ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: 10 ؍ جمادی الاولی؍ 1442 ھ مطابق 25؍ دسمبر؍ 2020 عیسوی۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بُعیجان حفظہ اللہ
موضوع: موسمِ سرما مومنوں کا بہار ہے۔
ترجمہ: نور عالم محمد ابراہیم سلفی

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، وہی دنوں ، مہینوں اور سالوں کو بدلنے والا ہے، ہر آن و ہرلمحہ اسی کے لیے دائمی وابدی تعریف ہے، ہم اپنے نفس کے شر سے، اور برے اعمال سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں،اللہ جسے ہدایت دے اُسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور وہ جسے گمراہ کردے اُسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں، اُنہوں نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کردی، امت کی بھر پور خیر خواہی کی، اور موت آنے تک اللہ کے راستے میں کما حقہ جہاد کیا۔
تاقیامت درود وسلام نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ کے آل واصحاب پر اور آپ کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والوں پر۔
اما بعد!
یقینا سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ، محمد بن عبد اللہ کا طریقہ ہے، سب سے بری بات دین کے اندر نئی بات ایجاد کرنا ہے، دین میں ہر نئی بات بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے،اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی نے انسان کو اپنی اطاعت کے لیے پیدا کیا تاکہ وہ اُس کی رضامندی سے سرفراز ہوسکے، اور اُسے اپنی نافرمانی سے روکا تاکہ اُس کی ناراضگی سے بچ سکے، لہذا جو شخص ذرہ برابر بھلائی کا کام کرے گا وہ اُسے دیکھ لے گا، اور جو شخص ذرہ برابر برائی کا کام کرے گا اُسے بھی دیکھ لے گا۔
اس لیے اللہ تعالی کے احکام میں اُس سے ڈرو، اور جس چیز سے اُس نے روکا ہے، اور جس کے ارتکاب پر وعید سنائی ہے اُس سے باز رہو۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوۡا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿آل عمران:۱۰۲﴾
” اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“
اےمسلمانو!
دنیا کبھی بھی ایک حالت میں باقی نہیں رہتی، اور اس کے احوال میں تبدیلی اُس کے زوال کا اعلان ہے، اُس میں موجود ہر چیز فنا ہونے والی ہے، صرف تمہارے عظمت والے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے۔
جب گرمی کا موسم ہوتا ہے اور شدید گرمی اور خشکی ہوتی ہے تو زمین قحط زدہ ہوجاتی ہے، چوپائے دبلے ہوجاتے ہیں، کنویں کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں، درخت سوکھ جاتے ہیں، پھول مرجھا جاتے ہیں، پھلوں میں کمی ہوجاتی ہے، اور جانوروں کے تھن خشک ہوجاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالی حالات میں تبدیلی لاتا ہے، اور اپنی رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری کے طور پر بھیجتا ہے، اور لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش نازل کرتا ہے، اور اپنی رحمت بکھیرتا ہے، بے شک وہی کارساز اور قابلِ تعریف ہے۔
پھر اللہ کے حکم سے زمین زندہ ہوکر خوشنما اور خوبصورت ہوجاتی ہے، زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے، اور زمین رنگ برنگے پھولوں سے بھرجاتی ہے۔ پاک ہے وہ ذات جو بادلوں کو بھیجتی ہے اور بیج اگاتی ہے، اور پاک ہے وہ ذات جو زمین کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
فَانْظُرۡ اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰهِ كَيۡفَ يُحۡىِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ‌ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ‌ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿الروم:۵۰﴾
”اللہ کی رحمت کے اثرات دیکھو کہ وہ مردہ زمین کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ یقیناً وہی مُردوں کو زندگی عطا کرنے والا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتاہے:
اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ لَـكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً‌ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِهٖ حَدَآٮِٕقَ ذَاتَ بَهۡجَةٍ‌ۚ مَّا كَانَ لَـكُمۡ اَنۡ تُـنۡۢبِتُوۡا شَجَرَهَاؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ﴿نمل:۶۰﴾
” بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا جس سے ہم نے پُر بہار باغات اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا رب بھی ہے؟ (جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو؟) اللہ کی ذات بلند ہے، اللہ کی ذات بلند ہے!
اللہ کے بندو!
