ذیشان خان

Administrator
انگوٹھی کے احکام وآداب

✒: مامون رشید ہارون رشید سلفی

زیب و زینت اختیار کرنا حسین وجمیل بننے کی کوشش کرنا اور خوب صورت ودیدہ زیب دکھنا ہر انسان کی شدید ترین خواہشات کا حصہ ہے اور ہو بھی کیوں نہ جب کہ یہ اس کا شرعی فطری اور عقلی حق ہے ...اللہ تبارک و تعالیٰ انسانوں کے لیے زینت اختیار کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:"هو الذي سخر الْبحْر لتأكلُوا منه لحْمًا طَرِيًّا وتستَخْرجُوا منْه حِلْيةً تلْبسُونها"(النحل :14)
اور (دیکھو) وہی ہے جس نے سمندر تمہارے لیے مسخر کردیا کہ اس سے تروتازہ گوشت نکالو اور کھاؤ، اور زیور کی (قیمتی اور خوشنما) چیزیں نکالو جنہیں آرائش کے لیے تم پہنتے ہو،
اسی طرح لوگوں کو زینت اختیار کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:"قل من حَرم زينة اللَّه, الَّتي أَخْرجَ لعبَادِهِ والطَّيِّبَاتِ مِنَ الرزق"(الأعراف :23) ( اے پیغمبر علیہ السلام )آپ ان لوگوں سے کہیئے کہ اللہ کی زینتیں جو اس نے اپنے بندوں کے برتنے کے لیے پیدا کی ہیں اور کھانے پینے کی اچھی چیزیں کس نے حرام کی ہیں۔..؟
قارئین کرام! انگوٹھی بھی انہیں زیب و زینت کی اشیاء میں سے ایک ہے جسے خواتین وحضرات بڑے شوق سے اپنی انگلیوں میں سجاتے ہیں اور اپنے حسن وجمال میں نکھار پیدا کرتے ہیں, شریعت اسلامیہ میں دیگر امور حیات کی طرح انگوٹھی پہننے کے بھی چند احکام و آداب بتائے گئے ہیں اس مختصر سی تحریر میں ان میں سے چند احکام کی وضاحت کی کوشش کی گئی ہے...

اول: مختلف دھاتوں سے بنی ہوئی انگوٹھیوں کے احکام.

(1) سونے کی انگوٹھی: مردوں کے لیے مطلقا حرام ہے خواہ انگوٹھی کل کے کل سونے کی بنی ہو یا اس میں صرف پالش کی شکل میں سونے کی ادنی مقدار شامل ہو جبکہ عورتیں بلا جھجک خالص سونے کی انگوٹھی پہن سکتی ہیں..حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"أنَّه نهى عن خاتَمِ الذَّهَبِ" (أخرجَه البخاري 5864، ومسْلم 2089). اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے روکا۔(اس میں ہے کہ) ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا. (أخرجه البخاري 1239 واللفظ له، ومسلم 2066).
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ (کی انگلی ) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، تو آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرمایا "تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے ۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا:اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کوئی فائدہ اٹھا لو۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم !میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا ۔جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے۔(أخرجه مسلم :5472)

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:' ریشم کا لباس اورسونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتو ں کے لیے حلال کیا گیا ہے"(أخرجه الترمذي 1720 ، وابن ماجه 3597 وأحمد 394 -392 وصححه الألباني رحمهم الله أجمعين)
اسی طرح اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ سونے کے زیورات مردوں کے لیے حرام ہیں اور عورتوں کے لیے حلال, جیسا کہ امام ابن عبد البر نے (الاستذکار 8/303) کے اندر, قاضی عیاض نے (اکمال المعلم 6/603) کے اندر, امام ابن حجر نے (فتح الباری 10/317) کے اندر, امام قرطبی نے (تفسیر قرطبی 10/87) کے اندر, امام نووی نے (شرح صحیح مسلم 14/32) کے اندر اور علامہ صنعانی نے (التحبير لإيضاح معاني التيسير 4/589) کے اندر اس پر اجماع نقل کیا ہے.

