زلف رکھنے کا تعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال سے ہے ۔
اور افعال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دو قسمیں ہیں ۔

1 - افعال صریح
2 - افعال غیر صریح

افعال صریح کی نو قسمیں ہیں :

1- فعل جبلی ۔
2 - فعل عادی ۔
3 - ایسا فعل جس کا تعلق دنیوی امور سے ہو ۔
4 - ایسا فعل جس کا تعلق خرق عادت( معجزات) سے ہو ۔
5 - فعل بیانی ۔
6 - فعل امتثالی وتنفیذی ۔
7 - فعل متعدی ۔
8 - وہ فعل جس کا تعلق خصائص نبوت سے ہو ۔
9 - وہ فعل جسے وحی کے انتظار میں کیا ہو ۔(أفعال الرسول : 1/213).

نوٹ : یہاں پر بعض علماء کرام نے افعال صریح کی تین، بعض نے پانچ، بعض نے چھ ، بعض نے دس اور بعض نے ان مذکورہ قسموں کے علاوہ کچھ دوسرے اقسام کا تذکرہ کیا ہے جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے ۔
( تفصیل کے لئے آپ " أفعال الرسول : 215-1/213، و " المعتمد لابی الحسین البصری : 1/385 ،و أضواء البيان : 4/300 .وغیرہ دیکھ سکتے ہیں).

قارئین کرام : یہاں پر ہم صرف " فعل جبلی اور فعل عادی " سے متعلق کچھ باتیں جاننے کی کوشش کریں گے ۔

1️⃣ - فعل جبلی : مراد وہ افعال جن کا تعلق انسان کی فطرت سے ہو ۔
چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے، آپ کے اندر بھی تمام بشری خصلتیں موجود تھیں فرق صرف یہ تھا کہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رسالت کی تبلیغ کے لئے چن لیا اور آپ کو اپنا پیغمبر اور رسول بنایا تھا ۔
جیسا کہ ارشاد ہے : " قُلۡ إِنَّمَاۤ أَنَا۠ بَشَرࣱ مِّثۡلُكُمۡ یُوحَىٰۤ إِلَیَّ أَنَّمَاۤ إِلَـٰهُكُمۡ إِلَـٰهࣱ وَ ٰ⁠حِدࣱۖ ". ( الكهف : 110).
" تم کہہ دو کہ : میں تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں ۔ (ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ) میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے ".

لہذا پیغمبر بنائے جانے کے باوجود بھی آپ ایک انسان ہی تھے اور بتقضائے بشریت وانسانیت دیگر انسانوں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جسمانی ونفسانی ضرورتیں در پیش ہوتی تھیں ۔
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کام انسانی فطرت اور طبیعت کے مطالبہ پر کرتے ، مقتضیِ رسالت کے طور پر نہیں ۔

فعل جبلی کی دو شکلیں ہیں :

1 - جو بلا قصد کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوتے ۔

جیسے : قاتل ہمزہ سے کراہت ، ضب کے گوشت کو کھانے سے کراہیت ، یا ہنستے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا چاند کے ٹکڑے کی طرح چمکنا ، یا نیند اور غفلت میں آپ کے اعضاء مبارک کا ادھر ادھر منتقل ہونا وغیرہ ۔

اس نوع کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے ۔

2 - جو قصد وارادہ سے صادر ہوتے ہوں مگر انسانی ضرورت کی وجہ سے ۔
جیسے : قضائے حاجت کرنا، کھانا پینا، گھر بنانا، کپڑے پہننا، سونا، علاج کرنا وغیرہ ۔

اس کی بھی دو شکلیں ہیں ۔

1 - جس کا تعلق عبادت سے بالکل نہ ہو جیسے کوئی خاص کھانا تناول فرمانا ۔ مثلا : کھجور اور گوشت وغیرہ ۔
یا معین لباس زیب تن فرمانا جیسے قباء، عباء اور قمیص وغیرہ ۔

