قارئین کرام : شریعت کی اصطلاح میں" ﺍﯾﻤﺎﻥ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ کہ : " ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎ اور پختہ تصدیق اور کامل اقرار واعتراف کرنا کہ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺫﺍﺗﯽ ﻭ ﺻﻔﺎﺗﯽ نام اور ﮐﻤﺎﻻﺕ ﺑﺮﺣﻖ ﮨﯿﮟ، وہ اکیلا ہی عبادت کا مستحق ہے۔ اور ﻣﺤﻤﺪ ‏صلی اللہ علیہ وسلم اس ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺻﺎﺩﻕ ﻭ ﻣﺼﺪﻭﻕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺁﭖ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب، دین اسلام، امور غیب، احکام شرعیہ وتمام جزئیاتِ دین کے متعلق جو خبر دی ہے اور ﮐﺘﺎﺏ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ہم تک پہونچایا ہے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﺎﻧﯿﺖ ﻭ ﺻﺪﺍﻗﺖ ہر قسم کے شکوک وشبہات سے بالا تر ہے ۔ اور دل کا ان باتوں پر اس طرح سے مطمئن ہو جانا کہ اس کے اثرات انسان کے کردار وسلوک اور اعضاء و جوارح پر ظاہر ہو جائیں، اور ساتھ ہی ان کے اوامر کو بجالائیں اور نواہی سے اجتناب کریں ۔

اختصار کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ " ہر قسم کے ظاہری وباطنی طاعات کا نام ایمان ہے " ۔
باطن سے مراد قلبی اعمال ہیں ،یعنی دل کا تصدیق اور اقرار کرنا ۔
جبکہ ظاہر سے بدنی افعال مراد ہیں ،جیسے نماز، روزہ اور حج جیسے دیگر واجبات ومندوبات ۔

ایمان کی تعریف : "الإيمان هو : اِعتقاد بالجنان ، وإقرار باللسان، وعمل بالجوارح والأركان؛ يزيد بالطاعة وينقص بالعصيان " .
" قلبی اعتقاد، زبانی اقرار اور اعضاء وجوارج سے عمل کرنے کا نام ایمان ہے جو طاعت کے کاموں سے بڑھتا ہے اور عصیان نافرمانی سے گھٹتا ہے ۔

اسی کو سلف صالحین نے مختلف تعبیر میں بیان بیان کیا ہے البتہ سب کا معنی ،مفہوم اور مقصود ایک ہی ہے ۔
چنانچہ بعض نے کہا ہے کہ : ایمان قول وعمل سے مرکب ہے جو گھٹتا اور بڑھتا بھی ہے ۔
قول سے مراد قولِ قلب اور قول لسان ہے جبکہ عمل سے مراد عمل قلب اور عمل جوارح ہے ۔
بعض کا کہنا ہے کہ : ایمان قول وعمل اور نیت کا نام ہے ۔
جبکہ بعض نے یوں تعریف کی ہے کہ : ایمان قول وعمل اور نیت واتباع سنت سے مرکب ہے ۔
( دیکھئے، کتاب السنة لأبي عبد الرحمن عبد الله بن أحمد بن حنبل، ص، : 264 - 276 ، اثر نمبر : 585 - 618، والسنة لحرب الكرماني، ص : 68 - 74،اثر نمبر : 119 - 146).
گویا کہ سلف کے نزدیک ایمان کا اطلاق تین عناصر اور اجزاء پر ہوتا ہے اور یہ تینوں امور پورے دین اسلام کو شامل ہیں ۔
 
Top