ذیشان خان

Administrator
فقہی مذاہب کی طرف انتساب کا حکم

✍⁩ فاروق عبد اللہ نراین پوری

اس مسئلہ میں تفصیل ہے۔

اگر تعصب کی بنا پر انتساب کرتا ہے اور کتاب وسنت کی دلیل واضح ہو جانے کے بعد بھی مذہبی تعصب کی بنا پر اسے نہیں مانتا تو یہ جائز نہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے، خود ائمہ مذاہب نے انھیں دلیل کی ہی اتباع کا حکم دیا ہے۔

لیکن اگر یہ انتساب بطور شرف ہے، اور مذہب کے لئے تعصب نہیں کرتا تو یہ جائز ہے۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے تھے: أنا حنبلي ما لم يخالف الدليل

تو اس طرح کے انتساب میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں، اور اکثر وبیشتر علمائے سلف اسی قبیل سے ہیں۔
شیخ ابن باز حنبلی بھی تھے اور اہل حدیث بھی۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں مسئلہ میں دلیل کی بنا پر شیخ نے مذہب حنبلی کی مخالفت کی ہے۔

شیخ محمد بن حسین الجیزانی جو اپنی اصول فقہ وقواعد فقہیہ کی عمدہ تصنیفات کے لئے معروف ومشہور ہیں ان کے ایک درس میں حاضر تھا، اس مسئلہ پر بہترین درس شیخ نے پیش کیا تھا۔
شیخ کہ رہے تھے کہ اگر تمھیں کسی کا امتحان لینا ہو کہ وہ متعصب ہے یا نہیں تو دیکھو کہ جس مذہب کی طرف مُنتسِب ہے اس مذہب کے امام کی کسی مسئلہ میں مخالفت کرتا ہے یا ہر مسئلہ کو کھنچ تان کر بیجا تاویل کرکے امام کے دفاع کی کوشش کرتا ہے۔ تمھارے لئے واضح ہو جائےگا کہ وہ متعصب للمذہب ہے یا متبع دلیل۔
 
Top