2 - جس کا عبادت سے کچھ تعلق ہو ۔
چاہے وہ عبادت کے درمیان واقع ہوا ہو جیسے دوسری وتیسری رکعت کے بعد جلسہ استراحت، خطبہ کے دوران لاٹھی یا قوس پر ٹیک لگانا ۔
چاہے وہ عبادت کے وسیلے میں واقع ہوا ہو ۔ جیسے مکہ میں " کدی " کے طریق سے داخل ہونا اور " کداء" کے راستے سے نکلنا یا عیدین میں آتے اور جاتے وقت راستہ تبدیل کرنا وغیرہ ۔
چاہے وہ عبادت سے بالکل قبل ہی صادر ہوا ہو جیسے صلاۃ فجر سے پہلے سنت پڑھنے کے بعد لیٹنا
چاہے وہ عبادت کے فورا بعد صادر ہوا ہو جیسے نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب سے مقتدی کی طرف مڑنا ۔

یہ سب مندوب کے قبیل سے ہیں

( تفصیل کے لئے دیکھئے، افعال الرسول ودلالاتها على الأحكام الشرعية : 233-1/219).

2️⃣ - فعل عادی : اس سے مراد وہ افعال جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی عادت پر چلتے ہوئے کیا ۔
اس میں معاملات، آداب اور جبلی امور بھی داخل ہیں ۔
جیسے قباء، امامہ اور جبہ زیب تن فرمانا ۔ لمبے بال رکھنا وغیرہ ۔

لہذا یہ اور ان جیسی دیگر چیزیں " مباح " کے اندر داخل ہیں ۔

سوائے دو حالتوں کے :

1 - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کا حکم دیا ہو یا اس کی ترغیب دلائی ہو تو ایسی صورت میں وہ ایک شرعی عمل ہو جائے گا ۔
2 - کسی قرینہ کی بنا پر اس کا شریعت سے ارتباط ظاہر ہو جائے اور وہ قرینہ " قولی " نہ ہو ۔
جیسے میت کو قبلہ رخ کر کےقبر میں داخل کرنا ۔ کیونکہ اس کا تعلق شریعت سے لگتا ہے ۔ (أفعال الرسول : 1/237).

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ بال رکھنے کا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ " عرف " سے ہے ۔

لہذا جب عرف سے ہے تو اس کا رکھنا سنت نہیں ہو سکتا چاہے زلف ہو یا کچھ اور ۔
اور جب اس کا تعلق سنت سے نہیں تو لمبے بال رکھنے یا نہ رکھنے سے ثواب یا عقاب ملنے والا نہیں ہے ۔

نبى اکرم صلى اللہ عليہ وسلم نے بال لمبے بھى ركھے اور انہيں مونڈا بھى، اور اسے لمبے كرنے ميں كوئى اجر وثواب نہيں ركھا اور نہ ہى اسے مونڈنے ميں كوئى گناہ ؛

صرف اتنا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بالوں كا خيال ركھنے اور انہيں سنبھالنے كا حكم ديا ہے ۔
جیسا کہ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ کہتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : " مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ ". (سنن أبي داود | أَوَّلُ كِتَابِ التَّرَجُّلِ | بَابٌ : فِي إِصْلَاحِ الشَّعَرِ : 4163).
"جس كے بال ہوں تو وہ ان كى تكريم کرے " ۔

نیز عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا کہتی ہيں كہ : كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ ". ( صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْحَيْضُ | بَابُ غَسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ : 295).
" ميں حيض كى حالت ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سر كے بالوں كو كنگھى كيا كرتى تھى "

ان دونوں احادیث سے یہ قطعا معلوم نہیں ہوتا ہے کہ لمبے بال رکھنا سنت ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص حالت میں ادب اور رہنمائی سکھلاتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ : " جس کے لمبے بال ہوں وہ انہیں صاف وستھرہ رکھے اور ان میں تیل کنکھی کرے ".
اس لئے کہ " اکرام " اس شخص کے ساتھ خاص ہے جس کے بال لمبے ہوں ۔
زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حدیث لمبے بال رکھنے والوں کو نظافت اور حسن ہیئت پر ابھارتی ہے ۔ اور " اکرام " لمبے بال رکھنے والوں کے لئے سنت ہے لمبے بال رکھنا سنت نہیں ہے ۔