(2) چاندی کی انگوٹھی: مطلقا مرد و خواتین سب کے لیے جائز ہے... حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :"اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق، وكان في يده، ثم كان بعد في يد أبي بكر، ثم كان بعد في يد عمر، ثم كان بعد في يد عثمان، حتى وقع بعد في بئر أريس، نقشه: محمد رسول الله " ( أخرجه البخاري 5873 ومسلم 1656) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں ، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ، اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش ” محمد رسول اللہ “ تھا ۔
اور اس پر امام ابن حزم نے (مراتب الإجماع ص: 150) کے اندر، امام ابن عبد البر نے (التمهيد:17/99) کے اندر, قاضی عیاض نے (إكمال المعلم :6/606) کے اندر اور امام ابن تیمیہ نے (مجموع الفتاوى:25/63) کے اندر اجماع نقل کیا ہے رحمہم اللہ جمیعا .

(3) لوہا پیتل اور تانبہ وغیرہ کی انگوٹھی پہننا علی الاطلاق سب کے لیے جائز ہے...کیونکہ منع اور عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اصول فقہ میں یہ قاعدہ معروف ہے "الأصل في الأشياء الحل حتى يثبت تحريمها بوجه يعتد به" یعنی استعمال اور زیب و زینت کی تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کا استعمال مباح اور جائز ہے یہاں تک کہ صحیح دلیل کی روشنی میں اس کی حرمت ثابت ہو جائے.
اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان اس صحابی کے لیے جنہوں نے اس عورت سے نکاح کیا تھا جس نے اپنے آپ کو رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو ہبہ کر دیا تھا "إلتمس ولو خاتما من حديد" (بخاری ومسلم) صورت استدلال یہ ہے کہ اگر لوہے کی انگوٹھی پہننا جائز نہ ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایسی چیز کو مہر بنانے کا حکم نہیں دیتے جس کا پہننا حرام ہو کیونکہ انگوٹھی سے انتفاع صرف پہن کر ہی کیا جاتا ہے... تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں میرا مضمون "لوہے کی انگوٹھی" لوہے کی انگوٹھی | دی فری لانسر (https://thefreelancer.co.in/?p=6766) )

(4) ہیرا موتی یاقوت زبرجد وغیرہ قیمتی جواہرات کی انگوٹھی علی الاطلاق مرد و خواتین سب کے لیے پہننا جائز ہے ...کیونکہ منع اور عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اصول فقہ میں یہ قاعدہ معروف ہے "الأصل في الأشياء الإباحة حتى يثبت تحريمها بوجه يعتد به"
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :"هو الذي سخر الْبحْر لتأكلُوا منه لحْمًا طَرِيًّا وتستَخْرجُوا منْه حِلْيةً تلْبسُونها"(النحل :14)
اور (دیکھو) وہی ہے جس نے سمندر تمہارے لیے مسخر کردیا کہ اس سے تروتازہ گوشت نکالو اور کھاؤ، اور زیور کی (قیمتی اور خوشنما) چیزیں نکالو جنہیں آرائش کے لیے تم پہنتے ہو،
امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آیت میں سمندر سے نکلے ہوئے زیورات کی حلت کی صراحت ہے جبکہ سمندر سے صرف موتی نکلتا ہے لہذا وہ نص قرآنی کی رو سے حلال ہے.(المحلی :10/87) موتی کے علاوہ دیگر جواہرات کو بھی اسی کے حکم میں مانا جائے گا کیونکہ ان کے درمیان کوئی شرعی فارق نہیں ہے.

دوم: انگوٹھی کس ہاتھ کی انگلیوں میں پہننا چاہئے...؟
دونوں ہاتھوں میں سے کسی بھی ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی پہننا بالاتفاق جائز ہے...حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"(أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس خاتم فضة في يمينه، فيه فص حبشي، كان يجعل فصه مما يلي كفه"( أخرجه مسلم :2094).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی،اس میں حبش کا نگینہ تھا،آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی یا آدھی رات گزرنےکو تھی ،پھر آپ تشریف لائے اور فرمایا : ’’بلاشبہ (دوسرے )لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو چکے ، اور تم ہو کہ نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے ہو ۔‘‘ حضرت انس نے بتایا : جیسے میں (اب بھی )آپ کی چاندی سے بنی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انھوں نے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے چھوٹی انگلی سے (اشارہ کیاکہ انگوٹھی اس میں تھی ۔) ( أخرجه مسلم :1448)
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر اپنی انگوٹھی بائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے. (أخرجه أبو داود 4228، والبيهقي في شعب الإيمان: 6363, صَحَّح إسنادَه الألباني في صحيح سنن أبي داود :4228).

