اسلامی بھائیو!
حق تعالی نے ارشاد فرمایا :
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ اٰدَمَ وَحَـمَلْنَاهُـمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُـمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُـمْ عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (70)
اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی و دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں پاک چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی۔
انسان کو اللہ رب العالمین نے عقل کے ذریعہ تمام مخلوقات میں برتر بنایا، اور تمام تر شریعتیں اسی پر نازل فرمائیں، تاکہ وہ عقل کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کرسکے، اور پریشانیوں و بلاؤں سے بھی محفوظ رہ سکے، اور اسی کے ذریعہ سے اللہ نے انسان کی تکریم کی۔
اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ عقل ہی انسانیت کی بنیاد ہے، عقل ہی کامیابی و کامرانی کا سبب ہے۔ اور عقل کے بغیر شریعت کے احکام کا بھی انسان مکلف نہیں ہے۔
عقل کے ذریعہ ہی انسان اپنی جان و مال کا بہتر تصرف کر سکتا ہے ۔
اور عقل کا بیکار استعمال دین کے اندر بڑے جرائم کو جنم دیتا ہے، اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے ۔
اللہ کے بندو! نشہ آور چیزیں عقل کے اندر فساد اور بگاڑ پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں، اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ کے اندر ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِـرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ( المائدہ۔ 90)
اے ایمان والو! شراب اور جوا و بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز خمر ہے، ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
اسی طرح سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ام الخبائث کہا، اللہ نے اپنے بندوں پر ہر خبیث اور گندی چیز کو حرام قرار دیا ہے، پاکیزہ چیزوں کو حلال کیا ہے ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے :
یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡھمُ الخبائث کہ لوگوں کے لئے پاکیزہ چیزیں اللہ تعالیٰ حلال کرتا ہے، اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے ۔ لھذا مخدرات اور نشہ آور چیزیں حرام ہیں اور خالق کائنات نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔
اللہ تعالی کو اس کے شدید نقصانات اس کے خطرناکیوں کی تمام شکلوں کا اچھی طرح سے علم ہے ۔
عقل ہی کے ذریعے سے انسان کی صحت، خاندانی امن و امان، جان و مال اور ایمان کی حفاظت ممکن ہے ۔
ظاہر سی بات ہے جب عقل ہی خراب ہو جائے گی، تو اس کی صحت ، اس کا گھریلو، سماجی معاشرتی، سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا، اور ہر جگہ سے سکون چھن جائے گا ۔
اس لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو بیدار کیا جائے،اس کی خطرناک کیوں سے آگاہ کیا جائے،اور نسلوں کو بچایا جائے ۔
مسلمانو! ایمان کے اندر کمزوری پیدا کرنے والے اسباب میں سے ایک اہم سبب ان نشہ آور چیزوں کا استعمال ہے، وہ نشے کی حالت میں رب کو بھلا بیٹھتے ہیں، مسجدوں سے دور ہو جاتے ہیں،لھذا نماز کو چھوڑنے والوں میں اکثر پائیں گے کہ وہ منشیات میں مبتلا ہوتے ہیں، والدین کے نافرمان ہوتے ہیں، اور رشتہ داریوں کو بھی توڑنے کا سبب بنتے ہیں ۔
٢- منشیات یہ خاندانی تربیت میں بھی کمزوری سبب ہے، والدین سے دوری، اولاد سے بے توجہی، ان کیلئے اچھی چیزوں کی ہدایت اور بہترین تربیت کے لئے وقت نہ نکال پانا، ان کے ساتھ سختی برتنا، یہ ساری کمزوریاں ایک نشہ آور چیزوں کے استعمال کرنے والے کے اندر پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے پورا خاندانی نظام بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے ۔
٣ - اسی طرح سے نشہ آور چیزوں کے حرام ہونے کا تیسرا سبب یہ ہے، اس کے ذریعہ سے برے دوستوں کی صحبت حاصل ہوتی ہے، ان کا مددگار ہوتا ہے، حتی کی تعلیمی اوقات میں بھی وہ ان چیزوں میں ملوث رہتے ہیں، اور ان کا قیمتی وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
اور گلی کوچوں میں یہ بد اخلاقیات کو رواج دیتے پھرتے ہیں ۔
۴- اس کی حرمت کا چوتھا سبب یہ ہے کہ تجربہ اور ریسرچ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ %99 بیماریاں سگریٹ اور دیگر نشہ آور چیزوں سے ہی شروع ہوتی ہیں ۔
مسلمانو! اللہ پر ایمان، آخرت پر ایمان، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، نفس کے اندر ایک ٹہنی کی طرح ہے، اس کی درستگی، اس کی اصلاح و حفاظت اور ہر طرح کے فساد وبگاڑ اور خطرناکیوں سے بچانا ہر مسلمان پر واجب اور ضروری ہے۔
اور اسی ایمانی ٹہنی کے ذریعہ سے انسان اپنے سماج، اپنے معاشرے، اپنے خاندان، اپنے رشتہ داریوں دوست و احباب سب کو فرحت و مسرت، کار آمد و مفید تربیت اور بہترین اصلاح کرسکتا ہے، اور ان کیلئے سایہ عاطفت بن کر ان کے کام آتا ہے، ورنہ اس کے بغیر ناممکن ہے۔
لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم ہر نشہ آور چیز سے خود بھی دور رہیں، خاندان، رشتہ دار، سماج و معاشرے کو بھی اس سے دور رہنے کی ہدایت اور نصیحت کرتے رہیں، اور لوگوں کو اس سے بچائیں، تاکہ کہ ایک خوشگوار معاشرہ، اور خوشحال سماج بنے، اور دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی حاصل ہو سکے ۔
اللہ تعالی ہم سب کو ان بد اخلاقیوں سے بچنے۔ لوگوں کو بھی اس سے بچانے کی ہمیں توفیق بخشے۔ آمین
صفی الرحمن ابن مسلم بندوی فیضی
جامع عمار بن یاسر۔ الجبیل۔ سعودی عرب
 
Top