*نبی اکرم صلی اللہ کے بال کیسے تھے؟*

پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایک ہی طرح سے بال نہیں رکھتے تھے بلکہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے بال کبھی كانوں كى لو تک پہنچ رہے ہوتے تھے ".
جیسا کہ انس رضى اللہ تعالى عنہ کہتے ہيں كہ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ ". (صحيح البخاري | كِتَابٌ : اللِّبَاسُ | بَابُ الْجَعْدِ : 5903).
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كندھوں پر پڑ رہے ہوتے تھے "۔

کبھی كانوں اور گردن كے درميان ہوتے ".

جیسا کہ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضى اللہ تعالى عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : " كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا، لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلَا الْجَعْدِ ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ ". ( صحيح البخاري | كِتَابٌ : اللِّبَاسُ | بَابُ الْجَعْدِ : 5905).
" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال درمیانہ تھے، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے ".

بسا اوقات كندھوں كے ساتھ لگ رہے ہوتے تھے ".
جیسا، کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : " كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ ".( سنن أبي داود | أَوَّلُ كِتَابِ التَّرَجُّلِ | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي الشَّعَرِ : 4187).
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال "وفرہ" سے بڑے اور "جمۃ" سے چھوٹے تھے ".

- الوفرۃ : جب سر كے بال كانوں كےنچلے حصہ تک پہنچ جائيں تو انہيں وفرہ كہا جاتا ہے ۔
- الجمة : جب سر كے بال كندھوں پر گرنے لگيں تو انہيں "جمہ" كہا جاتا ہے " .

اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بال لمبے ركھتے تو ان كى چار چوٹی بناتے تھے ۔
جیسا کہ ام ہانى رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ ". ( سنن الترمذي | أَبْوَابُ اللِّبَاسِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : دُخُولُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ : 1781).
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ".

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں : " حديث جس پر دلالت كرتى ہےكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كندھوں كے قريب ہوا كرتے تھے يہ غالب حالات ميں تھے، اور بعض اوقات اس سے بھى لمبے ہو جاتے حتى كہ اس كى چٹيا بنائى جاتيں، جيسا كہ ابو داود اور ترمذى نے حسن سند كے ساتھ ام ہانى رضى اللہ تعالى عنہا سے بیان کیا ہے ". ( فتح البارى : 10 / 360 ).

*سوال : لمبے بالوں کا تعلق سنت سے کیوں نہیں ہے جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لمبے بال رکھتے تھے ۔*
جواب : گزشتہ سطور میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ " بال " رکھنے کا تعلق " تشریعی افعال " اور " سنت " سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق " عادات" اور " عرف " سے ہے ۔

اس کے دلائل درج ذیل ہیں :

1 - ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ : " احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ ".(سنن أبي داود | أَوَّلُ كِتَابِ التَّرَجُّلِ | بَابٌ : فِي الذُّؤَابَةِ : 4195).
" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا : یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو ".

چنانچہ اگر لمبے بال رکھنا سنت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل کاٹنے یا مکمل رکھنے کے درمیان کبھی اختیار نہ دیتے بلکہ کہتے کہ مکمل رکھو کیونکہ یہی میری سنت ہے !!!

2 - وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ طَوِيلٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذُبَابٌ ذُبَابٌ ". قَالَ : فَرَجَعْتُ فَجَزَزْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، وَهَذَا أَحْسَنُ ".( سنن أبي داود | أَوَّلُ كِتَابِ التَّرَجُّلِ | بَابٌ : فِي تَطْوِيلِ الْجُمَّةِ : 4190).
" میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : نحوست ہے، نحوست ! تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا : میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے ".