بارش کے ذریعے مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنے میں وعظ ونصیحت ہے جوہمیں قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے، حشر ونشر اور لوگوں کے قبر سے نکلنے کی یاد دہانی کراتی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ‌ؕ اِنَّ الَّذِىۡۤ اَحۡيَاهَا لَمُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿فصلت:۳۹﴾
”اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین سونی (بے آباد) پڑی ہوئی ہے۔ پھر ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے اور پھول جاتی ہے۔ جس (اللہ) نے اس زمین کو زندہ کیا وہ یقیناً مُردوں کوبھی زندہ کرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَاللّٰهُ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَحۡيَيۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوۡرُ‏ ﴿فاطر:۹﴾
”اللہ ہی تو ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل اٹھا لاتی ہیں پھر ہم اس بادل کو کسی مردہ بستی کی طرف چلا کرلے جاتے ہیں اور اس زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندہ کردیتے ہیں۔ انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔“
اللہ کے بندو، جب تم موسمِ بہار کو دیکھو تو دوبارہ اٹھائے جانے کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تعالی نے جس طرح انسانوں کو زمین سے پیدا کیا اور جس طرح وہ زمین سے پودوں کو نکالتا ہے، اسی طرح مُردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا اور اُنہیں زمین سے نکالے گا ۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَاللّٰهُ اَنۡۢبَتَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًاۙ‏ ثُمَّ يُعِيۡدُكُمۡ فِيۡهَا وَيُخۡرِجُكُمۡ اِخۡرَاجًا‏ ﴿نوح:۱۸-۱۷﴾
”اور اللہ نے تمہیں زمین سے پودے کی طرح اُگایا ہے، پھر وہ تمہیں اسی میں لوٹا دے گا، اور دوبارہ تمہیں (اسی میں سے) نکالے گا۔
اے مسلمانو!
سردی کا موسم مومنوں کے لیے موسمِ بہار اور عبادت گزاروں کے لیے مالِ غنیمت ہے، جس میں وہ اطاعت کی چراگاہوں میں چرتے ہیں، عبادات کے میدانوں میں سرپٹ دوڑتے ہیں، تقربِ الہی کے باغات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، کیونکہ اس موسم میں تھکاوٹ اور پریشانی کم ہوجاتی ہے، پس نہ تو دن کا روزہ انہیں مشقت میں ڈالتا ہے، اور نہ رات میں قیام اللیل سے ان کی نیند میں کوئی کمی ہوتی ہے۔
عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔“ (اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور البانی نے حسن کہا ہے)۔
اسی طرح جن چیزوں کی وجہ سے اللہ تعالی درجات بلند فرماتا ہے، گناہوں اور خطاؤں کو مٹاتا ہے، ان میں طہارت میں پہل کرنا بھی شامل ہے، جو کہ عبادتوں کے لیے شرط، نصف ایمان، اور اسلام کے اہم ترین رکن نماز کی شرط ہے، چنانچہ سردی کے موسم میں تکلیف برداشت کرتے ہوئے پانی استعمال کرکے اللہ کی بندگی بجالانا گناہوں کے کفارہ کا ذریعہ ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتلاؤں جو گناہوں کو مٹادیتی ہے، اور اُس سے درجات بلند ہوتے ہیں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ناپسندیدگی کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ سے زیادہ پیدل چل کر مسجد جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، پس یہی سرحد کی نگرانی ہے۔“ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔
اللہ کے بندو!
کمزوروں کی خبر گیری کرو، موسمِ سرما کی ٹھنڈک میں ان کی مدد کرو، اُن کے کھانے، کپڑے اور ڈھانپنے کا انتظام کرو، اور روزِ قیامت ان اعمال پر اللہ سے نیکی کی امید رکھو، کیونکہ صدقہ مصیبتوں کو ٹالتا ہے، اور بھلائی کے کام برے انجام سے محفوظ رکھتے ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
”اور تم جو بھی کوئی اچھی چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ کروگے، تو اُس کا فائدہ خود تمہیں ہی پہنچے گا، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو، صرف اللہ کی رضا کے لیے کرو، اور تم جو بھی کوئی اچھی چیز (اللہ کی راہ میں ) کرچ کروگے اُ س کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ (البقرہ: 271)۔
اللہ تعالی قرآنِ مجید کو ہمارے اور آپ کے لیے بابرکت بنائے، اُس کی ایتوں اور حکیمانہ نصیحتوں کو ہمارے اور آپ کے لیے مفید بنائے۔
میں نے کہا اور آپ نے سنا، میں اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، یقینا وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس کا کلمہ نافذ ہے، جس کی رحمت عام ہے، بجلی کی کڑک اور فرشتے جس کے خوف سے اُس کی حمد وثنا میں لگے رہتے ہیں، درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ ، ان کے آل اصحاب اور اُن کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں پر!
