قارئین کرام : لفظِ ایمان باب افعال کا مصدر ہے ، اس کے لغوی معنی میں کئی اقوال ہیں :

1️⃣ - اکثر اہل لغت کا کہنا ہے کہ ایمان کا لغوی معنی " تصدیق " ہے ، وہ اس پر اجماع کا دعوی بھی کرتے ہیں ، چنانچہ ازہری کہتے ہیں : اتفق أهل العلم من اللغویة وغیرهم أن الإیمان معناه التصديق ".(تهذیب اللغة : 513/5).
" لغوی اور دوسرے اہل علم کا اتفاق ہے کہ ایمان کا معنٰی تصدیق ہے ".
ان کی دلیل اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے : " وَمَاۤ أَنتَ بِمُؤۡمِنࣲ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صَـٰدِقِینَ ". ( يوسف : 17).
" اور آپ تو ہماری بات نہیں مانیں گے ،گو ہم بالکل سچے ہی ہوں ".
یہاں ایمان بمعنی تصدیق ہے ۔

2️⃣ - ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، جو کہ " ا۔ م۔ ن " (امن) سے مشتق ہے۔
لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔ ( الصحاح للجوهري : 5/2071 ،والقاموس المحيط للفيروز آبادي ، ص : 1518 ، والمفردات للأصبهاني، ص : 35) .
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فإن اشتقاقه من الأمن الذي هو القرار والطمأنينة، وذلك إنما يحصل إذا استقر في القلب التصديق والانقياد ". (الصارم المسلول ، ص : 519)۔
"ایمان امن سے مشتق ہے جو کہ در حقیقت قرار اور اطمینان کا نام ہے اور یہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب دل کے اندر تصدیق اور انقیاد (اطاعت و فرمابرداری کا جذبہ) پیدا ہو ".

3️⃣ - ایمان بمعنی اِقرار ہے ۔ اور اسی معنی کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے ۔
چنانچہ فرماتے ہیں : ومعلوم أن الإيمان هو الإقرار؛ لا مجرد التصديق، والإقرار ضمن قول القلب الذي هو التصديق، وعمل القلب الذي هو الانقياد " .(مجموع الفتاوى :7/638).
" ایمان درحقیقت اقرار کا نام ہے نہ کہ مجرد تصدیق کا، اور اقرار میں" قولِ قلب " بھی داخل ہے جسے تصدیق کہتے ہیں ساتھ ہی " عملِ قلب " کو بھی شامل ہے جسے انقیاد کہتے ہیں ۔
مزید فرماتے ہیں کہ : " ایمان میں اگرچہ تصدیق بھی شامل ہے، لیکن وہ صرف تصدیق کا نام نہیں، بلکہ اقرار وطمانیت بھی اس میں داخل ہے " ۔
اور جن لوگوں نے ایمان کو صرف تصدیق کے ساتھ خاص کیا ہے ان کی مختلف وجوہات سے تردید فرمائی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

1-لفظِ ایمان " با " او ر " لام "دونوں کے ساتھ متعدی ہوتاہے ، جبکہ لفظِ تصدیق یا تو خود ہی متعدی ہوتا ہے یا " با " کے ساتھ ۔

2 - ایمان معنوی اعتبار سے لفظ " تصدیق " کے مترادف نہیں ہے، کیونکہ لفظ " ایمان " میں امن ، تصدیق اور امانت ، تین معانی پائے جاتے ہیں ، جبکہ تصدیق میں امن اور امانت کے معانی موجود نہیں ہیں ۔

3 - لغت میں لفظ " تصدیق " کی طرح لفظ "ایمان " تکذیب کا مقابل اور ضد نہیں ہے ۔
بلکہ ایمان کی ضد کفر ہے اور اس میں صرف تکذیب نہیں ہوتی ، بلکہ یہ عام ہے ، بسا اوقات حقیقت جانتے ہوئے بھی مخالفت کی جاتی ہے ،جبکہ تصدیق کی ضد صرف تکذیب ہے ۔
( واضح رہے کہ ابلیس کا کفر تصدیق نہ کرنے کی وجہ سے نہ تھا ، اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو سن کر اس حکم کی تکذیب نہیں کی، بلکہ ظاہری اطاعت سے انکار کیا تھا ، اس تکبر کی وجہ سے وہ کافر قرار پایا)

4 - ایمان صرف خبرِ غائب کے بارے میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے کوئی کہے کہ " طلعت الشمس، أو غربت " ( سورج طلوع یا غروب ہو گیا )، تو اس کے لئے لفظِ ایمان نہیں ، بلکہ تصدیق مستعمل ہو گا، یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ : آمنا له ، بلکہ یہ کہیں کہ " صدقناہ " ، کیونکہ وہ غائب نہیں رہا ، اس کے برعکس لفظِ تصدیق غائب و حاضر دونوں طرح کے امور کے لئے استعمال ہوجاتاہے ( کتاب الإيمان الكبير، ص، : 442-446).

اسی طرح شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : " جو لوگ کہتے ہیں کہ ایمان کا معنی تصدیق ہے ان کی بات محل نظر ہے، وہ اس وجہ سے کہ " تصدیق " متعدی بنفسہ ہوتا ہے، جبکہ ایمان متعدی بنفسہ نہیں ہوتا، مثلا آپ " صدقته " کہہ سکتے ہیں مگر " آمنته " نہیں کہہ سکتے، بلکہ آپ کو " آمنت به " يا " آمنت له " کہنا پڑے گا ۔
اس بنا پر ہم ایسے فعل لازم کی جو صرف حرف کے ساتھ متعدی ہوتا ہے، اس کی تفسیر اس فعل متعدی کے ساتھ نہیں کر سکتے جو بذات خود مفعول بہ کو نصب دیتا ہو، مزید یہ کہ لفظ " صدقت " لفظ " آمنت " کا معنی بھی نہیں دیتا، اس لئے کہ "آمنت" " صدقت " سے زیادہ طمانیت کا فائدہ دیتا ہے ۔
لھذا اگر ایمان کی تفسیر " اقرار" کے ساتھ کی جائے تو یہ زیادہ مناسب رہے گا، اسی بنا پر ہم کہیں گے کہ ایمان اقرار سے عبارت ہے، اور تصدیق بغیر اقرار کے نہیں ہوتا ، سو جس طرح آپ " أقر له" اور " أقر به " کہتے ہیں اسی طرح آپ " آمن له" اور " آمن به " کہہ سکتے ہیں". ( شرح العقيدة الواسطية : 2/229) .
خلاصہ کلام یہ کہ لغت کے اعتبار سے ایمان کا راجح معنی" اقرار قلبی " ہے ۔

اور "اقرار" دو چیزوں سے مرکب ہے :

1 - قلبی اعتقاد : یعنی دل کا اخبار کو تصدیق کرنا ۔

2 - قلبی عمل : یعنی دل کے اندر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کرنا ۔
 
Top