قارئین کرام : اس سے متعلق ہم تین مسائل پر تفصیلی گفتگو کرنے کی کوشش کریں گے ۔

پہلا مسئلہ :

سلف کے نزدیک اعتقادِ قلبی دو ارکان کو متضمن ہے ۔

پہلا رکن : معرفت، علم اور تصدیق ۔
اس پر قولِ قلب (یعنی دل کے قول) اور تصدیق قلب کا بھی اطلاق ہوتا ہے ۔

لھذا کوئی شخص قطعا یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایمان کے لئے علم، معرفت اور تصدیق کی ضرورت نہیں ہے، جیسا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " من جحد المعرفة والتصديق فقد قال قولاً عظيماً، فإن فساد هذا القول معلوم من دين الإسلام ". (الإيمان لابن تيمية ، ص: 376 - 377).
" جس نے معرفت اور تصدیق کا انکار کیا تو گویا اس نے ایک بڑی بات کہہ دی، کیونکہ دین اسلام میں اس قول کا فاسد ہونا معلوم شدہ ہے ".
چنانچہ اللہ رب العزت فرماتا ہے : فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ". ( محمد : 19)۔
" جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ".
جبکہ دوسرے مقام پر فرماتا ہے : " إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ یَعۡلَمُونَ ". ( الزخرف : 86).
" سوائے ان کے جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو ۔

" بِٱلۡحَقِّ " سے مراد " لا إله إلا الله " ہے جبکہ " وَهُمۡ یَعۡلَمُونَ " سے مراد یہ ہے کہ جو وہ اپنی زبان سے کہہ رہے ہیں اس کا معنی و مفہوم بھی جانتے ہوں ". ( معارج القبول : 1/308).
جبکہ امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " حق کی شہادت سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کی توحید کا اقرار کرے ، اور " وَهُمۡ یَعۡلَمُونَ " کا مطلب یہ کہ اس کی حقیقت کو بھی جانے " ۔ ( تفسیر طبری : 21/655).
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى ٱللَّهِ وَكَذَّبَ بِٱلصِّدۡقِ إِذۡ جَاۤءَهُۥۤۚ أَلَیۡسَ فِی جَهَنَّمَ مَثۡوࣰى لِّلۡكَـٰفِرِینَ . وَٱلَّذِی جَاۤءَ بِٱلصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهِۦۤ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ . لَهُم مَّا یَشَاۤءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَ ٰ⁠لِكَ جَزَاۤءُ ٱلۡمُحۡسِنِینَ ".(الزمر : 32-34).
" اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالٰی پر جھوٹ بولے؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے؟ ، کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟ اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ متقی ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس ( ہر ) وہ چیز ہے جو یہ چاہیں ، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے ۔

دوسرا رکن : التزام، انقیاد، تسلیم اور خضوع ہے ۔
اسے عملِ قلب (یعنی دل کا عمل) کہا جاتا ہے ۔ جیسے اللہ سے محبت،اس کی تعظیم ،اس پر توکل اور اس سے خوف وامید وغیرہ ۔
چنانچہ اللہ رب العزت فرماتا ہے : " وَكَذَ ٰ⁠لِكَ نُرِیۤ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلِیَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِینَ ". (الأنعام :75).
" اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔

دل کے اعتقاد کے لئے ان دونوں ارکان کا پایا جانا ضروری ہے ۔
چنانچہ اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتا ہے مگر ان سے محبت، ان کی تعظیم اور ان کی فرمانبرداری نہیں کرتا تو وہ قطعی طور پر صاحب ایمان نہیں ہے ". (الإيمان لابن تيمية ، ص: 381).
کیونکہ مجرد تصدیق تو ابلیس ،فرعون ،یہود اور مشرکین
کرتے تھے ۔

نوٹ :