اللہ کے بندو!
شریعت کی نرمی اور حکمت کا تقاضہ ہے کہ اسلام آسانی اور نرمی کا دین ہے، جو مشقت اور نقصان کے احتمال کے وقت انسان کے لیے تخفیف کردیتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
”اور تمہارے لیے دینِ اسلام میں کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔“ (الحج: 77)۔
غرضیکہ مشقت آسانی کا باعث ہے۔
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتاہے:
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴿البقرہ:۹﴾
”اللہ کسی آدمی کو اُس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔“
یہی وجہ ہے کہ مذہبِ اسلام نے تنگی، مشقت اور ضرورت کے وقت رخصت کو مشروع کیا ہے، اور اُسی رخصت میں سے یہ بھی ہے کہ جب زخمی اور بیمار آدمی کو پانی استعمال کرنے کی صور ت میں اپنے نفس پر خطرہ ہو تو اس کے لیے مٹی سے تیمم کرنا، اورزخم پر لگی پٹی پر مسح کرنا مشروع ہے، اسی طرح چمڑے کے موزوں اور عام موزوں پر مسح کرنا بھی مشروع ہے۔
جیساکہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر کے لیے نکلے، تو ایک آدمی کا سر پتھر سے زخمی ہوگیا، پھر اُس شخص کو احتلام ہوگیا، تو اُس نے اپنے ساتھیوں سے مسئلہ پوچھا کہ کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کرنے کی کوئی رخصت پاتے ہو، تو ان لوگوں نے جواب دیا: پانی موجود ہونے کی صورت میں ہمیں تمہارے لیے تیمم کی رخصت نظر نہیں آتی، چنانچہ اُس شخص نے غسل کرلیا، جس کی وجہ سے اُس کی موت ہوگئی۔ پھر جب ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ کو اس معاملے کی خبر دی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اُن لوگوں نے اُسے قتل کردیا ، اللہ اُنہیں غارت کرے، جب اُنہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہیں، یقینا لاعلمی کی شفا سوال کرنے میں ہے۔ اُس شخص کے لیے صرف تیمم ہی کافی تھا، اور اپنے زخم پر کپڑے سے پٹی باندھ لیتا، پھر اُس پر مسح کرلیتا، اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔“ (اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے)۔
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کے دوران ایک سرد رات میں مجھے احتلام ہوگیا، اور مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ اگر میں غسل کروں تو مرجاؤں گا، لہذا میں نے تیمم کرلیا، پھر میں نے اپنے دوستوں کو فجر کی نماز پڑھائی، پھر اُن لوگوں نے نبی ﷺ سے اِس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا تم نے حالتِ جنابت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا ہے؟ “ تو میں نے وہ وجہ بیان کی جس کی وجہ سے میں غسل کرنے سے باز رہا، اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہے : وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا‏ ﴿النساء:۲۹﴾ ”اور تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، اللہ تم پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔“ یہ سن کر نبی ﷺ ہنس پڑے اور کچھ بھی نہیں کہا۔ (اسے ابوداؤد اور احمدنے روایت کیاہے، اور الفاظ اسی کے ہیں)۔
اے مسلمانو!
چھٹی اور فرصت کے ایام آرام وراحت اور لطف اندوزی کے دن ہوتے ہیں، اور بہت سے لوگ ان ایام میں سیر وتفریح کے لیے نکلتے ہیں، اور اِس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، بشرطیکہ ایسا کرتے ہوئے بےجا وقت کی بربادی نہ ہو ، نہ لہو ولعب اور مباح چیزوں میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے، اور نہ ہی خود کو گناہ ونافرمانی کے کاموں میں بے لگام چھوڑا جائے۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ سیر وتفریح کرتے ہوئے امن وسلامتی کے اسباب لازمی طور پر اختیار کریں، لوگوں کو تکلیف پہنچانے یا اُنہیں پریشان کرنے سے گریز کریں، اُن کی محرمات سے اپنی نگاہوں کو پست رکھیں، ان کی پرائیویسی میں دخل اندازی نہ کریں، ان کے راستوں اور گزرگاہوں میں نہ کھڑے ہوں، مفادِ عامہ کی چیزوں کو نقصان نہ پہنچائیں، ماحول کو پراگندہ کرنے سےگریز کریں، کوڑا کرکٹ، بچی ہوئی چیزوں اور گندگیوں کو کوڑے دان کے علاوہ ادھر اُدھر نہ ڈالیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لعنت کو واجب کرنے والی دو چیزوں سے بچو“ صحابہ کرام نے عرض کیا: لعنت کو واجب کرنے والی دو چیزیں کیا ہیں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا شخص جو لوگوں کے راستے میں یا اُن کے سایے کی جگہ میں پاخانہ کرے۔“ (اسے مسلم نے روایت کیاہے)۔
اللہ کے بندو!