لہذا اگر لمبے بال رکھنے کا تعلق سنت سے ہوتا تو آپ کبھی بھی بال کاٹنے کو مستحسن قرار نہیں دیتے ۔ جبکہ یہاں پر بال کاٹنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم " احسن " سے تعبیر فرما رہے ہیں ۔

3 - اگر لمبے بال رکھنا مقصود ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اپنی امت کو اس کی جانب رہنمائی فرماتے جیسے کہ داڑھی رکھنے کے سلسلے میں رہنمائی کی ۔ یا کوئی علت بیان کر دیتے جو اس کی مشروعیت کی دلیل ہوتی ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی چیز محفوظ نہیں ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لمبے بال رکھنے کا تعلق سنت سے نہیں ہے ۔

گویا بال کے رکھنے اور نہ رکھنے کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں ۔

1- جس کو شریعت نے باقی رکھنے کا حکم دیا ہو جیسے داڑھی کے بال ۔
2 - جس کو شریعت نے زائل کرنے کا حکم دیا ہو جیسے مونچھ ،بغل اور زیر ناف کے بال ۔
3 - جس سے شریعت نے سکوت اختیار فرمائی ہو جیسے سر کے بال ۔

لمبے بال رکھنے والوں کی قسمیں :

ایسے لوگوں کی دو قسمیں ہیں ۔

1 - جو اسے تقرب الی اللہ کی نیت سے رکھتے ہیں اور ان پر تقوی اور صلاح کے علامات بھی عیاں ہوتے ہیں ۔
تو ان کا یہ عمل محمود اور لائق ثواب دو چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے ہو سکتا ہے ۔

1 - اس سے مقصود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہو ۔
ان دلائل کی وجہ سے جو اتباع رسول کے سلسلے میں عام ہیں ۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآَخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ". ( الأحزاب : 21).
" تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے، جو بھی اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو ".

2 - لمبے بال رکھنے میں کوئی شرعی رکاوٹ موجود نہ ہو ۔
جیسے اس کا یہ عمل اس کی قوم کے عرف کے خلاف نہ ہو، یعنی : اس کی قوم کے شریف اور قابل احترام لوگ لمبے بال رکھنا ناپسند نہ کرتے ہوں ۔ کیونکہ چند شرائط کے ساتھ " عرف " بھی حجت ہے ۔
یا پھر لمبے بال رکھنا فاسق و فاجر اور اوباش قسم کے لوگوں کا شعار اور علامت ہو ۔
چنانچہ اگر اس کی قوم میں لمبے بال رکھنے کا رواج نہ ہو تو لمبے بال رکھنا اس کے لئے مکروہ ہوگا ۔
اور اگر فاسق وفاجر اور اوباش قسم کے لوگوں کا شعار اور پہچان ہو ایسی صورت میں ان کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز ہوگا ۔

اسی وجہ سے اسلاف لمبے بال رکھنے سے روکا کرتے تھے ۔

جیسا کہ اسامہ کہتے ہیں کہ : " كانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ : إذا كانَ يَوْمُ الجُمُعَةِ بَعَثَ الأحْراسَ فَيَأْخُذُونَ بِأبْوابِ المَسْجِدِ، ولا يَجِدُونَ رَجُلًا مُوَفَّرَ الشَّعْرِ يَعْنِي مُبَذَّرَ الشَّعْرِ إلّا جَزُّوهُ ". ( مصنف ابن أبي شيبة : 5/190).
" عمر بن عبد العزیز جمعہ کے روز محافظ دستوں کو بھیجتے ، جو جاکر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور جس کا بھی لمبا اور گھنا بال پاتے اسے کاٹ دیتے تھے ".
اسی طرح ابن عبد البر فرماتے ہیں : " صارَ أهْلُ عَصْرِنا لا يَحْبِسُ الشَّعْرَ مِنهُمْ إلّا الجُنْدُ عِنْدَنا لَهُمُ الجُمَمُ والوَفَراتُ وأضْرَبَ عَنْها أهْلُ الصَّلاحِ والسِّتْرِ والعِلْمِ حَتّى صارَ ذَلِكَ عَلامَةً مِن عَلاماتِهِمْ وصارَتِ الجُمَمُ اليَوْمَ عِنْدَنا تَكادُ تَكُونُ عَلامَةَ السُّفَهاءِ وقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أنَّهُ قالَ مَن تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنهُمْ أوْ حُشِرَ مَعَهُمْ ". (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد لابن عبد البر : 6/80).
" ہمارے دور كے لوگوں ميں صرف فوجى ہى لمبے بال ركھتے ہيں ، ان كے كانوں اور گردن تک بال ہوتے ہيں ، اہل اصلاح اور اہل علم وعمل ايسا نہيں كرتے، حتى كہ يہ ان كى نشانی بن كر رہ گئى ہے، اور كانوں تک بال ركھنا ہمارے ہاں بے وقوفوں كى علامت بن چكى ہے ! جبکہ نبى كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمايا : " جس كسى نے بھى كسى قوم سے مشابہت اختيار كى تو وہ انہى ميں سے ہوگا يا ان كے ساتھ اٹھايا جائيگا ".