امام محمد باقر بیان کرتے ہیں کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھی پہنتے تھے (أخرجه التِّرمذي 1743 واللَّفظُ له، والطبراني 3/23 2540، والبيهقي في شعب الإيمان: 6366. قال التِّرمذي: حسن صحيح، وصَحَّح الأثر الألباني في صحيح سنن التِّرمذي: 1743)
اسی طرح دونوں ہاتھوں میں انگوٹھی پہننے کے جواز پر امام نووی نے (شرح النووي على مُسْلِم: 14/73) کے اندر اجماع نقل کیا ہے...

البتہ ارجحیت وافضلیت میں اختلاف ہے کہ کس ہاتھ میں پہننا افضل ہے, راجح یہ ہے کہ افضل کوئی بھی نہیں ہے,انسان جس ہاتھ میں چاہے پہنے اللہ کے رسول اور سلف صالحین سے دونوں ہاتھوں میں پہننا ثابت ہے اگر بالخصوص کسی ایک ہاتھ میں پہننا افضل ہوتا تو اللہ کے رسول اور صحابہ کرام اسی کو اختیار کرتے...

سوم: انگوٹھی کس انگلی میں پہننا چاہئے... ؟

(1) عورتیں ہاتھ کی کسی بھی انگلی میں انگوٹھی پہن سکتی ہیں ان کے لیے کسی قسم کی کوئی ممانعت نہیں ہے... امام نووی فرماتے ہیں :"وأجمع المسلمون على أن السنة جعل خاتم الرجل في الخنصر، وأما المرأة فإنها تتخذ خواتيم فى الأصابع كلها" ((شرح النووي على مسلم:14/71) مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ مردوں کے لیے ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں انگوٹھی پہننا مسنون ہے، جبکہ عورتیں ہاتھ کی تمام انگلیوں میں انگوٹھی پہن سکتی ہیں.

(2) مردوں کے لیے (خنصر) ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں انگوٹھی پہننا مسنون ومستحب ہے...حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"صنع النبي صلى الله عليه وسلم خاتما... إني لأرى بريقه في خنصره" (أخرجه البخاري 5874) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک انگوٹھی بنوائی... اور بیشک میں آپ کی چھوٹی انگلی میں(اب بھی) اس کی چمک دیکھ رہا ہوں.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في هذه- وأشار إلى الخنصر من يده اليسرى "(أخرجه مسلم 2095) اللہ کے رسول کی انگوٹھی اس میں تھی اور اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کیا.
اور اس پر امام ابن حزم رحمہ اللہ نے (مراتب الإجماع:176 ) کے اندر ع اور امام نووی رحمہ اللہ نے(شرح النووي على مسلم:14/71) کے اندر اجماع نقل کیا ہے.

(3) مرد حضرات شہادت کی انگلی اور بیچ والی انگلی کے علاوہ بقیہ انگلیوں میں انگوٹھی پہن سکتے ہیں...کیونکہ ممانعت صرف شہادت کی انگلی اور بیچ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ہے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أتختم في إصبعي هذه أو هذه، قال: فأومأ إلى الوسطى والتي تليها"(أخرجه مسلم:5493) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایاتھا کہ میں ان دونوں میں سے کسی انگلی میں انگوٹھی پہنوں،پھر انھوں نے درمیانی اور(انگوٹھے کی طرف سے) اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
بعض علما جیسے امام ابن عبد البر امام نووی اور عام شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں جو نہی ہے وہ تحریم کے لیے نہیں بلکہ تنزیہ کے لیے ہے... (ملاحظہ فرمائیں التمہید:1/140-141)

چہارم:کتنی انگوٹھی پہن سکتے ہیں... ؟
اس کی کوئی محدود تعداد متعین نہیں ہے جتنی چاہیں پہن سکتے ہیں اصل زینت ہے خواہ ایک سے حاصل ہو یا دس سے لیکن بہر حال اسراف وتبذیر سے بچنا لازمی ہے.