بسا اوقات دل کے اندر شبہات اور شہوات جیسی خطرناک بیماریاں جنم لے لیتی ہیں جن کی وجہ سے دل کا اعتقاد کمزور پڑ جاتا ہے ۔
چنانچہ شبہات "حق" کی تصدیق میں اور شہوات " حق کی اتباع " رکاوٹ بنتے ہیں ۔
جیسے " نصاری " شہوات میں پڑ کر اتباع رسول سے کوسوں دور نکل گئے اور عبادت کا خود ساختہ طریقہ ایجاد کرلیا ۔
جبکہ " یہود " شبہاب " کی لپیٹ میں آکر حق کو جاننے کے باوجود حسد اور تکبر کی وجہ سے اس کے پیروکار نہیں بن سکے ۔
اسے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " الْيَهُودُ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ، وَالنَّصَارَى ضُلَّالٌ ".(سنن الترمذي | أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ | بَابٌ : وَمِنْ سُورَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ : 2954).
" یہود پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں " ۔

کیونکہ یہود کے پاس حق کی معرفت تھی لیکن ارادہ درست نہیں تھا جبکہ نصاری کا ارادہ تو نیک تھا مگر علم ومعرفت سے نابلد تھے ؛ لھذا نہ یہود کا مجرد علم نفع بخش رہا اور نہ نصاری کا نیک مقصد سود مند رہا، بلکہ دونوں خسارے میں رہے ".

مذکورہ دونوں ارکان میں سب سے اہم قضیہ خضوع، انقیاد اور تسلیم کا ہے نہ کی تصدیق اور معرفت کا۔
جیسا کہ اللہ فرماتا ہے : " فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّهِ يَجْحَدُونَ ". (الأنعام: 33).
" سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔
مزید فرماتا ہے : " بَلْ جَاءهُم بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ ". (المؤمنون : 70) .
" بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لایا ہے ،( لیکن )ان میں اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں ۔

دوسرے رکن یعنی :التزام، انقیاد اور تسلیم پر توجہ نہ دینے سے درج ذیل تین نقصانات ہوتے ہیں :

1 - عمل قلب کی قیمت اور اہمیت ختم ہو جاتی ہے جبکہ وہ ایک رکن ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ۔
2 - اُس میزان میں خلل پیدا ہو جاتا ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنے آپ کو، اپنے رب، اپنے دین اور اپنے رسول کے تئیں تول سکتا ہے ۔
کیونکہ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتا ہے، پھر اسی خوش فہمی میں دھیرے دھیرے اللہ اور اس کے رسول کی واجبی محبت، ان کی تعظیم اور ان کے احکام کی بجاآوری سے دور ہوجاتا ہے پھر دل میں اغیار کی محبت، ان کی تعظیم اور ان کی فرمانبرداری کا جزبہ پیدا ہونے کے ساتھ نفاق کی بھی پرورش ہونے لگتی ہے اور آگے چل کر ان کی حالت بالکل اسی طرح ہو جاتی ہے جس طرح اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے کہ : هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَانِ ". (آل عمران : 167).
" وہ بہ نسبت ایمان کے کُفر سے بہت قریب گئے ہیں ".
3 - وہ سمجھتا ہے کہ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو مؤمن سمجھتا ہے چاہے فسق وفجور کا ارتکاب کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کے دین کا مزاق بھی اڑاتا ہو ۔

دوسرا مسئلہ :

دل ہی ایمان کی اصل جگہ ہے اور دل کا ایمان ہی اس کا سب سے اہم جزء ہے ۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اصل ایمان وہ ہے جو دل میں ہو ۔ اور اس میں دو چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے۔
*1 - قلبی تصدیق اور اس کا اقرار ومعرفت ۔*
اسی لئے اسے دل کا قول کہا جاتا ہے ۔
جنید بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: توحید دل کا قول ہے اور توکل دل کا عمل، لھذا اس میں دل کے قول و عمل کے ساتھ اعضاء جسمانی کے قول و عمل کا پایا جانا بھی ضروری ہے ۔
2 - دل کا عمل ۔
جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اللہ کی خشیت ، اللہ اور اس کے رسول کے پسندیدہ چیزوں سے محبت ، اور ان کی ناپسندیدہ چیزوں سے نفرت ، تنہا ذات باری تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، دل کا اللہ وحدہ لاشریک پر بھروسہ کرنا وغیرہ۔