2 - جو لمبے بال کفار کی تقلید میں یا عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے یا پھر عورتوں کو مائل کرنے کے لئے رکھے اور اس پر فاسق وفاجر کے علامات ظاہر بھی ہو چکے ہوں تو اس کا یہ عمل شرعا مذموم قرار پائے گا اور گنہگار بھی ہوگا ۔
لہذا جس شخص پر فسق کے علامات ظاہر ہوں اور وہ لمبے بال رکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کا دعویٰ کرے تو بہت ساری چیزوں میں سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اسے اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھا جائے گا " ۔

جیسا کہ شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں : " سر كے بالوں كو لمبا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال بعض اوقات كندھوں تک لمبے ہو جاتے تھے ۔
ليكن اس كے باوجود يہ " عادات " اور "عرف" كے تابع ہے، اس ليے اگر كسى معاشرے اور عرف ميں يہ عادت ہو كہ وہاں لمبے بال صرف ایک مخصوص غلط قسم كا گروہ ركھتا ہو ، تو پھر اہل مروؤت كے ليے ايسا نہيں كرنا چاہيے ۔
اس ليے کہ بال لمبے ركھنے كا مسئلہ ان مباح اشياء ميں شامل ہوتا ہے جو لوگوں كى عادات اور عرف كے تابع ہے، لہذا جب لوگوں كى عادت اور عرف ميں ہو كہ ہر شخص شريف اور غير شريف افراد سب ايسا كرتے ہوں تو پھر اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر ايسا صرف گرے پڑے لوگ ہى كرتے ہوں تو پھر شرف و مقام اور مرتبہ ركھنے والے شريف افراد كو ايسا نہيں كرنا چاہيے، اور اس پر يہ اعتراض نہيں ہوتا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جو كہ سب سے افضل اور اعلى مقام و مرتبہ ركھتے ہيں ان كے بال لمبے تھے، كيونكہ اس مسئلہ ميں ہمارى رائے يہ ہے كہ بال ركھنا سنت اور عبادت ميں شامل نہيں، بلكہ يہ عادات اور عرف كے تابع ہے " ( فتاوى نور على الدرب : 2/22، بتصرف ).

خلاصہ يہ كہ :
ایک مسلمان کو بال رکھنے ميں عادت اور عرف كى پيروى كرنى چاہيے ۔
اگر قبیلے اور علاقے کے معزز اور لائق اعتماد واعتبار لوگ لمبے بال رکھتے ہیں تو رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
اور اگر قبیلے اور علاقے کے معزز اور قابل اعتبار لوگ لمبے بال کو صرف یہ کہ نہ رکھتے ہوں بلکہ ناپسند بھی کرتے ہوں تو ایسی صورت میں لمبے بال رکھنا جائز نہیں ہے ۔
اور یہی حقیقت بھی ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں لمبے بالوں کو عموماً فاسق وفاجر اور بیکار قسم کے لوگوں کا شعار سمجھا جاتا ہے لہذا اگر یہی صورت ہو تو نہ رکھنا ہے بہتر اور درست ہے ۔
 
Top