ذیشان خان

Administrator
اہل حدیث امام و مؤذن کا اجرت لینا

مقلدین کا ایک نیا اعتراض ہے کہ اہل حدیث صرف قرآن وحدیث کو مانتے ہیں مگر کہیں نہ کہیں اقوال رجال بھی پر بھی عمل کرتے ہیں جیسے کہ مؤذن اور امام کا اجرت لینا۔
ہم ایسے جاہل مقلدوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید کی تعلیم ، خطبہ جمعہ ، امامت وغیرہ پر اُجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ اس کی ممانعت کے بارے میں قرآن و سنت کے اندر کوئی صریح نص موجود نہیں ہے۔ اور اس سلسلے میں بھی ہم اقوال رجال نہیں بلکہ قرآن وحدیث سے ہی دلیل پکڑتے ہیں ۔
چلو دلیل نوٹ کرو:
ایک دلیل عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کا ایک بستی سے گزر ہوا بستی والوں نے مانگنے پر بھی ان کی مہمان نوازی نہ کی۔ اچانک ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا۔ ان کے افراد صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور پوچھا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے اُجرت لے کر دَم کی حامی بھری۔ تو انہوں نے بکریوں کے ایک ریوڑ کا وعدہ کر لیا۔ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس پر دَم کیا اور متاثرہ جگہ پر اپنا لعاب لگایا تو وہ آدمی بالکل تندرست ہو گیا۔ وہ صحابی رسول رضی اللہ عنہ بکریاں لے کر واپس آیا تو دوسرے ساتھیوں نے کہا تو نے تو کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے۔ گویا اس چیز کو انہوں نے نا پسند کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اخذ علیٰ کتاب اللّٰہ اجرًا)تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سب سے زیادہ جس چیز پر تم اُجرت لینے کا حق رکھتے ہو، وہ اللہ کی کتاب ہے۔'' (صحیح بخاری کتاب الاجارہ باب الشروط فی الرقبہ)
بخاری ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: (واضربو الی بسھمٍ)کہ میرے لئے بھی حصہ نکالو۔ بخاری شریف کی اس صحیح حدیث سے ثابت ہو گیا کہ قرآن پر اُجرت لی جا سکتی ہے۔ اس میں قرآن کی تعلیم ، امامت اور خطبہ جمعہ بھی داخل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ عام ہیں اور ان میں وہ شامل ہیں۔ اگر اُجرت درست نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ کہتے کہ میرا بھی حصہ نکالو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیشہ حلال اور پاکیزہ چیز ہی استعمال کرتے تھے۔
دوسری دلیل نکاح میں خاوند پر بیوی کے لئے حق مہر دینا ضروری ہے ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اذھب فقد انکحتکھا بما معک من القرا
(بخاری کتاب النکاح باب التزویج علی القرآن)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قرآن مجید کی تعلیم کی اُجرت دلوائی ہے۔ اگر اُجرت درست نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی قرآن کی تعلیم کو حق مہر مقرر نہ کرتے۔ امام مالک نے اس حدیث کے تحت لکھا ہے:
''کہ اس سے قرآن کی تعلیم پر اُجرت لینا جائز ہو گیا۔'' (فتح الباری ج۹،ص۱۲۱)
حیرت ہے مقلدوں کے اپنے کرتوت پہ ؟؟
مقلدوں کا فتوی تھا :
''کہ اذان، حج، قرآنی تعلیم اور امامت پر اُجرت لینا جائز نہیں۔'' (ہدایہ اخریہ ص۳۰۳)
مگر احناف اپنے ائمہ کی اس بات پر قائم نہیں رہ سکے۔ اس وقت امام ابو حنیفہ کی تقلید کو نظر انداز کر کے دارالعلوم دیو بند سمیت تمام مدارس میں اساتذہ تنخواہ وصول کرتے ہیں چنانچہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ اس دور میں ہمارے بعض مشائخ نے قرآن کی تعلیم پر اُجرت لینے کو اچھا سمجھا ہے کیونکہ دینی امور پر عمل میں سستی ظاہر ہو چکی ہے۔ اُجرت کے جائز نہ رکھنے میں قرآن کے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہے اور اسی پر آج فتویٰ ہے (یعنی اُجرت لینا جائز ہے)۔
لاحول ولا قوۃ الا باللہ ،،،،،،،،،،
دوسروں کی آنکھوں میں تنکا تلاش کرنے والوں کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔​
 
Top