چنانچہ قرآن مقدس میں رب العزت نے کئی مقامات پر دل کو ایمان کا منبع، مصدر اور مرجع قرار دیا ہے ۔

1 - " أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الإيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ ". ( المجادلة:22 )۔
" یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالٰی نے ایمان کو لکھ دیا ہے ".

2 - " وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الإيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ ". ( الحجرات:7 ) ۔
" لیکن اللہ تعالٰی نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنادیا ہے اور تمہارے دلوں میں اسے مزین کر دیا ہے ".

3 - قَالَتِ ٱلۡأَعۡرَابُ ءَامَنَّاۖ قُل لَّمۡ تُؤۡمِنُوا۟ وَلَـٰكِن قُولُوۤا۟ أَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا یَدۡخُلِ ٱلۡإِیمَـٰنُ فِی قُلُوبِكُمْ ". (الحجرات : 14).
" اعرابی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ۔ آپ کہہ دو کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ،حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا ".

جبکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ".(سنن الترمذي | أَبْوَابُ الْقَدَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيِ الرَّحْمَنِ : 2140).
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے " اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ".

ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ دل ہی اصل ہے اور دل کا ایمان ہی اس (ایمان) کا اساسی جزء ہے جس پر دیگر ظاہری اجزاء قائم ہیں ۔
اسی بنا پر منافق کو کبھی مؤمن نہیں کہا جا سکتا اگرچہ اس کے جہاد اور صلاۃ جیسے ظاہری اعمال بکثرت ہوں، کیونکہ اس کے دل میں ایمان نہیں ہوتا ۔

تیسرا مسئلہ :

قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سارے " اعمال قلوب " اور ان کے متعلقات کا تذکرہ کیا ہے جن میں سے بعض پسندیدہ اور مطلوب " اعمال " درج ذیل ہیں :

1 - وجل یعنی : ڈر -

" إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ". (الأنفال:2)
" بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالٰی کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں ".

2 - اخبات یعنی : جھکنا ۔
" وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ". (الحج : 54 )۔
" اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وہ یقین کرلیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں ".

3 - انابت یعنی : متوجہ ہونا ۔

" مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ ". (ق : 33 ).
" جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو ".

4 - طمانيت -
" اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰهِ ؕأَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ". ( الرعد: 28 ).
" جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے ۔

5 - تقوى ۔
" ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ". (الحج: 32 )۔
" یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے ۔

6 - انشراح -
" فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ " ( الأنعام : 125).
" سو جس شخص کو اللہ تعالٰی راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ کر دیتا ہے ۔

7 - سكينت ۔
" هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ". (الفتح: 4).
" وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون ( اور اطمینان) ڈال دیا ۔

8 - نرم ہونا ۔
" ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ".(الزمر: 23)۔
" پھر ان کے جسم اور دل اللہ تعالٰی کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں ۔

9 - خشوع اختیار کرنا ۔
" أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ ". (الحديد: 16) ۔
" کیا اب تک ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے نرم ہوجائیں ۔

10- طهارت اور پاکی ۔
" ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ". (الأحزاب: 53 ).
" تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے کامل پاکیزگی یہی ہے ۔

11- ہدايت یافتہ ہونا ۔
" وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ". (التغابن : 11)۔
" جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے ۔

12- عقل وسمجھ ۔
" أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا ". (الحج : 46).
" کیا انہوں نے زمین میں سیر وسیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے ۔

13- تدبر وتفکر ۔
" أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ". (محمد : 24 ).
" کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا پر ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ".