اللہ کی نعمتوں اور احسانات پر اُس کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں مزید عطا کرے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَٮِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴿ابراہیم:۷﴾ ”اور جب تمہارے رب نے یہ خبر دی کہ اگر تم شکر ادا کروگے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔“ اور اُس کے فضل وکرم اور جود وسخا پر اُس کی حمد بجا لاؤ تو وہ تم پر رحم کرے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ ﴿۱۰﴾ يُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًاۙ ﴿۱۱﴾ وَّيُمۡدِدۡكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ وَيَجۡعَل لَّـكُمۡ جَنّٰتٍ وَّيَجۡعَل لَّـكُمۡ اَنۡهٰرًاؕ‏ ﴿۱۲﴾ (نوح-10-11-12)۔ ”تم سب اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، وہ بے شک بڑا مغفرت کرنے والا ہے، وہ آسمان سے تمہارے لیے موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ اور تمہیں مال ودولت اور لڑکوں سے نوازے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہارے لیے نہریں نکالے گا۔“
اے اللہ یقینا ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، کیونکہ تو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
اے اللہ یقینا ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، کیونکہ تو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ پس تو ہم پر آسمان کے دہانے کھول دے۔
اے اللہ! بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو بے نیاز ہے، اور ہم محتاج ہیں، تو بے نیاز ہے، اور ہم محتاج ہیں، تو ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں محروموں میں سے نہ بنا۔
اے اللہ تو بارش نازل فرما، اےاللہ تو بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہم پر خوش گوار، موسلا دھار ، نفع بخش اور غیر نقصان دہ بارش نازل فرما،
اے اللہ! تو بارش نازل کرکے مردہ زمینوں کو زندگی بخش دے، اور اپنی رحمت سے اسے تمام شہروں اور دیہاتوں تک پہنچا دے، اے اللہ تو ہم پر رحمت والی بارش نازل فرما، نہ کہ عذاب،مصیبت اور آزمائش والی بارش نازل فرما، اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اے اللہ تو اپنے بندوں، اور اپنے چوپایوں کے لیے بارش نازل فرما، اور مردہ زمین پر اپنی رحمت پھیلا دے، اور ہمارے لیے کھیتیاں اُگا، اے اللہ تو ہمارے لیے کھیتیاں اُگا، اور چوپایوں کے تھنوں میں دودھ ڈال دے، اور تو جو کچھ ہم پر نازل فرما اُسے ہماری قوت کا ذریعہ بنا۔اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ! ہم تیری مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں، لہذا ہماری گناہوں کی وجہ سے ہم پر اپنا فضل نہ روک۔
اے اللہ ! تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
اے اللہ! تو ہمارے بادشاہ خادم ِحرمین شریفین کو خیر کے کاموں کی توفیق عطا فرما، اور تو اُن کی مدد فرما۔
اے اللہ! تو اُنہیں اور اُن کے ولی عہد کو اپنی پسند اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطافرما، اے دعاؤں کے سننے والے!
اے اللہ، اے دلوں کے بدلنے والے! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر جمادے،اے دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
اللہ کے بندو! اُس ذات پر درود وسلام بھیجو، جس پر درود وسلام بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
”یقینا اللہ تعالی اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں، اے ایمان والو، تم بھی اُن پر درود وسلام بھیجا کرو۔
اے اللہ تو محمد اور آل محمد پر درود وسلام نازل فرما، جیسا کہ تونے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر درود وسلام نازل فرمایا، یقینا تو قابل تعریف اور بزرگ ہے، اے اللہ تو محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمایا، یقینا تو قابلِ تعریف اور بزرگ ہے۔
اے تو خلفائے راشدین، ابو بکر وعمر، عثمان وعلی اور تمام صحابہ کرام سے، ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والوں سے اور ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا، اے ارحم الراحمین۔
 
Top