدس جماعت صحابہ کرام (رض) کی جماعت ہے۔ جن کے بارے میں اللہ پاک نے قرآن مجید میں اعلان کردیا کہ " رضی اللہ عنہم ورضواعنہ ترجمہ: اللہ پاک صحابہ کرام سے راضی ہو گئے اور صحابہ کرام اللہ پاک سے راضی ہوگئے۔

‫پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوھم من بعدی غرضا فمن احبھم فبحبی احبھم و من ابغضھم فببغضی ابغضھم من آذاھم فقد آذانی فقد آذی اللہ ومن آذی اللہ فیوشک ان یا خذہ" (مشکوٰت شریف،ص۵۵۴،بحوالہ ترمذی) ‬

‫ترجمہ: (اللہ سے ڈرو میرے اصحاب کے بارے میں۔ اللہ سے ڈرو میرے اصحاب کے بارے میں۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنا لینا۔ جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی تو جلد ہی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں پکڑے گا۔)‬

اہل سنت الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ معیار حق ہیں یعنی صحابہ کرامؓ نے جو کہا اور کیا وہ ہمارے لئے مشعل راہ اور حجت ہے۔ صحابہ کرام کے معیار ہونے پر قرآن کی آیات، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کا اجماع ہے۔ ‬
‫لیکن جماعت اسلامی کے بانی ابو الاعلی مودودی صاحب کے نزدیک صحابہ کرامؓ معیار حق نہیں۔ ‬
‫مودودى #صحابہ_کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:‬
‫1 "رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے کسی کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو ہر ایک کو خدا کے بتائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے، اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو اس کو اسی درجہ میں رکھے"۔ (دستور جماعت اسلامی پاکستان،ص۱۴)‬

‫2 " چناچہ یہ یہودی اخلاق ہی کا اثر تھا کہ مدینہ میں بعض انصار اپنے مہاجر بھائیوں کی خاطر اپنی بیویوں کو طلاق دیکر ان سے بیاہ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے"(تفہیمات،ج۲،ص۴۷،طبع دوم)‬

‫3 "کوئی غلط کام محض شرفِ صحابیت کی وجہ سے مشرّف نہیں ہو جاتا بلکہ صحابی کے مرتبہ بلند کی وجہ سے وہ غلطی اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے"‬
(خلافت و ملوکیت،ص۱۴۳)

‫4 " سود خوری جس معاشرے میں ہوتی ہے وہاں سے غلطیاں ہوتی ہیں جو صحابہ نے کی، کیونکہ صحابہ کرام میں غرور تھا، نفرت والے تھے،کنجوس اور بخیل تھے اور حضرت عثمان ڈرپوک تھے،ان سب پیٹوں میں شراب تھی اور اسی وجہ سے مسلمانوں کو غزوہ احد میں شکست ہوئی"۔ ( تفہیم القرآن،ج۱،ص۲۸۸ ،۱۹۹۶ ایڈیشن)‬

‫مودودی کی #حضرت_عثمانؓ کی شان میں گستاخی‬
‫1‬ ‫"حضرت عثمانؓ جن پر اس کار عظیم(خلافت) کابار رکھا گیا تھا، ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں۔ اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔ " (تجدید و احیائے دین،ص۳۶)‬

‫2 " لیکن ان کے بعد جب حضرت عثمانؓ جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ وہ اس پالسی سے ہٹتے چلے گئے۔ انہوں نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کئے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدف اعتراض بن کر رہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے افریقہ کے مال غنیمت کا پورا خمس(پانچ لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا"۔ (خلافت و ملوکیت،صفحہ و حاشیہ ۱۰۶،طبع دوم)‬

‫ 3 " حضرت عثمانؓ کی پالسی کا یہ پہلو بلا شبہ غلط تھا اور غلط کام بہر حال غلط ہے خواہ وہ کسی نے کیا ہو،اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا نہ عقل و انصاف کا تقاضہ ہے اور نہ دین کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے"۔ (خلافت و ملوکیت،ص۱۱۶)‬

‫مودودی کی #حضرت_معاویہؓ کی شان میں گستاخی‬
‫۔کاتب وحی امیر معاویہؓ پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:" ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبون میں بر سر منبر حضرت علیؓ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی میں منبر رسولؐ پر عین روضہ نبوی کے سامنے حضورؐ کے ؐمحبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علیؓ کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے۔ کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا شریعت تو درکنار انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعہ کے خطبہ کو گندگی سے آلودہ کرنا تو دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا"۔ ( خلافت و ملوکیت،ص ۱۷۴،طبع ۲۳)‬

حضرت_علیؓ کی شان میں بد زبانی کرتے ہوئے مودودی صاحب لکھتے ہیں" جنگ جمل کے بعد انہوں نے قاتلین عثمانؓ کے بارے میں اپنا رویہ بدل دیا۔ انکے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف ایک ہی کام ایسا نظر آیا جس کو غلط کہنے کے سوا چارہ نہیں"۔( خلافت و ملوکیت،ص۱۴۶)‬

#امھات_المؤمنین #حضرت_عائشہؓ اور #حضرت_حفصہؓ کے بارے میں فحش کلامی کرتے ہوئے مودودی لکھتے ہیں:‬
‫1 " وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کچھ زیادہ جری ہوگئیں تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زبان درازی کرنے لگی تھیں"۔(ہفت روزہ ایشیا الا ہور،۱۹نومبر۱۹۷۶ء بحوالہ دو بھائی ص۵۸) ‬
2 حضرت عثمانؓ کےخون کا مطالبہ جسے لے کر دو فریق اُٹھ کھڑے ہوئے دونوں کی پوزشن آہینی حیثیت سے کسی طرح درست نہیں مانی جا سکتی (خلافت و ملوکیت ، ص ۱۲۴

‫ امت زہریلے سانپوں کو کب سے دودھ پلاتی رہی ہے ان کی حقیقت جانے بغیر، اب پتا چلا کہ یہ جتنے زیادہ مشھور تھے اتنے ہی زیادہ گمراہ کرنے والے اسلام دشمن تھے، اللہ کی لعنت ہو ہر صحابی کے گستاخ پر۔۔!!
خاص طور پر جب گستاخ اپنی کتابوں کے ذریعے اپنے کفر کے سارے ثبوت چھوڑ گئے ہوں ۔۔!‬
 
Top