پنجم: انگوٹھی میں نگینہ لگانے کا حکم.

(1) انگوٹھی میں بالاتفاق چاندی کا نگینہ لگانا جائز ہے... حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كان خاتَمُه مِن فِضَّةٍ، وكان فَصُّه منه. (أخرَجَه البُخاريُّ :5870). اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا.

(2) انگوٹھی میں چاندی کے علاوہ دوسری چیزوں کا نگینہ بھی لگانا جائز ہے...اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ [الأعراف: 32]. آئے پیغمبر پ کہہ دیجئے کہ جن زینت کی چیزوں کو اللہ رب العالمین نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرمایا ہے انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے ؟
اس آیت کریمہ سے مستنبط اصول فقہ کا قاعدہ ہے :"الأصل في أنواع التجملات والزينة الإباحة " خوبصورتی اور زینت اختیار کرنے کے اشیاء میں اصل اباحت ہے.(ملاحظہ فرمائیں: تفسیر محاسن التاویل للقاسمی :5/46)
اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"كان خاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم من ورق، وكان فصه حبشيا"(أخرجه مسلم :5487) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس میں حبش کا نگینہ لگا ہوا تھا.
امام نووی رحمہ اللہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:"حبشی سے مراد یہ ہے کہ وہ نگینہ جزع یا عقیق(ایک قسم کا قیمت پتھر ) سے بنا ہوا تھا کیونکہ ان دونوں کے معادن (کان) حبشہ اور یمن میں پائے جاتے ہیں(شرح النووي على مسلم: 14/71). اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ انگوٹھی میں غیر چاندی کا نگینہ لگانا بھی جائز ہے.

(3) انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھنا مسنون ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایسے ہی رکھتے تھے...حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی،اس میں حبش کا نگینہ تھا،آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے۔ (أخرجه مسلم :5487)

ششم: انگوٹھی میں نقش و نگار کرنا اپنا نام وغیرہ لکھنا جائز ہے...حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی،اس میں"محمد رسول اللہ" نقش کرایا اور لوگوں سے فرمایا؛" میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ہے اوراس میں"محمد رسول اللہ"نقش کرایا ہے ،سوکوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش کندہ نہ کرائے۔"(أخرجه مسلم :5478)
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ایسی انگوٹھی کے تعلق سے پوچھا گیا جس پر اللہ منقوش ہو کہ کیا ایسی انگوٹھی پہننا جائز ہے...؟ تو آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:"ایسی انگوٹھی جس پر لفظ "اللہ" منقوش ہے، اگر وہ اس وجہ سے ہے کہ انگوٹھی والا اس پر اپنا نقش کر رہا تھا اور اس کا نام عبد اللہ تھا چنانچہ اس پر لفظ "اللہ" نقش ہو گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول کی انگوٹھی پر "محمد رسول اللہ " لکھا ہوا تھا... اور اگر اس نے صرف اللہ لکھا تو واضح رہے کہ انگوٹھی پر یا کسی اور چیز پر فقط "اللہ" لکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے کیونکہ یہ کوئی مرکب مفید جملہ نہیں ہے اور عموما جو لوگ اس طور پر اسے لکھتے ہیں تو اس نام سے تبرک حاصل کرنے کی منشا رکھتے ہوئے لکھتے ہیں جبکہ شریعت میں اس طرح سے لفظ "اللہ" سے تبرک حاصل کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے چنانچہ ایسا کرنا بجائے جائز ہونے کے بدعت سے قریب تر ہے."(فتاویٰ نور علی الدرب لابن عثیمین ج:22/ص:2)

اخیر میں موضوع سے متعلق ایک فقہی قاعدہ ملاحظہ فرمائیں: "الأصل في التحلي أنه للنساء والأولى للرجال ترك التحلي خروجا من الخلاف وحذرا من فتنة التشبه بالنساء والعجب والتفاخر" زیورات میں اصل یہ ہے کہ وہ عورتوں کے لیے ہیں، اور مردوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ اختلاف سے دامن چراتے ہوئے اور عورتوں کی مشابہت نیز فخر و مباہات سے بچتے ہوئے زیورات پہننا چھوڑ دیں.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شرعی احکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
 
Top