14- فقہ وفہم ۔
" لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا ". (الأعراف : 179).
" ان کے دل ایسے ہیں جن سے سمجھتے نہیں ۔

15- ايمان لانا ۔

" مِنَ الَّذِينَ قَالُواْ آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ". (المائدة : 41 ).
" ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعوی کرتے ہیں لیکن حقیقتاً ان کے دل با ایمان نہیں ہیں ۔

16- کینہ اور دشمنی سے دوری ۔
" وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا ".(الحشر : 10).
" اور ایمانداروں کے تعلق سے ہمارے دل میں کینہ ( اور دشمنی) نہ ڈال ۔

ان کے علاوہ اخلاص، توکل، محبت، خوف وخشیت، امید، تسلیم ورضا، شکر گزاری، صبر وتحمل اور ورع جیسے بہت سارے " اعمال قلوب " ایسے ہیں جو بالکل معلوم شدہ ہیں، لھذا ان کو بیان کرنے کی حاجت اور ضرورت نہیں ہے ۔

جبکہ بعض ناپسندیدہ اور مبغوض " اعمال " کا بھی تذکرہ موجود ہے ،جیسے :

1- انکار ۔
" فَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ ".( النحل: 22 )۔
" اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منکر ہیں اور وہ خود تکبر سے بھرے ہوئے ہیں ۔

2 - کبر وغرور ۔
" إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ ".(غافر: 56 ).
" ان کے دلوں میں بجز نری بڑائی کے اور کچھ نہیں وہ اس تک پہنچنے والے ہی نہیں ۔

3 - غافل ہونا ۔
" مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مَّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ . لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ". (الأنبياء: 2 - 3 ).
" ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے اسے وہ کھیل کود میں ہی سنتے ہیں ، اور ان کے دل بالکل ہی غافل ہیں ".

4 - نفرت کرنا ۔
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ". (الزمر : 45 ).
" جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا ( اور کا ) ذکرکیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں ۔


5 - کجی اختیار کرنا ۔
" فَأَمَّا الَّذِينَ في قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ". ( آل عمران : 7)۔
" پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔

6 - اندھا ہونا ۔
" فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ ". (الحج: 46).
" بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔

7 - مرض کا شکار ہونا ۔
" فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّهُ مَرَضاً ".(البقرة:10)۔
" ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالٰی نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا ۔

8 - سخت ہونا ۔
" ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ". (البقرة: 74).
" پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ۔

9 - غفلت میں پڑنا ۔
" بَلْ قُلُوبُهُمْ فِي غَمْرَةٍ مِّنْ هَذَا ".(المؤمنون: 63 ).
" بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں ۔

10 - زنگ آلود ہونا ۔
" كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ". (المطففين:14)۔
"یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے ۔

11 - حق اور اہل حق سے عداوت کرنا ۔
" قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ". (آل عمران: 118).
" ان کی عداوت تو خود ان کی زبان سے بھی ظاہر ہوچکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ قلبی اعتقاد میں "تصدیقِ قلب" کے ساتھ "عملِ قلب" بھی داخل ہے، لھذا اگر تصدیق قلب زائل ہو جائے تو بقیہ اجزاء سود مند نہیں ہوں گے ۔اس لئے کہ تصدیق قلب شرط ہے ۔
اور اگر عمل قلب زائل ہو جائے تو اس میں مرجئہ اور سلف کے درمیان اختلاف ہے ۔
لیکن سلف اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے شخص کا ایمان زائل ہو جائے گا ۔
اور عمل قلب یعنی : محبت اور انقیاد نہ ہو تو تصدیق کچھ فائدہ نہیں دے گا ۔جیسا کہ ابلیس، فرعون قوم یہود اور مشرکین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعتقاد رکھتے تھے بلکہ اس کا اعلان بھی کرتے تھے ". ( الصلاة وحكم تاركها لابن قيم : 54).
 
Top